پاورلوم کی گونج، مزدوروں کی محنت اور پسینے سے پہچانے جانے والے بھیونڈی شہر کی گلیاں آج بھی ٹوٹی سڑکوں، بہتے نالوں اور ناکافی شہری سہولتوں کی گواہ ہیں۔
پاورلوم کی گونج، مزدوروں کی محنت اور پسینے سے پہچانے جانے والے بھیونڈی شہر کی گلیاں آج بھی ٹوٹی سڑکوں، بہتے نالوں اور ناکافی شہری سہولتوں کی گواہ ہیں۔ روزگار اور جدوجہد کی اس بستی میں عوام آج بھی بنیادی سہولتوں کے انتظار میں ہیں مگر انہی مسائل زدہ گلیوں سے ابھرنے والے امیدوار کروڑوں کی دولت کے ساتھ انتخابی میدان میں اتر چکے ہیں۔ انتخابی حلف ناموں میں ظاہرکئے گئے اثاثوں کے مطابق الیکشن لڑنے والے اور بلا مقابلہ منتخب ہونے والے امیدواروں میں سے۴۰؍ امیدوار کروڑپتی ہیں۔
حلف ناموں کے مطابق سب سے امیر امیدوار وارڈ نمبر۱۷ (بی) سے بی جے پی کے بلا مقابلہ منتخب امیدوار سمیت پاٹل ہیں جن کی مجموعی جائیداد۶۰؍ کروڑ۹۷؍ لاکھ روپے سے زائد ہے۔ وارڈ نمبرایک (ڈی) سے کونارک وکاس اگھاڑی کے سابق میئر ولاس پاٹل کی جائیداد۵۶؍ کروڑ۸۳؍ لاکھ روپوں سے زیادہ بتائی گئی ہے جبکہ وارڈ نمبر ایک (بی) سے ان کی اہلیہ پرتبھا پاٹل (سابق میئر )کی جائیداد بھی اتنی ہی ظاہر کی گئی ہے اور وارڈ نمبر ایک (سی) سے ان کے فرزندمیوریش پاٹل کی جائیداد۳؍ کروڑ۹؍ لاکھ روپوں سے زائد ہے۔اسی طرح وارڈ نمبر۲۳ (سی) سے بی جے پی کے نارائن چودھری کی جائیداد۵۵؍ کروڑ۷۵؍ لاکھ روپے سے زیادہ ہے جبکہ وارڈ نمبر۲۳ (بی) سے بی جے پی کی بلا مقابلہ منتخب امیدوار بھارتی چودھری کی جائیداد۳۵؍ کروڑ۵۷؍ لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ وارڈ نمبر۹ (اے) سے روپیش مہاترے کے بھائی شندے سینا کے سنجے مہاترے کی جائیداد۲۹؍ کروڑ۴؍ لاکھ روپے سے زائد، وارڈ نمبر۲۲ (اے) سے بی جے پی کی گیتا نائک کی جائیداد ۲۶؍ کروڑ۱۳؍ لاکھ روپے اور وارڈ نمبر۲۱ (بی) سے شندے سینا کی وندنا کاٹیکر کی جائیداد۲۵؍ کروڑ ۲۳؍ لاکھ روپے ظاہر کی گئی ہے۔
مزید کروڑ پتی امیدواروں میں وارڈ نمبر۲۱ (ڈی) سے شندے سینا کے سابق ڈپٹی میئر منوج کاٹیکر (۲۴؍کروڑ ۷۱؍ لاکھ)، وارڈ نمبر۶ (ڈی) سے بھیونڈی وکاس اگھاڑی کے جاوید دلوی (۲۳؍کروڑ۹۹؍ لاکھ)، وارڈ نمبر۲۱ (بی) سے جے ہند سینا کی دکشتا چودھری (۲۰؍ کروڑ ۹۹؍ لاکھ) اور وارڈ نمبر۲۳ (ڈی) سے بی جے پی کے نلیش چودھری (۲۰؍کروڑ۹۹؍ لاکھ) شامل ہیں۔اس کے علاوہ وارڈ نمبر۲۲ (سی) سے بی جے پی کے شیام اگروال (۱۷؍ کروڑ۱۷؍ لاکھ)، وارڈ نمبر۲۰ (سی) سے کانگریس کی ویشالی مہاترے (۱۵؍ کروڑ۴۳؍ لاکھ)، وارڈ نمبر۲۳ (ڈی) سے آزاد امیدوار اشوک پاٹل (۱۳؍ کروڑ۸۳؍ لاکھ)، وارڈ نمبر۲۰ (بی) سے کانگریس کے وکاس پاٹل (۱۲؍ کروڑ ۳۷؍ لاکھ) اور وارڈ نمبر۲۰ (ڈی) سے این سی پی (اجیت پوار ) کے راہل پاٹل (۱۰؍ کروڑ۴۰؍ لاکھ) بھی شامل ہیں۔
اسی طرح وارڈ نمبر ایک (اے) سے کونارک وکاس اگھاڑی کی نیہا کاتھولے، وارڈ نمبر۲۰ (بی) سے بی جے پی کے پرکاش ٹاورے، وارڈ نمبر۲۲ (بی) سے شندے سینا کے کملاکر پاٹل، وارڈ نمبر ایک (اے) سے بی جے پی کی پدما گاجینگی، وارڈ نمبر۲۰ (ڈی) سے بی جے پی کے یشونت ٹاورے، وارڈ نمبر۶ (بی) سے بی جے پی کی دکشابین پٹیل اور وارڈ نمبر۲۱ (اے) سے ادھو سینا کے اشوک بھوسلے کی جائیداد بھی ۵؍کروڑ روپے سے زائد ظاہر کی گئی ہے۔ وارڈ نمبر ایک(سی) میں بی جے پی کے رکن اسمبلی مہیش چوگھلے کے بیٹےمیت چوگھلے کی جائیداد ایک کروڑ روپے جبکہ ادھو سینا کے بھوشن روکڑے کی جائیداد۹۰؍ لاکھ۴۴؍ ہزار روپے بتائی گئی ہے۔
شہر میں ترقیاتی کاموں کی سست رفتاری اور شہری سہولتوں کی خستہ حالی کے درمیان امیدواروں کی یہ مالی حیثیت عوامی بحث کاموضوع بنی ہوئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس بار انتخاب میں دولت نہیں بلکہ کارکردگی اور شہر کی حقیقی ترقی کو معیار بنایا جانا چاہئے۔