لاکھوں شہریوں کو شدید دقتوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ بیسٹ انتظامیہ نے انڈسٹریل کورٹ کے عبوری حکم کے حوالے سے ہڑتال کوغلط اورضابطہ شکنی قرار دیا۔
بیسٹ کی میٹنگ۔ تصویر:آئی این این
اپنے متعدد مطالبات پرتوجہ نہ دینے کے سبب بیسٹ ملازمین نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سے بے مدت ہڑتال شروع کردی ۔ ان کی۱۲؍ یونین کی مشترکہ کمیٹی’بیسٹ کامگار کرتی سمیتی‘ کی جانب سےدادر میں جمعرات کی شام ۵؍بجے سے رات ۸؍ بجے تک جاری رہنے والی میٹنگ کے بعد یہ اعلان کیا گیا کہ ہم سب ہڑتال پراٹل ہیں، جب تک ہمارے تمام مطالبات پورے نہیں کئےجاتے ،ہڑتال جاری رہے گی۔ شہریوں کوہونےوالی پریشانی کی ذمہ دار ریاستی حکومت ہوگی۔ اس لئے کہ ہڑتال کے انتباہ کےباوجود اس نےمطالبات پرکوئی توجہ نہیںدی اورہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی ٹال مٹول کارویہ اپنایا ۔ بیسٹ ملازمین کی جانب سے کی جانے والی اس ہڑتال میںٹریفک اوربجلی شعبے دونوں کے ملازمین شامل ہیں ۔ واضح رہے کہ سبکدوش ملازمین کے گریجویٹی اور فائنل حساب کے ڈیڑھ ہزار کروڑ روپے سے زائد باقی ہے۔
’’ہڑتال کے ہم اپنے فیصلے پرقائم ہیں‘‘
شیوسینا ادھو گروپ کے بیسٹ کمیٹی کے رکن نتن نندگاؤنکر نےشاردا سنیما کے پاس واقع مراٹھی گرنتھ سنگرہالیہ ہال میں میٹنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ مطالبات پر توجہ نہ دینے کا نتیجہ ہے کہ ملازمین کو مجبوراً ہڑتال پرجانا پڑرہا ہے۔ اگر حکومت تین دن قبل ہی لیڈران کوبلاکران کےمسائل پر توجہ دیتی ا ور مطالبات پورے کردیئے جاتے تو شاید اس کی نوبت نہ آتی ۔‘‘ انہوں نےیہ بھی کہا کہ ’’ اس سے یقیناً شہریوں کو پریشانی ہوگی ،حالانکہ ہم میںسے کسی کاارادہ شہریوں کو پریشان کرنانہیں ہے مگراس کےسوا کوئی چارا نہیںہے ۔ اس لئے ہڑتال کی جارہی ہے ۔‘‘نتن نندگاؤنکرنے یہ بھی کہاکہ ’’ حکومت اچھی طرح یہ سمجھ لے کہ جب تک تمام مطالبات پورے نہیں کئے جاتے ،اس وقت تک ہڑتال جاری رہے گی ۔‘‘
بیسٹ کامگار سینا کے لیڈر اُدے امونکر نے بتایا کہ ’’بیسٹ ملازمین کے متعددمطالبات ہیں ، اس پر توجہ نہیں دی گئی ۔اسی سبب ہڑتال کاراستہ اپنایا گیا ہے ۔‘‘ بیسٹ کے سبکدوش ملازمین کی کمیٹی کے سربراہ ہیمنت پاٹنکر نے کہا کہ ’’مجبوراً ہڑتال کی جارہی ہے ، شوق سے نہیں۔ اگر حکومت بیسٹ ملازمین کے مطالبات پرفوری توجہ دیتی، اس کےپاس ۳؍ دن کا وقت تھا لیکن اس نے قابل اعتناء نہیں سمجھا اسی لئے ہڑتال کی جارہی ہے ۔ حکومت کواندازہ ہوجائے گا کہ ہڑتال سے کس طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔‘‘
انڈسٹریل کورٹ کے عبوری فیصلے کا حوالہ
بیسٹ ملازمین کے ہڑتال پر جانے کے خلاف بیسٹ انتظامیہ کی جانب سے انڈسٹریل کورٹ میں کیس داخل کیا گیا تھا۔ کورٹ نےجمعرات کی شام کو بیسٹ انتظامیہ کے حق میں عبوری حکم جاری کیا ۔ اس کے مطابق بیسٹ انڈر ٹیکنگ کے ملازمین اور لیز آپریٹرسکو ہڑتال پرجانے سے منع کیا گیا ہے۔ یونین کے اس قدم کوغیرقانونی اورضابطہ شکنی قرارد یا گیا ہے ۔ اس کےعلاو ہ بیسٹ انتظامیہ کی جانب سے ملازمین کو انتباہ بھی دیا گیا ہے ۔
بیسٹ ملازمین کے۵؍ اہم مطالبات
میٹنگ کے دوران یونین کی مشترکہ کمیٹی کی جانب سے ملازمین کے جن اہم مطالبات کااعادہ کیا گیا، وہ کچھ اس طرح ہیں: (۱) ملازمین کی تنخواہیں بڑھائی جائیں ، کافی وقت سے اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔(۲)بیسٹ کی نجکاری ناقابل قبول ہے جس پر تیزی سے عمل جاری ہے، اسے روکا جائے ۔(۳)بیسٹ کی اپنی۳۷۰۰؍ سے زائد بسیں ہونی چاہئیں مگر محض۲۴۹؍ رہ گئی ہیں ، اس تعداد کو پورا کیا جائے۔(۴)تمام شعبوں میں خالی اسامیاں پُر کی جائیں۔ (۵) ریٹائرڈ ہوچکے ملازمین کا بقایا جات خاص طور پر گریجویٹی اور فائنل بل ادا کیا جائے، مزیدٹالا نہ جائے۔ان مطالبا ت کو جب تک پورا نہیں کیا جائے گا تب تک ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی ۔