Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: جعلی کال سینٹر کا پردہ فاش، ۸؍ افراد گرفتار

Updated: June 25, 2026, 12:26 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

ایک ملزم فرار، آسان شرائط پر قرض دلانے کے نام پر عوام سے لاکھوں کی دھوکہ دہی، مختلف دفعات کے تحت کیس درج۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

قرض حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کو آسان شرائط پر لون دلانے کا جھانسہ دے کر رقم بٹورنے والے ایک منظم دھوکہ باز گروہ کا نارپولی پولیس نے پردہ فاش کر دیا ہے۔ پولیس نے انجور پھاٹا میں قائم ایک جعلی کال سینٹر پر چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے ۸؍ افراد کو گرفتار کر لیا جبکہ خبر لکھے جانے تک ایک ملزم فرارتھا۔

گرفتار ملزمین کے خلاف بی این ایس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق انجور پھاٹا کی ایک عمارت کی دوسری منزل پر گزشتہ چار ماہ سے ’’کوئک لون‘‘ کے نام سے غیر قانونی کال سینٹر چلایا جا رہا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: تکارام منڈے کے بارے میں قابل اعتراض تبصرہ کرنے والا شخص گرفتار

نارپولی پولیس اسٹیشن کے اے پی آئی دھن راج کیدار کو موصول ہونے والی خفیہ اطلاع کے بعد ۱۹؍ جون کی رات پولیس ٹیم نے اچانک چھاپہ مارا جس کے دوران کال سینٹر میں سرگرم دھوکہ دہی کا پورا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ کال سینٹر کا اصل سرغنہ پربھاکر جھا ہے جسے گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ اس کا قریبی ساتھی ستیش کونڈا فرار ہو گیا۔ کال سینٹر میں کئی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بطور کالر، سپروائزر اور دفتری عملہ کام کر رہے تھے۔ پولیس نے موقع سے موبائل فون، الیکٹرانک آلات اور دیگر اہم دستاویزات ضبط کر لی ہیں۔

اس سلسلےمیںپولیس  نے بتایاکہ ملزمین سوشل میڈیا اور مختلف آن لائن پلیٹ فارمز سے قرض کے متلاشی افراد کا ڈیٹا حاصل کرتے تھے۔ بعد ازاں خود کو معروف فائنانس کمپنیوں کا نمائندہ ظاہر کرکے متاثرین کو فون کیا جاتا اور کم دستاویزات کے ساتھ فوری قرض کی پیشکش کی جاتی تھی۔ جب متاثرہ افراد ان کی باتوں میں آ جاتے تو ان سے ’پروسیسنگ فیس‘، ’فائل چارجز‘ یا دیگر اخراجات کے نام پر ۲؍ ہزار سے۵؍ ہزار روپے تک وصول کئے جاتے تھے۔ رقم وصول ہونے کے بعد نہ قرض فراہم کیا جاتا تھا اور نہ ہی رقم واپس کی جاتی تھی۔

پولیس نے بتایا کہ اس گروہ نے متعدد بینک اکاؤنٹس کھول رکھے تھے جہاں متاثرین سے رقم جمع کرائی جاتی تھی۔ رقم موصول ہوتے ہی ملزمین فوری طور پر اے ٹی ایم کے ذریعے اسے نکال لیتے تھے تاکہ ٹرانزیکشن کا سراغ نہ لگایا جا سکے۔ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ یہ گروہ خاص طور پر تیلگو بولنے والے افراد کو نشانہ بناتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: میرا روڈ: کار کا ایئر بیگ پھٹنے سے نوجوان کی درد ناک موت

مزید حیران کن انکشاف یہ ہوا کہ دھوکہ دہی کے لئے استعمال ہونے والے سم کارڈ غیر قانونی طور پر فروخت کرنے والوں سے بغیر کسی شناختی دستاویز کے تقریباًٍ۱۲؍سو روپے فی سم خریدے جاتے تھے۔ دستاویز کی تصدیق نہ ہونے پر تقریباً دس دن بعد سم کارڈ بند ہو جانے پر انہیں توڑ کر پھینک دیا جاتا اور نئے سم استعمال کئے جاتے تھے، جس سے پولیس کے لئے ملزمین تک پہنچنا مشکل ہو جاتا تھا۔

نارپولی پولیس اسٹیشن کے پولیس انسپکٹر آنند پاٹل کی قیادت میں معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس گروہ نے اب تک کتنے افراد کو اپنا شکار بنایا؟ کتنی رقم کی دھوکہ دہی کی؟  اسی طرح  اس نیٹ ورک کے تار دیگر شہروں سے بھی جڑے ہوئے ہیں یا نہیں۔اس کی بھی تفتیش کی جارہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK