گوا کے ایک ریزورٹ سے لیے گئے نمونے میں ایزوکسی اسٹروبن اور تھیامی تھوکزام مقررہ حد سے زیادہ پائے گئے؛ اپیل کے بعد ریفرل لیبارٹری نے بھی نمونے کو غیر محفوظ قرار دیا۔
EPAPER
Updated: October 05, 2026, 4:04 PM IST | New Delhi
گوا کے ایک ریزورٹ سے لیے گئے نمونے میں ایزوکسی اسٹروبن اور تھیامی تھوکزام مقررہ حد سے زیادہ پائے گئے؛ اپیل کے بعد ریفرل لیبارٹری نے بھی نمونے کو غیر محفوظ قرار دیا۔
ہندوستان کی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) نے ایورسٹ فوڈ پروڈکٹس کے پری پیکڈ زیرہ پاؤڈر کے ایک مخصوص بیچ کو بازار سے فوری واپس منگانے کا حکم دیا ہے۔ گوا کے ایک ریزورٹ سے لیے گئے نمونے میں کیڑے مار ادویات کے باقیات مقررہ زیادہ سے زیادہ حد سے تجاوز کرنے کے بعد اسے ’’غیر محفوظ‘‘ قرار دیا گیا۔ ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق ابتدائی تجزیے کے بعد کمپنی کو اپیل کا موقع بھی دیا گیا، جس کے بعد نمونہ ریفرل فوڈ لیبارٹری بھیجا گیا اور وہاں بھی ابتدائی نتیجے کی تصدیق ہوگئی۔ متاثرہ مصنوعات کا بیچ نمبر E080668761 ہے۔ ایف ایس ایس اے آئی نے پورے متاثرہ بیچ کو فوری طور پر بازار سے واپس منگانے کی ہدایت دی ہے۔ ادارے نے ایورسٹ فوڈ پروڈکٹس کو واپس منگوائی گئی مصنوعات کا مکمل ریکارڈ رکھنے، مقررہ مدت میں ری کال کی تفصیلات اور اسٹیٹس رپورٹ جمع کرانے اور مستقبل میں ایسے واقعے کی روک تھام کے لیے اصلاحی اقدامات کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایف ایس ایس اے آئی کی جانب سے لیا گیا پری پیکڈ زیرہ پاؤڈر کا ریگولیٹری نمونہ ریورسائیڈ ریزورٹس اینڈ ہالی ڈیز پرائیویٹ لمیٹڈ، گوا سے حاصل کیا گیا۔ فوڈ اینالسٹ کی رپورٹ میں ایزوکسی اسٹروبن اور تھیامی تھوکزام کے باقیات مقررہ زیادہ سے زیادہ حد سے زیادہ پائے گئے۔ فوڈ اینالسٹ نے اسی بنیاد پر نمونے کو فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ، ۲۰۰۶ء کے تحت ’’غیر محفوظ‘‘ قرار دیا۔ معاملہ صرف ابتدائی لیبارٹری رپورٹ تک محدود نہیں رہا۔ ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق متعلقہ فوڈ بزنس آپریٹر کو رپورٹ کے خلاف اپیل کا موقع دیا گیا، جس کے بعد نمونہ ریفرل فوڈ لیبارٹری بھیجا گیا۔ دوسری لیبارٹری نے بھی ایزوکسی اسٹروبن اور تھیامی تھوکزام کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ پائی اور نمونے کو ’’غیر محفوظ‘‘ قرار دیا۔ اسی تصدیق کے بعد پورے متعلقہ بیچ کو واپس منگانے کا حکم جاری کیا گیا۔
ایزوکسی اسٹروبن ایک فنگس کش زرعی دوا ہے، جبکہ تھیامی تھوکزام ایک کیڑے مار دوا ہے۔ ایف ایس ایس اے آئی کے ڈیٹا پورٹل میں ایزوکسی اسٹروبن کو فنگس کش دوا اور ’’قدرے زہریلی‘‘ کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے، جبکہ خوراک میں کسی کیڑے مار دوا کی موجودگی کا جائزہ اس کی مقدار اور متعلقہ زیادہ سے زیادہ باقیاتی حد کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس لیے محض کسی کیڑے مار دوا کے باقیات ملنے اور قانونی حد سے تجاوز کرنے میں فرق ہے۔ صارفین کے لیے سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ایف ایس ایس اے آئی کی موجودہ کارروائی ایورسٹ کے تمام زیرہ پاؤڈر پر لاگو نہیں ہوتی۔ حکم مخصوص پری پیکڈ زیرہ پاؤڈر کے متاثرہ بیچ، یعنی E080668761، سے متعلق ہے۔ اس لیے ہر ایورسٹ زیرہ پاؤڈر کو اس حکم کے تحت واپس منگوایا گیا قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ متاثرہ پیکٹ رکھنے والے صارفین کو بیچ نمبر چیک کرنا چاہیے اور متعلقہ ری کال ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: ایف ایس ایس اے آئی کی بڑی کارروائی،صفائی خامیوں پر کریٹیو بیکرز کا لائسنس معطل
ایف ایس ایس اے آئی کے قواعد میں فوڈ ری کال کا مقصد ایسے غیر محفوظ یا ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والے کھانے کو سپلائی چین کے کسی بھی مرحلے سے ہٹانا ہے۔ ادارے کے مطابق فوڈ بزنس آپریٹر کو ایسی خوراک واپس لینے کا عمل شروع کرنا ہوتا ہے جس کے بارے میں اسے معلوم ہو یا معقول وجہ ہو کہ وہ قانون یا متعلقہ ضوابط کے مطابق نہیں۔ ایف ایس ایس اے آئی نے صارفین کے لیے الگ فوڈ ری کال پورٹل بھی قائم کر رکھا ہے جہاں واپس منگوائی جانے والی مصنوعات سے متعلق معلومات دستیاب ہوتی ہیں۔ ایورسٹ کے معاملے کے ساتھ ہی ایف ایس ایس اے آئی نے ایک الگ کارروائی میں کری ایٹو بیکرز اینڈ کنفیکشنرز پرائیویٹ لمیٹڈ کا لائسنس بھی فوری طور پر معطل کیا۔ کولکاتا سے وابستہ اس ادارے کے خلاف کارروائی شدید صفائی اور حفظانِ صحت کی خامیوں کے بعد کی گئی۔ ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق معائنے میں خوراک تیار کرنے اور سنبھالنے والے مقامات پر گرد، چکنائی، دھول، مکڑی کے جالے اور مکھیاں پائی گئیں، جبکہ خراب صفائی والے برتن، کھلے میں رکھا گیا خراب ہونے والا خام مال اور کیڑوں کے تدارک کے ناکافی انتظامات بھی سامنے آئے۔
اسی کارروائی کے سلسلے میں ادارے نے کہا کہ کری ایٹو بیکرز کے احاطے میں پرانا اسٹاک، مسترد شدہ اشیا اور کچرا بھی جمع تھا، جبکہ بعض آلات زنگ آلود تھے، فرش کی ٹائلیں ٹوٹی ہوئی تھیں اور دیواروں پر نمی اور پینٹ اکھڑنے کے مسائل موجود تھے۔ پانی اور تیار شدہ مصنوعات کی جانچ، درجۂ حرارت کی نگرانی، آلات کی پیمائش، حفاظتی دیکھ بھال، فرضی ری کال، صارفین کی شکایات اور آڈٹ سے متعلق مطلوبہ ریکارڈ بھی مناسب طور پر برقرار نہیں رکھے گئے تھے۔ لائسنس معطل ہونے کے دوران ادارے کو تمام فوڈ بزنس سرگرمیاں روکنے کی ہدایت دی گئی۔ ایف ایس ایس اے آئی کی تازہ کارروائیاں خوراک کے شعبے میں جاری وسیع تر نگرانی کے پس منظر میں سامنے آئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ادارے نے نیسلے کے کم چکنائی والے ڈیری وائٹنر کے ایک نمونے کو بھی ’’غیر محفوظ اور غیر معیاری‘‘ قرار دیا تھا۔ یہ نمونہ نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں واقع دی للِت ہوٹل سے لیا گیا تھا۔ اس سے قبل ستمبر میں نیسلے انڈیا کی ایک بیبی فوڈ مصنوعات کے نمونے کو غیر معیاری قرار دیے جانے کے بعد قانونی کارروائی شروع کیے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی تھی۔
ایف ایس ایس اے آئی نے حالیہ مہینوں میں فوڈ بزنس آپریٹرز اور ای کامرس کمپنیوں کے خلاف اپنی نگرانی اور نفاذ کی کارروائیوں کو نمایاں کیا ہے اور ان اقدامات کی معلومات عوام تک سوشل میڈیا اور اپنے صارفین کے پلیٹ فارم کے ذریعے پہنچائی جارہی ہیں۔ ایورسٹ کے معاملے میں بھی ریگولیٹری نمونے، ابتدائی فوڈ اینالسٹ رپورٹ، کمپنی کو اپیل کا موقع، ریفرل لیبارٹری کی دوبارہ جانچ اور اس کے بعد مخصوص بیچ کی واپسی کا حکم اسی قانونی طریقۂ کار کے تحت سامنے آیا ہے۔