ریت ذخیرہ کرکے رکھنے کے ۲۳؍مقامات کو مسمار کردیا گیا۔
EPAPER
Updated: June 06, 2026, 10:18 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
ریت ذخیرہ کرکے رکھنے کے ۲۳؍مقامات کو مسمار کردیا گیا۔
کلکٹر کرشن پانچال، ایڈیشنل کلکٹر ہریش چندر پاٹل اور سب ڈویژنل افسر امیت سانپ کی ہدایت پر تحصیلدار ابھیجیت کھولے کے حکم سے محکمۂ مالیات نے گزشتہ روز ریت مافیا کے خلاف بڑی اور منظم کارروائی انجام دیتے ہوئے شہر سے ملحق کیونی اور کالھیرکے محفوظ جنگلاتی و چراگاہی علاقوں میں قائم غیر قانونی ریت ذخیرہ گاہوں کو مسمار کر دیا۔ اس کارروائی کے دوران مجموعی طور پر ۲۳؍غیر قانونی کنڈیوں (ریت ذخیرہ کرنے کے گڑھوں ) کو جے سی بی مشینوں کی مدد سے زمین بوس کر دیا گیا۔
محکمۂ محصول کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق ریت مافیا کھاڑی سے غیر قانونی طور پر نکالی گئی ریت کو ذخیرہ کرنے کیلئے محفوظ جنگلاتی اور سرکاری اراضی کا استعمال کر رہے تھے۔ جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ کیونی گاؤں کے سروے نمبر ۱۸۱/اے اور ۱۸۱؍/بی میں واقع چراگاہ اور محفوظ جنگلاتی زمین پر ۱۵؍ بڑی کنڈیاں بنائی گئی تھیں، جہاں بڑی مقدار میں ریت جمع کی جاتی تھی۔
اسی طرح کالھیر گاؤں کے سروے نمبر ۱۱۴؍ میں واقع محفوظ جنگلاتی علاقے میں قائم ۸؍ غیر قانونی کنڈیوں کو بھی کارروائی کے دوران مسمار کر دیا گیا۔ یوں دونوں مقامات پر مجموعی طور پر ۲۳؍غیر قانونی ذخیرہ گاہوں کا خاتمہ کیا گیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کنڈیوں میں کھاڑی سے چوری چھپے نکالی گئی ریت ذخیرہ کی جاتی تھی، جس کے بعد اسے مختلف مقامات پر فروخت کیا جاتا تھا۔ اس اچانک کارروائی سے غیر قانونی ریت کے کاروبار سے وابستہ عناصر کو لاکھوں روپے کا مالی نقصان پہنچا ہے اور ریت مافیا کے نیٹ ورک کو بڑا دھچکا لگا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مردم شماری پرمامور عملہ کیلئے پولیس تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ
کارروائی کی خبر پھیلتے ہی غیر قانونی ریت کے کاروبار سے وابستہ افراد میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ محکمۂ محصول گزشتہ کئی ماہ سے بھیونڈی تعلقہ میں غیر قانونی ریت کانکنی، نقل و حمل اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف مسلسل مہم چلا رہا ہے۔ اسی سلسلے کی یہ ایک اہم اور مؤثر کارروائی قرار دی جا رہی ہے، جس کے ذریعے انتظامیہ نے واضح پیغام دیا ہے کہ سرکاری اراضی، محفوظ جنگلات اور چراگاہی زمینوں پر کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔
اس خصوصی مہم کیلئے کھارباؤ کے منڈل افسر سدھاکر کامڈی، بھیونڈی کے منڈل افسر شیلیش بھوجنے، آنگاؤں کے منڈل افسر گنیش وشے اور راہور کے منڈل افسر رویندر کالے کی قیادت میں مشترکہ ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ کارروائی میں محصول افسران، مینگروو تحفظ یونٹ تھانے، محکمۂ جنگلات، بھیونڈی دیہی پولیس، نارپولی پولیس، پنچایت سمیتی اور متعلقہ گرام پنچایتوں کے افسران و ملازمین نے فعال کردار ادا کیا۔