اسلام آباد میں امن مذاکرات بے یقینی کاشکار،ایرانی کارگو جہاز پرقبضہ اس کی وجہ بنا، تہران نے امریکی ناکہ بندی کے خاتمے کو مذاکرات کی بنیادی شرط بنا دیا
EPAPER
Updated: April 21, 2026, 12:08 AM IST | Islamabad
اسلام آباد میں امن مذاکرات بے یقینی کاشکار،ایرانی کارگو جہاز پرقبضہ اس کی وجہ بنا، تہران نے امریکی ناکہ بندی کے خاتمے کو مذاکرات کی بنیادی شرط بنا دیا
ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں شرکت کیلئے پیر کی رات امریکی وفد اسلام آباد پہنچ گیا جبکہ ایران نے اپنا وفد یہ کہہ کربھیجنے سے انکار کردیا ہےکہ کسی بھی طرح کی گفتگو کیلئے ضروری ہے کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے۔ ایران کے موقف میں شدت پیر کو اس لئے بھی آگئی کہ امن مساعی اور منگل کو اسلام آباد میں گفتگو سے قبل امریکی بحریہ نے ایران کے ایک کارگو جہاز کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ ایران نےا س کا مناسب جواب دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔
کل جنگ بندی کا آخری دن
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا بدھ کو آخری دن ہے اور اسلام آباد اس بات کی کوشش کررہاہے کہ اس کے خاتمے سے قبل ہی امن معاہدہ اور جنگ کے خاتمے کا اعلان ہوجائے۔ جنگ بندی میں توسیع اور امن معاہدہ کو یقینی بنانے کیلئے سفارتی رابطوں میں تیزی آگئی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب سمیت اہم علاقائی ممالک جنگ بندی میں توسیع اور مذاکرات کا دوسرا دور شروع کروانے کیلئے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔
ٹرمپ سے عاصم منیر کی گفتگو
ایرانی جہاز پر امریکی بحریہ کے قبضہ کے بعد بدلتی ہوئی صورتحال کے بیچ پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر نے براہ راست ٹرمپ سے فون پر گفتگو کی ہے۔ ’رائٹرز‘کی خبر کے مطابق منیر نے ٹرمپ کے سامنے واضح کردیا ہے کہ ایرانی بندر گاہوں اور آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی امن کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ ہے۔اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے عاصم منیر کے مشورہ پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ایران نے بھی وفد بھیجنے کا اشارہ دیا
جس وقت یہ خبر لکھی جارہی ہے، بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں نے اطلاع دی ہے کہ گفتگو میں شرکت سے صاف انکار کے بعد تہران نے اس میں شامل ہونے کے تعلق سے غور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ بتایا جارہاہے کہ ایران کے رویے میں یہ نرمی اسلام آباد کی جانب سے اس کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو ختم کرانے کی اسلام آباد کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
امریکہ کا بدلتا ہوا موقف بے یقینی کا سبب
اس سے قبل ایرانی سرکاری ٹی وی نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ کے ’غیر منطقی اور حد سے زیادہ مطالبات‘ اور بدلتے ہوئے موقف کی وجہ سے دوسرے دور کے مذاکرات کا فی الحال کوئی امکان نہیں ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے امریکہ نے سمندری ناکہ بندی کرکے ایرانی بحری جہاز پر حملہ کیا، امریکی اقدام جنگ بندی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے سیزفائرکی خلاف ورزی کی، ہم نے پاکستانی ثالث کار کو بتا دیا ہے کہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد نہیں آرہے۔
عدم اعتماد بڑی رکاوٹ: پیزشکیان
اس سے قبل ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کا کہنا ہے کہ بامعنی مذاکرات کیلئے وعدوں کی پاسداری پہلی شرط ہے، امریکہ پر تاریخی عدم اعتماد مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ایرانی صدر نے کہا کہ امریکی حکام کی جانب سے غیر تعمیری اور متضاد اشارے تلخ پیغام دیتے ہیں۔