Inquilab Logo Happiest Places to Work

دیونا رمنڈی میں بکروں کی آمد میں کمی، داموں میں  اضافہ

Updated: May 23, 2026, 3:34 PM IST | Saadat Khan | Deonar

تاجروں اوراسوسی ایشن کے ذمہ داران نےاس کی۶؍ اہم وجوہات بتائیں۔ حکومت سے فوری توجہ دینے کا مطالبہ تاکہ رکاوٹیں دور ہوں اورعیدقرباں کاتہوار آسانی سے منایا جاسکے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

دیونار میں بکروں کی آمد میں کمی۔ تاجروں اور اسوسی ایشن کے ذمہ داران نے اس کی ۵؍ وجوہات بتائی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عید الاضحی میں محض ۵؍ دن باقی ہیں مگر جس کثرت سے دیونارمنڈی میں بکرے لائے جانے چاہئے تھے وہ تیزی نظر نہیں آرہی ہے۔ اس کا اعتراف دیونار انتظامیہ نے بھی کیا ہے۔ تاجروں میں مایوسی ہے اور جانور کم آنے کے سبب دام میں اضافے کی وجہ سےگاہکوں کو پسند کا جانور ملنا دشوار ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے : ۲۱؍ سالہ عامر خان کو اسٹارٹ اَپ ایپ کیلئے سرکاری اعزاز سے نوازا گیا

۶؍وجوہات کیا ہیں 

آل انڈیا شیپ اینڈ گوٹس بریڈرس اینڈ ڈیلرس ایسوسی ایشن کے صدر اسلم قریشی نے نمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے بتایاکہ موجودہ حالات کے سبب تاجربہت پریشان ہیں۔ انہوں نےمنڈی میں کم جانور لائےجانے اور تاجروں کی پریشانی کے ۵؍ اسباب بتائے۔ 

(۱) مہاراشٹر اور گجرات میں بکروں کی گاڑیاں پکڑی گئی ہیں اور اب بھی یہ سلسلہ رک نہیں رہا ہے۔ تاجر خوفزدہ ہیں 

 (۲) ایک گاڑی میں قربانی کے۴۰؍تا ۵۰؍ پچاس لاکھ روپے کے بکرے ہوتے ہیں، پکڑے جانے پر تاجروں کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ انکی سال بھرکی کمائی اورلاگت سب ڈوب جاتی ہے 

(۳) مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ۔ پہلے جانوروں کے لئے دانا جو ۲۰؍ ۲۲؍روپے کلوملتا تھا اب وہ ۳۵؍ روپے تک ہوگیا ہے، ہری پتیاں اورگھاس وغیرہ جو پہلے ۱۵؍۱۶؍ روپے بنڈل یا کلو کے حساب سے مل جاتی تھی اب وہ ۲۵؍روپے سے زائد کی ہوگئی ہے

یہ ببھی پڑھئے : پہلے سستے گھروں کا خواب دکھایا پھر بلڈوزر چلا کر بےگھر کر دیا

 (۴) ٹرانسپورٹیشن سسٹم بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے ساتھ قلت کی وجہ سے پہلے ایک لاکھ روپے میں آنے والی گاڑی کے اب ڈیڑھ لاکھ روپےزائد دینے پڑرہے ہیں 

 (۵) موجودہ حالات کے سبب بکرے مغربی بنگال بھی لے جائے جارہے ہیں (۶) ان حالات کی وجہ سے جانور پالنے والا، سپلائی کرنے والا، قربانی کے سیزن کا انتظار کرنے والا تاجر اور خریدار سب خسارے میں ہیں اورسبھی پریشان ہیں۔ 

اسلم قریشی کا یہ بھی کہنا تھاکہ ’’ حکومت ان مسائل کی جانب توجہ دے اوراس کا حل نکالے۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ جانور پالنے اور فروخت کرنے والوں میں ۷۰؍ فیصد برادران وطن ہیں۔ وہ خاص طور پرقربانی کے ایام کے منتظر رہتے ہیں کیونکہ یہی ان کی سب سے اہم کمائی کا سیزن ہوتا ہے۔ ‘‘

حکومت کی یقین دہانی کےباوجود مسئلہ برقرار

آل مہاراشٹر کھٹک اسوسی ایشن کے سربراہ عقیل تاڑے نے بتایا کہ ’’ کاشی میرا کے پاس ۳؍ دن قبل ڈی سی پی نے بکروں سے بھری ۳؍ گاڑیاں پکڑیں اور تمام کوششوں کےباوجود بکرے چھوڑے نہیں گئے ہیں ۔ ان میں سے ایک گاڑی یوپی سے اور دو گاڑیاں راجستھان سے لائی جارہی تھیں۔ ان تاجرو ں کے پاس تمام کاغذات بھی تھے۔ ‘‘ انہوں نےخاص طور پر اس بات کاتذکر ہ کیا کہ ابھی تین دن قبل حکومت کی جانب سے عیدقرباں کے تعلق سے بڑی میٹنگ بلائی گئی تھی، اس میں وہ بھی شامل تھے۔ ڈی جی پی کی جانب سے اس میٹنگ میں یہ یقین دلایاگیاتھا کہ قربانی کے جانور پکڑے نہیں جائیں گے، مگر اس پرعمل نہیں ہورہا ہے، حالات اس کے برعکس ہیں اور تاجر پریشان ہیں ۔ ‘‘ 

یہ بھی پڑھئے : ممنوع جانوروں کی اسمگلنگ اور خرید و فروخت پر ’مکوکا‘ کے تحت کارروائی کا فرمان

دیونار مذبح کے جنرل منیجرکلیم پاشا پٹھان نےبھی گزشتہ سال کے مقابلے امسال کم جانور دیونار منڈی میں لائے جانے کا اعتراف کیا۔ وجہ پوچھنے پر انہوں نے اس کا سبب موجودہ بحران بتایا۔ ان کا یہ بھی کہناتھا کہ انہیں بھی تاجروں نے مختلف مسائل سے آگاہ کرایا ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK