Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: پہلی ہی بارش میں انتظامیہ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے

Updated: June 25, 2026, 12:17 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

نالے ابل پڑے، سڑکیں زیرِ آب، خاطی ٹھیکیداروں اور متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ، محکمہ صفائی کے سربراہ کے مطابق نالا صفائی کا کام ابھی جاری ہے۔

The underwater area of ​​the city can be seen in the picture. Photo: INN
تصویر میں شہر کے زیرآب علاقہ دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

مانسون کی پہلی ہی بارش نے بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کی تیاریوں اور نالا صفائی کے دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ منگل کی شام ہونے والی مختصر مگر تیز بارش اور اس کے بعد بدھ کو بھی ہلکی بارش کے بعد شہر کے متعدد علاقوں میں نالے ابل پڑے، گندہ پانی سڑکوں پر بہنے لگا اور کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیاجس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

میونسپل انتظامیہ کی جانب سے مانسون سے قبل نالا صفائی پر کروڑوں روپے خرچ کرنے اور بڑے پیمانے پر صفائی مہم چلانے کے دعوے کئےگئے تھے لیکن پہلی ہی بارش نے ان تمام دعوؤں کو بے معنی ثابت کر دیا۔ متعدد مقامات پر نالوں کی صفائی نامکمل پائی گئی جبکہ نالوں سے نکالا گیا کچرا بھی کئی دنوں سے سڑک کنارے پڑا رہا جو بارش کے پانی کے ساتھ بہہ کر سڑکوں پر پھیل گیا۔آم پاڑہ، نظام پورہ ، ونجارپٹی ناکہ، شانتی نگر، بھاجی مارکیٹ، پدمانگر، غیبی نگر، انصار نگر، گلزار نگر، اسٹیڈیم روڈ، سائی بابا مندر تین بتی اور بائی پاس سمیت کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور نالوں کے اوور فلو ہونے کی شکایات سامنے آئیں۔ کئی مقامات پر گھروں اور دکانوں کے سامنے گندہ پانی جمع ہونے سے عوام میں سخت ناراضگی دیکھی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: تکارام منڈے کے بارے میں قابل اعتراض تبصرہ کرنے والا شخص گرفتار

ذرائع کے مطابق نالا صفائی کے لئے تقریباً ڈھائی کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے اور مختلف ٹھیکیداروں کو۴۵؍ دن کی مدت میں کام مکمل کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی لیکن مدت ختم ہونے کے قریب پہنچنے کے باوجود صفائی کا کام مکمل نہیں ہوسکا۔ صورتحال یہ ہے کہ پہلی ہی بارش میں نکاسیٔ آب کا نظام جواب دے گیا۔

سماجوادی پارٹی کے ضلعی صدر محمد انس انصاری نے انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت اور معیاری نالا صفائی کی گئی ہوتی تو شہریوں کو اس پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ انہوں نے ذمہ دار ٹھیکیداروں اور متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

اس ضمن میں محکمہ صفائی کے سربراہ فیصل تاتلی نے بتایا کہ نالا صفائی کا کام ابھی جاری ہے اور جہاں پانی جمع ہونے یا نالوں کے اوور فلو ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں وہاں عملہ روانہ کر دیا گیا ہے ۔

دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر سال مانسون سے قبل بڑے دعوے کئے جاتے ہیں مگر پہلی ہی بارش میں انتظامیہ کی ناقص منصوبہ بندی اور لاپروائی کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK