Updated: May 06, 2026, 10:10 PM IST
| Tel Aviv
ایک عرب کنیسٹ رکن نے ایک بیان میں کہا کہ بین گویر اور اُس کی بیوی کو فوری طور پر ماہرِ نفسیات کی ضرورت ہے، اس سے قبل اسرائیل کے انتہا پسند وزیر بین گویر کو اس کی بیوی نے سالگرہ کا کیک تحفے میں دیا تھا، جسے پھندے سے سجایا گیا تھا، جو فلسطینی قیدیوں کی سزائے موت پر خوشی کا اظہار تھا۔
اسرائیل کا انتہا پسند لیڈر اتامار بن گویر۔ تصویر: ایکس
ایک عرب کنیسٹ رکن احمد طیبی نے ایک بیان میں کہا کہ بین گویر اور اُس کی بیوی کو فوری طور پر ماہرِ نفسیات کی ضرورت ہے، اس سے قبل اسرائیل کے انتہا پسند وزیر بین گویر کو اس کی بیوی نے سالگرہ کا کیک تحفے میں دیا تھا، جسے پھندے سے سجایا گیا تھا، جو فلسطینی قیدیوں کی سزائے موت پر خوشی کا اظہار تھا۔
طیبی نے اسرائیل کے۱۰۳؍ ایف ایم ریڈیو کو بتایا، ’’مجھے بطور ڈاکٹر اپنے اضافی پیشے کو استعمال کرنا چاہیے، حالانکہ یہ معاملہ میری خصوصیت میں نہیں آتا، اس خاندان کو فوری طور پر ایک ماہرِ نفسیات کی ضرورت ہے۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا، ’’یہ دو افراد (بین گویر اور اُس کی بیوی) نفسیاتی طور پر پریشان ہیں، لیکن یہ نفسیاتی کیفیت اسرائیلی معاشرے میں حامیوں کو ڈھونڈ لے گی۔ ‘‘طیبی نے کہا، ’’عام طور پر لوگ سالگرہ کے کیک کے ساتھ ایک بہتر مستقبل اور محبت کی خواہش کرتے ہیں، لیکن یہ لوگ نفرت اور موت کو مقدس تصور کرتے ہیں۔ لہٰذا، حقیقت میں یہ ایک نفسیاتی کیفیت ہے جس میں فوری مداخلت کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ اتوار کو، بین گویر کی بیوی نے اُسے ایک کیک پیش کیا جسے ‘پھندے’ سے سجا اور اس پر عبارت لکھی تھی “وزیر بین گویر کو مبارک ہو، کبھی کبھی خواب سچ ہو جاتے ہیں،” جو اُن کی سالگرہ کے موقع پر اور فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے والے قانون کی منظوری کی خوشی میں تھا۔یہ قانون مارچ میں کنیسٹ سے منظور ہوا، جس نے دنیا بھر میں انسانی حقوق اور سیاسی تنقید کو جنم دیا۔یہ قانون اُن قیدیوں کے لیے موت کی سزا (پھانسی دے کر)تجویز کرتا ہے جن کے بارے میں اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اُنہوں نے ایسے حملے کیے یا ان کا منصوبہ بنایا جن سے اسرائیلی ہلاک ہوئے۔قانون یہ فراہم کرتا ہے کہ پھانسیاں جیل سروس کی طرف سے مقرر کردہ جیل گارڈز کے ذریعے دی جائیں گی، اُنہیں گمنامی اور قانونی استثنیٰ دیا جائے گا۔یہ قانون پبلک پراسیکیوشن کی طرف سے درخواست کے بغیر بھی سزائے موت دینے کی اجازت دیتا ہے اور اسے متفقہ ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ یہ سادہ اکثریت سے طے کیا جا سکتا ہے۔
دریں اثناء فلسطینی اور اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، اسرائیلی جیلوں میں۹۶۰۰؍ سے زیادہ فلسطینی قید ہیں، جن میں۳۵۰؍ بچے اور۷۳؍ خواتین شامل ہیں، جہاں اُنہیں تشدد، بھوک اور طبی غفلت کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں قیدیوں کی موت ہو چکی ہے۔