ٹربیونلز کےکام نہ کرنے کی شکایت پر بھی سپریم کورٹ نےفوری حکم جاری نہیں کیا، پہلے ہائی کورٹ سے تفصیلات طلب کرے گا۔
چیف جسٹس سوریہ کانت کی بنچ ایس آئی آر کے معاملوں کی شنوائی کررہی ہے- تصویر:آئی این این
سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں ایس آئی آر کو چیلنج کرنےوالے فریقین کی جانب سےفارم ۶؍ کے ذریعہ ایس آئی آر کے دوران ۷؍ لاکھ نئے ناموں کے اندراج کے معاملے پر سماعت سے پیر کو انکار کردیا۔اس کےساتھ ہی عدالت کے نوٹس میں جب یہ بات لائی گئی کہ جن ووٹرس کےنام کاٹے گئے ہیں،ان کی اپیلوں پر سماعت کیلئے بنائے گئے ٹربیونلز ٹھیک سے کام نہیں کررہے ہیں تو ملک کی سب سے بڑی عدالت نے فوری طور پر کوئی حکم جاری کرنے سے گریز کیا اور اعلان کیا کہ اس ضمن میں کولکاتا ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔ ٹربیونل کاکام کاج ہائی کورٹ ہی دیکھ رہا ہے۔
سینئر ایڈووکیٹ دیودَت کامت نے چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی کی بنچ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کیا۔ایڈووکیٹ کامت نے کہا کہ سپریم کورٹ کے قابل ججوں نے اس معاملے کو۲۴؍ اپریل کیلئے فہرست بند کیا ہے۔ اپیلیٹ ٹریبونل کام نہیں کر رہے ہیں، وکیلوں کو اجازت نہیں دی جا رہی ہے، وہ صرف انٹرنیٹ اور کمپیوٹر پر مبنی عرضیاں ہی لے رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے اس پر ناراضگی ظاہر کی کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر سے جڑے معاملوں کا عدالت کے سامنے تقریباً روزانہ ذکر کیا جا رہا ہے۔ تاہم کامت نے دلیل دی کہ اس معاملے میں سپری کورٹ کے احکام پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ جواب میں چیف جسٹس نے کہا کہ ’’ہم (ہائی کورٹ کے) چیف جسٹس سے آج ہی رپورٹ منگائیں گے۔
اس معاملے میں وکیلوں کا کہنا ہے کہ لوگوں کو دور دور سے کولکاتا آنا پڑ رہا ہے۔ انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ٹریبونل ٹھیک سے کام نہیں کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس پہلے شکایت کو اہمیت نہیں دی، بعد میں انھوں نے پورے معاملے پرناراضگی کا اظہار کیا۔