Updated: August 19, 2026, 10:04 PM IST
| Washington
اے آئی کو اپنانے کے منصوبے کے تحت، وال مارٹ نے اپنے ہزاروں فرنٹ لائن ملازمین کو ’مائی وال مارٹ‘ (MyWalmart) ایپ فراہم کی ہے۔ یہ ایپ کمپنی کے ذریعے مہیا کرائے گئے فونز پر چلتی ہے اور اے آئی کے ذریعے تیار کردہ کام اور اہداف تفویض کرتی ہے۔ ریٹیلر کے ۱۶ لاکھ امریکی ملازمین کا ایک بڑھتا ہوا حصہ اب انسانی منیجرز کے بجائے اے آئی ایجنٹس سے روزانہ کے کام حاصل کرتا ہے۔ لیکن کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ نظام اکثر حقیقی دنیا کی پیچیدگیوں کو سمجھنے میں ناکام ہے۔
وال مارٹ اسٹور۔ تصویر: ایکس
وال مارٹ نے اپنے اسٹورز میں مصنوعی ذہانت کو فروغ دیتے ہوئے اے آئی ایجنٹس کو وسیع پیمانے پر تعینات کرنے کے منصوبے پر کام شروع کیا تھا، لیکن اب یہ منصوبہ ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اے آئی ایجنٹس کی تعیناتی کے بعد، کمپنی کو اے آئی سے جڑے ایک بنیادی مسئلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی بار بار ایسی غلطیاں کرتی ہیں جنہیں درست کرنے کیلئے ملازمین کو وقت صرف کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال کے چلتے اب یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا اے آئی، ملازمین کی مدد کر رہا ہے یا ان کے بوجھ میں اضافہ کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کرسل کی رپورٹ، پرنٹنگ کے کاغذ کی صنعت میں رواں سال منافع بڑھنے کی توقع
اے آئی کو اپنانے کے منصوبے کے تحت، وال مارٹ نے اپنے ہزاروں فرنٹ لائن ملازمین کو ’مائی وال مارٹ‘ (MyWalmart) ایپ فراہم کی ہے۔ یہ ایپ کمپنی کے ذریعے مہیا کرائے گئے فونز پر چلتی ہے اور اے آئی کے ذریعے تیار کردہ کام اور اہداف تفویض کرتی ہے۔ ریٹیلر کے ۱۶ لاکھ امریکی ملازمین کا ایک بڑھتا ہوا حصہ اب انسانی منیجرز کے بجائے اے آئی ایجنٹس سے روزانہ کے کام حاصل کرتا ہے۔ لیکن کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ نظام اکثر حقیقی دنیا کی پیچیدگیوں کو سمجھنے میں ناکام ہے۔
آن لائن آرڈر پورے کرنے والی ایک کارکن نے ’بزنس انسائیڈر‘ کو بتایا کہ وہ اسٹور میں راستوں کیلئے اے آئی کے تجویز کردہ اوقات کا مقابلہ نہیں کر سکتیں کیونکہ یہ نظام انہیں ہر طرف بھٹکاتا ہے۔ وال مارٹ کی ’اسپارک‘ ڈیلیوری سروس کے ڈرائیوروں نے کہا کہ ”اسمارٹ پاتھ“ نامی اے آئی فیچر بعض اوقات انہیں خریداری کے اختتام کے بجائے ابتدا میں ہی منجمد اشیاء اٹھانے کی ہدایت دیتا ہے، جو بعد میں وہ پگھل جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سوئس کمپنی ارب پتیوں کے لیے زیرِ زمین ’’قیامت بنکر‘‘ تیار کر رہی ہے
اسٹور کی سطح کے ایک ایچ آر منیجر کے مطابق، اے آئی یہ فرض کر لیتا ہے کہ ملازمین ہر بار بالکل بے عیب کام کریں گے اور ناقابلِ حصول معیارات طے کر دیتا ہے۔ اسپوکین میں رات کی شفٹ میں کام کرنے والی ایک اسٹاکر نے بتایا کہ اے آئی کی ہدایت پر چلنے والے ورک فلو اس کی ٹیم کو محض رفتار برقرار رکھنے کیلئے شیلفوں کو جراثیم سے پاک کرنے یا ایکسپائری تاریخیں چیک کرنے جیسے مراحل چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں۔ سیکوریٹی کیمروں کے ڈیٹا کی تشریح کرنے والے سیفٹی مانیٹرنگ اے آئی نے بھی کارکنوں کو الجھن میں ڈال دیا ہے، جو غیر متعلقہ الرٹس بھیجتا ہے جنہیں ملازمین کے مطابق وہ محض نظر انداز کر دیتے ہیں۔
ملازمین کے حقوق کیلئ کام کرنے والی تنظیم ’یونائیٹڈ فار ریسپیکٹ‘ کے ایک سروے، جس میں ۲۵۰ سے زائد وال مارٹ ملازمین شامل تھے، سے معلوم ہوا کہ ۸۵ فیصد سے زائد ملازمین کو اس بات پر بھروسہ نہیں تھا کہ وال مارٹ اپنے اے آئی منصوبے میں ان کی ضروریات کو ترجیح دے گا۔ تقریباً تین چوتھائی ملازمین نے کہا کہ ان کی سب سے بڑی تشویش اے آئی کا ایچ آر سے متعلق فیصلے کرنا ہے جیسے کہ اجرت کا جائزہ لینا اور چھٹیوں کی منظوری، جبکہ نصف ملازمین کو غلطیوں پر سزا ملنے کا خدشہ تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ال نینو کا بڑا الرٹ! ہندوستان میں خشک سالی کا خطرہ ۷۰؍ فیصد تک بڑھ گیا
ایسوسی ایٹ ٹولز کیلئے وال مارٹ کے نائب صدر بروکس فارسٹ نے کہا کہ کمپنی اے آئی کی رہنمائی پر عمل نہ کرنے پر ملازمین کو سزا نہیں دیتی۔ انہوں نے زور دیا کہ ان ٹولز کو بہتر بنانے کیلئے ملازمین کی رائے (فیڈ بیک) ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ٹیکنالوجی ان کی مدد کیلئے موجود ہے، لیکن حتمی فیصلہ انہی کا ہوتا ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔“