• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بین اسٹوکس نے ایشیز میں واپسی کی خبروں کو گمراہ کن قرار دے دیا

Updated: October 23, 2026, 4:06 PM IST | London

اسٹوکس نے سوشل میڈیا پر واضح کیا کہ آسٹریلیا کے خلاف آئندہ ایشیزسیریز میں ان کی ممکنہ واپسی کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ انہوں نے قارئین کو مشورہ دیا کہ وہ اس خبر کو پڑھنے کے لیے ایک پاؤنڈ خرچ نہ کریں۔

Ben Stokes.Photo:INN
بین اسٹوکس۔ تصویر:آئی این این

انگلینڈ کے سابق ٹیسٹ کپتان اور مایہ ناز آل راؤنڈر بین اسٹوکس نے ایشیز سیریز کے لیے بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں گمراہ کن قرار دیا ہے۔ اسٹوکس نے سوشل میڈیا پر واضح کیا کہ آسٹریلیا کے خلاف آئندہ ایشیزسیریز میں ان کی ممکنہ واپسی کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ انہوں نے قارئین کو مشورہ دیا کہ وہ اس خبر کو پڑھنے کے لیے ایک پاؤنڈ خرچ نہ کریں، کیونکہ اس کی سرخی حقیقت کی درست عکاسی نہیں کرتی۔ اسٹوکس کا یہ ردعمل ان خبروں کے بعد سامنے آیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ اگلے سیزن میں اپنے کاؤنٹی کلب ڈرہم کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم میں واپسی کے لیے تیار ہوسکتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:آسٹریلیائی فاسٹ بولر میگن شٹ پر دو میچوں کی پابندی عائد

بین اسٹوکس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعلقہ خبر کے بارے میں لکھا کہ اسے پڑھنے کے لیے اپنا ایک پاؤنڈ ضائع نہ کریں، کیونکہ یہ سرخی مکمل طور پر گمراہ کن ہے اور ایشیزمیں واپسی کی بات میں کوئی سچائی نہیں۔ ان کے اس بیان سے واضح ہوگیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ریٹائرمنٹ واپس لینے کے حوالے سے گردش کرنے والی قیاس آرائیوں کو درست نہیں سمجھتے۔ اس سے قبل انگلینڈ کے بعض کرکٹ حکام کی جانب سے یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ اگر اسٹوکس مستقبل میں اپنا فیصلہ بدلنے پر آمادہ ہوں تو ان کی واپسی کا امکان مکمل طور پر خارج نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم، اسٹوکس نے خود بارہا بین الاقوامی کرکٹ سے کنارہ کشی کے اپنے فیصلے پر قائم رہنے کا عندیہ دیا ہے۔ 
۳۵؍ سالہ بین اسٹوکس نے جون ۲۰۲۶ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ ان کے فیصلے کے بعد انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم میں قیادت اور ٹیم کی تشکیل نو کا مرحلہ شروع ہوا۔ اسٹوکس نے بطور کپتان انگلینڈ کی ٹیسٹ کرکٹ میں جارحانہ انداز کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور ان کی قیادت میں ٹیم نے کئی یادگار کامیابیاں حاصل کیں۔اسٹوکس اب اپنے کاؤنٹی کلب ڈرہم کے لیے کھیلنے اور اگلے سیزن میں کاؤنٹی چیمپئن شپ میں ٹیم کی مدد کرنے پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے تجربے سے ڈرہم کو کامیابی دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ 
 بین اسٹوکس کی کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی کے منصوبے کو بعض خبروں میں انگلینڈ کی قومی ٹیم میں ممکنہ واپسی سے جوڑ دیا گیا تھا۔ تاہم، اسٹوکس کے تازہ بیان نے واضح کردیا ہے کہ ڈرہم کے لیے کھیلنے کے ان کے ارادے کو بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کی تیاری نہیں سمجھنا چاہیے۔اسٹوکس نے اپنے کریئر میں انگلینڈ کے لیے کئی تاریخی کارکردگیاں پیش کیں۔ ۲۰۱۹ء کے ون ڈے عالمی کپ کے فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف ان کی ناٹ آؤٹ ۸۴؍ رنز کی اننگز نے انگلینڈ کو پہلی مرتبہ عالمی چیمپئن بننے میں اہم مدد دی۔ اسی سال آسٹریلیا کے خلاف ایشیزسیریز میں ہیڈنگلے ٹیسٹ کے دوران ان کی ناٹ آؤٹ ۱۳۵؍ رنز کی اننگز بھی کرکٹ تاریخ کی یادگار کارکردگیوں میں شمار ہوتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:دلجیت دوسانجھ کے دہلی کنسرٹ کو پولیس کی اجازت دینے سے انکار

انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ایشیزٹیسٹ سیریز کرکٹ کی قدیم ترین اور مشہور ترین رقابتوں میں شمار ہوتی ہے۔۲۰۲۷ء کی ایشیزسیریز انگلینڈ کے لیے اہم ہوگی، خصوصاً ایسے وقت میں جب ٹیم اسٹوکس کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے دور میں داخل ہورہی ہے۔ جو روٹ انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سنبھال چکے ہیں، جبکہ ٹیم کی کوچنگ کے نظام میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اسٹوکس کی عدم موجودگی انگلینڈ کے لیے تجربے، آل راؤنڈ صلاحیت اور قیادت کے اعتبار سے ایک بڑا خلا ہے، لیکن ان کے تازہ بیان سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ فی الحال وہ بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کی توجہ کاؤنٹی کرکٹ اور اپنے مستقبل کے منصوبوں پر ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK