Inquilab Logo Happiest Places to Work

خلیج بنگال: روہنگیا مہاجرین کی کشتیاں الٹ گئیں،۵۰۰؍ سے زائد افراد کی موت کا خدشہ

Updated: July 16, 2026, 8:04 PM IST | Dhaka

خلیج بنگال میں روہنگیا مہاجرین کو لے جانے والی دو کشتیوں کے ڈوبنے سے ۵۰۰؍ سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) کے مطابق دونوں کشتیاں جون کے آخر میں میانمار کی راکھین ریاست سے روانہ ہوئی تھیں، جبکہ ان میں بعض مسافر بنگلہ دیش کے مہاجر کیمپوں سے بھی سوار ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ نے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد کی ابھی سرکاری تصدیق ہونا باقی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

خلیج بنگال میں روہنگیا مہاجرین کو لے جانے والی دو کشتیوں کے الٹنے سے ایک بڑے انسانی المیے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جہاں ابتدائی اطلاعات کے مطابق ۵۰۰؍ سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق دونوں کشتیاں جون کے آخر میں میانمار کی راکھین ریاست سے روانہ ہوئی تھیں۔ ان میں سوار زیادہ تر افراد روہنگیا برادری سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ کچھ مسافر بنگلہ دیش میں قائم پناہ گزین کیمپوں سے بھی اس خطرناک سمندری سفر پر روانہ ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ کے مطابق پہلی کشتی میں تقریباً ۲۵۰؍ افراد سوار تھے اور روانگی کے کچھ ہی عرصے بعد اس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

یہ بھی پڑھئے: ناگالینڈ: دہشت گرد حملے میں حوالدار محمد اقبال شہید، سرحدی گاؤں میں سوگ

دوسری کشتی، جس میں مبینہ طور پر ۲۸۰؍ افراد سوار تھے، کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ۸؍ جولائی کو میانمار کے ایاروادی ساحلی علاقے کے قریب سمندر میں ڈوب گئی۔ UNHCR اور IOM نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’اگرچہ ان واقعات اور ممکنہ ہلاکتوں کی تعداد کی سرکاری تصدیق ابھی باقی ہے، تاہم دونوں ادارے ممکنہ طور پر ہونے والے اس بڑے جانی نقصان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔‘‘ اقوام متحدہ کے اداروں نے بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں شدید بارش، خراب موسم اور خطے میں آنے والے سیلاب نے سمندری راستوں کو انتہائی خطرناک بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے ایسے سفر میں حادثات کا خطرہ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق روہنگیا مہاجرین عموماً موسم باراں میں سمندری راستوں سے سفر کرنے سے گریز کرتے ہیں، لیکن میانمار اور بنگلہ دیش میں پناہ گزینوں کو درپیش مشکلات کے باعث بعض افراد جان کا خطرہ مول لے کر بھی محفوظ مستقبل کی تلاش میں کشتیوں کے ذریعے روانہ ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تقریباً ۱۲؍ لاکھ بے وطن روہنگیا بنگلہ دیش کے مختلف پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں۔ یہ مہاجرین گزشتہ برسوں میں میانمار کی ریاست راکھین میں سیکوریٹی فورسیز کے آپریشنز اور تشدد سے جان بچا کر بنگلہ دیش منتقل ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ: کلکٹر کی عوام سے ایس آئی آر فارم جمع کروانے کی اپیل

روہنگیا مہاجرین کی بڑی تعداد کے پاس اب بھی اپنے آبائی علاقوں میں محفوظ واپسی کا کوئی راستہ موجود نہیں ہے۔ اقوام متحدہ اور متعدد انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات کی نشاندہی کرتی رہی ہیں کہ میانمار میں وہی فوج اب بھی اقتدار میں ہے جس پر ۲۰۱۷ء میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مظالم کے الزامات عائد ہوئے تھے۔ امریکہ نے بھی ان کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا تھا، جبکہ بین الاقوامی سطح پر اس معاملے پر تحقیقات اور قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ محفوظ واپسی کے امکانات نہ ہونے، محدود روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث بہت سے روہنگیا مہاجرین اب بھی خطرناک سمندری راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جہاں انسانی اسمگلنگ، خراب موسم اور کشتیوں کے حادثات ان کی جانوں کے لیے مسلسل خطرہ ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK