اسمبلی اسپیکرمراٹھی میں لکھے تعزیتی پیغام کو ٹھیک سے پڑھ نہیں سکے، سنجے رائوت برہم، راج ٹھاکرے نے بھی تحریری مذمت کی۔
EPAPER
Updated: June 25, 2026, 1:28 PM IST | Mumbai
اسمبلی اسپیکرمراٹھی میں لکھے تعزیتی پیغام کو ٹھیک سے پڑھ نہیں سکے، سنجے رائوت برہم، راج ٹھاکرے نے بھی تحریری مذمت کی۔
مہاراشٹر اسمبلی کے مانسون اجلاس کے آغاز میں آنجہانی گلوکارہ آشا بھوسلے کو ایوان میں خراج عقیدت پیش کیا گیا جس کا مسودہ اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر نے پڑھ کر سنایا تھا۔ نارویکر نے پڑھتے وقت اتنی غلطیاں کیں کہ اپوزیشن کے علاوہ دیگر مراٹھی داں بھی ناراض ہو گئے۔ حتی کہ وہ آشا بھوسلے کے والد دینا ناتھ منگیشکر کا نام بھی ٹھیک سے نہیں پڑھ سکے، انہوں نے اسے دین دیال منگیشکر پڑھا۔ اس پر ہر طرف ہنگامہ مچ گیا۔ جہاں این ایس سربراہ راج ٹھاکرے نے خط لکھ کر اسمبلی اسپیکر کی مذمت کی وہیں شیوسینا (ادھو) کے ترجمان سنجے رائوت نے میڈیا کے سامنے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’ اگر میں ایوان میں ہوتا تو راہل نارویکر کو پیپر ویٹ پھینک کرمار دیتا۔‘‘ لاتور سے ایم این ایس کارکنان نے اسپیکر کو مراٹھی زبان دانی کی کتابیں بھیجی ہیں اور انہیں مراٹھی سیکھنے کی تلقین کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: جعلی کال سینٹر کا پردہ فاش، ۸؍ افراد گرفتار
سنجے رائوت نے کہا ’’ اسمبلی میں اسپیکر کے عہدے پر فائز شخص کو مراٹھی بولنی نہیں آتی یہ مہاراشٹر کیلئے انتہائی سنگین بات ہے۔ اسپیکر کو مراٹھی بولنے ، لکھنے، پڑھنے اور مراٹھی میں سوچنا نہیں آتا،یہ نارویکر ہیںیا یورپ کے ’ناروے‘ کے رہنے والے’ ناروے کر ‘ہیں؟‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ اس بات کی تحقیقات ضروری ہےکیونکہ مراٹھی آنا لازمی ہے۔ رکشا والوں تک کو مراٹھی آنی چاہئے جس کیلئے قانون بھی بنایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے ریاست میں مراٹھی کو لازمی کیا ہے لیکن خود انہوں نے جسے اسمبلی اسپیکر مقرر کیا ہے انہیں مراٹھی نہیں آتی ہے۔ ‘‘سنجے رائوت نے کہا راہل نارویکر نے مراٹھی کی توہین کی ہے اس لئے انہیں فوری طور پر اسپیکر کے عہدے سے برطرف کر دیا جانا چاہئے۔
راج ٹھاکرے کا طویل خط
ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے نے سوشل میڈیا پر ایک طویل خط لکھا ہے جس میں انہوں نے راہل نارویکر کے ساتھ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کی بھی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ راہل نارویکر نے ایوان میں پدم وبھوشن آشا بھوسلے کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے جس طرح سے مراٹھی زبان کی چیر پھاڑ کی ہے اسے دیکھ کر غم اور غصہ دونوں ہی محسوس ہوا۔ کاغذ پر لکھ کر دی گئی مراٹھی کو بھی وہ ٹھیک سے پڑھ نہیں سکے۔ حد یہ ہے کہ انہوں نے آشا بھوسلے کے والد کا نام تک ٹھیک سے نہیں پڑھا۔ وہ دیناناتھ منگیشکر کو دین دیال منگیشکر کہتے رہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انہیں دینا ناتھ منگیشکر کے بارے میں بھی کچھ معلوم نہیں ہے اور وہ دین دیال اپادھیائے کے تعلق سے بھی کچھ نہیں جانتے۔ راج ٹھاکرے نے لکھا ہے کہ مجھے نہیں معلوم دیویندر فرنویس ایوان میں تھے یا نہیںلیکن اگر وہ ہوتے تو بھی انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ انہیں کسی شخصیت کی عظمت کا کوئی خیال نہیں ہے ایک رسم تھی جسے ادا کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فرنویس کو چاہئے کہ وہ نارویکر کو سمجھائیںکہ انسان کا پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے لیکن اس سے زیادہ ضروری سمجھدار ہونا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: پہلی ہی بارش میں انتظامیہ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے
اس دوران لاتور میں راج ٹھاکرے کی پارٹی کے کارکنان نے راہل نارویکر کے خلاف احتجاج کیا اور ان کے گھر مراٹھی زباندانی کی کتابیں بھجوائیں۔ ان کارکنان نے خط لکھا ہے کہ راہل نارویکر جلد از جلد مراٹھی سیکھ لیں اگر انہوں نے آئندہ اس طرح کی غلطیاں کیں تو ہم ان کے گھر پہنچ کر انہیں مراٹھی سکھائیں گے۔ یاد رہے کہ راہل نارویکر پیشے سے ایڈوکیٹ رہے ہیں ۔ اس لئے حیرانی کی بات ہے کہ انہوں نے مراٹھی تحریر پڑھنے میںاتنی غلطیاں کیسے کیں؟