Updated: August 20, 2026, 8:02 PM IST
| New Delhi
بھارت ٹیکسی کے سی او او وویک پانڈے نے اعتراف کیا کہ یہ پلیٹ فارم ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے اور پہلے سے قائم حریفوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی ٹائر-۲ اور ٹائر-۳ شہروں میں توسیع پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ اس کا ہدف مارچ ۲۰۲۷ء تک ۱۰۰ سے ۱۲۵ شہروں اور تین برسوں کے اندر ۵۰۰ شہروں تک پہنچنا ہے۔ فی الوقت یہ ۶ ریاستوں کے ۲۰ شہروں میں کام کر رہی ہے۔
مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کے ذریعے لانچ کی گئی ’بھارت ٹیکسی‘ ایپ کو چھ ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس سروس کو عوام کی طرف سے خاطر خواہ رسپانس نہیں مل رہا ہے۔ حکومت کے تعاون سے چلنے والی ’بھارت ٹیکسی‚ سے جڑے کئی ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ بکنگز توقع سے کہیں کم ہیں۔ اکثر ڈرائیوروں نے اس کی بنیادی وجہ زیادہ کرایوں کو قرار دیا ہے۔
دہلی کے آزاد پور سے تعلق رکھنے والے ۴۰ سالہ ڈرائیور چمن لال، جو پہلے اوبر (Uber) اور ریپیڈو (Rapido) کے ذریعے ماہانہ تقریباً ۳۵ سے ۴۵ ہزار روپے کماتے تھے، نے کہا کہ دیگر ایپس پر مسلسل رائڈ کی درخواستوں کے برعکس اب انہیں اپنی ۱۰ گھنٹے کی شفٹ کے دوران بمشکل ایک ہی بکنگ ملتی ہے۔ بھارت ٹیکسی کے اندرونی ذرائع نے تصدیق کی کہ ڈرائیوروں کو اوسطاً روزانہ تقریباً ۲ء۱ سے ۵ء۱ رائیڈز ہی ملتی ہیں۔ دہلی-این سی آر میں روزانہ کی بکنگز فروری کے تقریباً ۱۰ ہزار سے بڑھ کر اگست میں ۲۵ ہزار ہو گئیں، حالانکہ خطے میں رجسٹرڈ ۳ء۲ لاکھ ڈرائیوروں میں سے صرف ۵ء۱ لاکھ ہی فعال ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ال نینو کا بڑا الرٹ! ہندوستان میں خشک سالی کا خطرہ ۷۰؍ فیصد تک بڑھ گیا
ترلوکی ناتھ جیسے ڈرائیوروں نے کم بکنگز کا ذمہ دار زیادہ کرایوں کو ٹھہرایا۔ انہوں نے نشان دہی کی کہ کناٹ پلیس سے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی سواری کی لاگت بھارت ٹیکسی پر ۳۴۹ روپے ہے جبکہ ریپیڈو پر ۲۵۸ روپے ہے۔ یہ ایپ نان ممبرز کیلئے فی بکنگ ۱۰ روپے یا ۵۰۰ روپے کی ناقابلِ واپسی رکنیت فیس ادا کرنے والوں کیلئ 9 روپے چارج کرتی ہے۔ کمپنی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ زیرو کمیشن ماڈل کے تحت یہ چارج ”انتظامی فیس“ ہے نہ کہ کمیشن۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرایے ڈرائیور کے اصل اخراجات بشمول سی این جی، ای ایم آئی اور گاڑی کی دیکھ بھال کے خرچ کی عکاسی کرتے ہیں۔
آئی جی آئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل ۳ پر کالی-پیلی ٹیکسی کے ڈرائیور جتیندر کمار (۶۰ سال) نے کاروبار کو ”مکمل طور پر ٹھنڈا“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اب ماہانہ ۱۵ سے ۱۸ ہزار روپے کی آمدنی کے ساتھ روزانہ صرف ایک سے دو سواریاں مکمل کرتے ہیں، جبکہ پہلے وہ ۳ سے ۴ سواریاں مکمل کرکے ماہانہ ۲۵ ہزار روپے کما لیتے تھے۔ انہوں نے پیک اوقات کے دوران بکنگ بوتھوں پر بار بار ہونے والی تکنیکی خرابیوں کا بھی حوالہ دیا۔
یہ بھی پڑھئے: وال مارٹ کا اے آئی منصوبہ ناکام: کمپنی کے ملازمین کو اے آئی کی غلطیوں کو درست کرنا پڑ رہا ہے
بھارت ٹیکسی کے سی او او وویک پانڈے نے اعتراف کیا کہ یہ پلیٹ فارم ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے اور پہلے سے قائم حریفوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی ٹائر-۲ اور ٹائر-۳ شہروں میں توسیع پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ اس کا ہدف مارچ ۲۰۲۷ء تک ۱۰۰ سے ۱۲۵ شہروں اور تین برسوں کے اندر ۵۰۰ شہروں تک پہنچنا ہے۔ فی الوقت یہ ۶ ریاستوں کے ۲۰ شہروں میں کام کر رہی ہے۔