Updated: March 30, 2026, 7:06 PM IST
| New Delhi
’آلٹ نیوز‘ کے شریک بانی زبیر نے بتایا کہ وزارت کا یہ حکم رام نومی کے جلوسوں کے دوران ہندوتوا گروپوں کی جانب سے مبینہ تشدد کی ویڈیوز والی پوسٹس سے متعلق ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اب ”جعلی پروپیگنڈا اور جھوٹے بیانیہ“ کو بے نقاب کرنے پر بھی پابندی لگائی جا رہی ہے؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ ۲۰۰۰ء کی دفعہ ۶۹۔اے کے تحت وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے جاری کردہ حکمنامہ کے بعد، صحافی اور فیکٹ چیکر محمد زبیر کی رام نومی کے دوران ہندوتوا تشدد فیکٹ چیک کرنے والے محمد زبیر کی پوسٹس کو بلاک کردیا ہے۔
’آلٹ نیوز‘ کے شریک بانی زبیر نے بتایا کہ انہیں ایکس کی جانب سے موصول ہوئے ایک ای میل میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی وزارت کا یہ حکم ان پوسٹس سے متعلق ہے جن میں رام نومی کے جلوسوں کے دوران ہندوتوا گروپس کی جانب سے مبینہ تشدد کی ویڈیوز دکھائی گئی تھیں۔ پلیٹ فارم نے واضح کیا کہ وہ قانونی طور پر ہندوستان کے اندر مخصوص مواد تک رسائی کو محدود کرنے کا پابند ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کمال مولا مسجد معاملہ :ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں مسلم فریق نے چیلنج کیا
اس ای میل کو ایکس پر عوامی طور پر شیئر کرتے ہوئے زبیر نے سوال اٹھایا کہ کیا اب ”جعلی پروپیگنڈا اور جھوٹے بیانیہ“ کو بے نقاب کرنے پر بھی پابندی لگائی جا رہی ہے؟ ایکس کا کہنا ہے کہ وہ قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کرسکتا، لیکن اس نے بتایا کہ اس حکم کو عدالت کے ذریعے یا وزارت سے رابطہ کرکے اس کارروائی کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
یہ کارروائی حکومت کی جانب سے مواد ہٹانے کے بڑھتے ہوئے احکامات کے درمیان سامنے آئی ہے۔ وزارتِ داخلہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، حکام نے یہ اختیارات حاصل کرنے کے بعد، قابل اعتراض پوسٹس کو بلاک کرنے کیلئے صرف ایک سال کے اندر روزانہ اوسطاً ۲۹۰ نوٹس جاری کئے۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی یونیورسٹی: آرایس ایس کی تقریب کے انعقاد پر طلبہ و اساتذہ کا احتجاج
سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ۳۱ مارچ ۲۰۲۵ء تک آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ ۷۹(۳)(ب) کے تحت آن لائن مواد کے ۱۱ء۱ لاکھ سے زائد پوسٹس بلاک کئے جاچکے ہیں۔ اس شق کے تحت پلیٹ فارمز کیلئے لازمی ہے کہ وہ نشان زدہ مواد کو ہٹائیں، بصورتِ دیگر وہ ملک میں قانونی تحفظ سے محروم ہوسکتے ہیں۔ ایسی کارروائیوں کی نگرانی کیلئے مارچ ۲۰۲۴ء میں انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر قائم کیا گیا تھا، جس کے تحت پلیٹ فارمز کیلئے حکم ملنے کے تین گھنٹے کے اندر کارروائی کرنا لازمی ہے۔