ترکی نے غزہ کے بچوں کے حقوق کیلئے ملک گیر مہم کا آغاز کیا ہے، ’’پتنگوں کو نہ گراؤ، آسمان بچوں کے لیے چھوڑ دو۔‘‘
EPAPER
Updated: September 07, 2026, 2:03 PM IST | Ankara
ترکی نے غزہ کے بچوں کے حقوق کیلئے ملک گیر مہم کا آغاز کیا ہے، ’’پتنگوں کو نہ گراؤ، آسمان بچوں کے لیے چھوڑ دو۔‘‘
ترکی کی وزارت قومی تعلیم نے ایک طاقتور اور جذباتی مہم کا آغاز کیا ہے جس کا عنوان ہے ’’پتنگوں کو نہ گراؤ،آسمان بچوں کے لیے چھوڑ دو۔‘‘ یہ مہم۱۴؍ سے۱۸؍ ستمبر تک ملک کے تمام۸۱؍ صوبوں میں منعقد کی جائے گی، جس کا مقصد غزہ میں پتنگوں پر عائد پابندی کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانا اور بچوں کے بنیادی حقوق کا دفاع کرنا ہے۔اس مہم کے تحت طلبہ اپنے والدین کے ہمراہ پتنگوں کو ڈیزائن کریں گے اور ان پر امن، تعلیم اور سلامتی کے پیغامات تحریر کریں گے۔ یہ رنگا رنگ پتنگیں ہزاروں ترک بچوں کی آوازوں کو آسمان تک لے جائیں گی، جہاں وہ امید اور احتجاج کا ایک زندہ منظر پیش کریں گی۔ ہر پتنگ ایک پیغام رساں بنے گی، جو تشدد کے خاتمے اور جنگ زدہ علاقوں میں بچپن کی آزادیوں کی بحالی کا مطالبہ کرے گی۔
یہ مہم ترک صدی کے تعلیمی ماڈل"‘‘کے وسیع تر فریم ورک کے تحت چلائی جا رہی ہے، جو تعلیم کو اخلاقی اور انسانی اقدار کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔ اس تقریب کے ذریعے بچوں میں ہمدردی، عالمی شعور اور انصاف کا گہرا احساس پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ بچوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ سرحدوں سے باہر دیکھیں اور محاصرے اور قبضے میں زندگی گزارنے والے اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ اپنی مشترکہ انسانیت کو پہچانیں۔اپنی علامتی اہمیت کے علاوہ، یہ مہم شہری ذمہ داری اور پرامن سرگرمی کا ایک عملی سبق بھی ہے۔ طلبہ نہ صرف فن تخلیق کریں گے بلکہ بچوں کے حقوق، جنگ، اور کھیلنے اور سیکھنے کے لیے محفوظ جگہوں کی اہمیت پر مباحثوں میں بھی حصہ لیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: رکن پارلیمان سپریا سُلے کا موجودہ تعلیمی نظام پر تشویش کا اظہار
بعد ازاں وزارت نے زور دیا ہے کہ آسمان تمام بچوں کا حق ہے اور کسی بھی بچے کو پتنگ اڑانے کی سادہ خوشی سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔جیسے جیسے یہ پتنگیں ترکی کے شہروں اور دیہاتوں کے اوپر اونچی اڑان بھریں گی، وہ دنیا کو ایک واضح اور فوری پیغام دیں گی: بچپن کی حفاظت کی جانی چاہیے، اور آسمان آزادی کا ایک ایسا دائرہ رہنا چاہیے جو خوف سے پاک ہو۔ ترکی غزہ کے بچوں کے ساتھ کھڑا ہے، اور اس مہم کے ذریعے ان بچوں کے خوابوں کو بادلوں سے بھی بلند کیا جا رہا ہے۔