بھیونڈی عمارت سانحہ کے زندہ بچ جانے والے مکینوں کی دردناک داستان۔کسی نے پہلے منزلے سے کودکر تو کسی نے پائپ لائن اور نالےکے سہارے جان بچائی۔
EPAPER
Updated: August 01, 2026, 12:02 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
بھیونڈی عمارت سانحہ کے زندہ بچ جانے والے مکینوں کی دردناک داستان۔کسی نے پہلے منزلے سے کودکر تو کسی نے پائپ لائن اور نالےکے سہارے جان بچائی۔
یہاں کے علاقے نارپولی کی گنگارام واڑی میں واقع ۴؍منزلہ کوہِ نور اپارٹمنٹ جمعہ کو منہدم ہونے سے کئی خاندانوں سے ان کے اپنے چھین گئے۔ وہیں زندہ بچ جانے والے مکینوں کی درد بھری داستانیں بھی ہر سننے والے کو اشکبار کر رہی ہیں۔ برسوں کی محنت، زندگی بھر کی جمع پونجی اور ایک محفوظ مستقبل کے خواب چند لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئے۔
’’اچانک پوری عمارت لرزنے لگی‘‘
منہدم عمارت کے گراؤنڈ فلور پر رہنے والی کومل اروند گپتا نے نم آنکھوں کے ساتھ بتایا کہ ان کے والد نے ۵؍ برس قبل قسطوں پر یہ فلیٹ خریدا تھا۔ ایک ایک روپیہ جوڑ کر، عمر بھر کی کمائی اس گھر پر لگا دی تھی لیکن چند منٹوں میں سب کچھ ختم ہوگیا۔ انہوں نےکہا کہ حادثے سے قبل عمارت میں مرمت کا کام جاری تھا اور مزدوروں نے احتیاط کے بجائے تینوں ستونوں کا پلاسٹر ایک ساتھ نکال دیا جس سے پوری عمارت کا توازن بگڑ گیا۔ ان کے مطابق اگر ستونوں کی مرمت مرحلہ وار کی جاتی تو شاید یہ المناک حادثہ پیش نہ آتا۔کومل نے یہ بھی بتایا کہ حادثے کے وقت وہ اپنے والدین کے ساتھ گراؤنڈ فلور پر موجود تھی۔ مزدور ستونوں کو سہارا دینے کیلئے بانس لگا رہے تھے کہ اچانک پوری عمارت لرزنے لگی۔ خطرہ محسوس ہوتے ہی وہ تینوں جان بچانے کیلئے باہر کی طرف دوڑے مگر اسی دوران گٹر کا پانی اندر آ گیا اور وہ اس میں پھنس گئے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ ان کی والدہ نے اپنی جان کی پروا کئے بغیر انہیں باہر کھینچ لیا ورنہ شاید وہ بھی ملبے تلے دب جاتی۔
یہ بھی پڑھئے: وزیر ریلوے سے غریب نگر باشندوں کی باز آبادکاری کیلئے مداخلت کی اپیل
’’پہلی منزل سے چھلانگ لگادی‘‘
پہلی منزل پر رہنے والے ابھے کمار یادو اور دیپک کمار جگدیش یادو نے عمارت منہدم ہونے کی آواز سنتے ہی جان بچانے کیلئے پہلی منزل سے چھلانگ لگا دی۔ دونوں کی جان تو بچ گئی، تاہم ان کی ٹانگوں میں فریکچر آیا ہے۔ اس حادثے میں سنگیتا پرجاپتی بھی زخمی ہوئی ہے۔ تینوں زخمیوں کا علاج بھیونڈی کے آئی جی ایم سب ڈسٹرکٹ اسپتال میں جاری ہے۔
سیڑھی اور نالے نےجان بچائی
کوہِ نور اپارٹمنٹ کی تیسری منزل پر اپنی اہلیہ کے ساتھ رہنے والے مہتاب نے حادثے کے ہولناک لمحات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کام سے نیچے گئے ہوئے تھے۔ جیسے ہی واپس اپنی منزل پر پہنچے، اچانک ایک زور دار دھماکے جیسی آواز سنائی دی اور پوری عمارت تیزی سے دھنسنے لگی۔مہتاب کے مطابق ’’ہم نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا اور جان بچانے کیلئے دوڑ پڑے۔ سامنے سیڑھی نظر آئی جس کے سہارے ہم نیچے اترنے میں کامیاب ہوئے لیکن اس وقت عمارت کے اطراف نالے کا پانی بھر چکا تھا۔‘‘انہوں نے بتایا کہ ’’جان بچانے کا اور کوئی راستہ نہیں تھا اس لئے میں اور میری اہلیہ نالے میں اتر گئے اور دوسری جانب نکل کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔ چند ہی لمحوں بعد پوری عمارت ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکی تھی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی سانحہ: مقامی افراد کے بروقت اقدام نے کئی جانیں بچائیں
’’پانی کے پائپ سے نیچے اترے ‘‘
اسی عمارت کی چوتھی منزل پر رہنے والے کرشنا نشاد نے بتایا کہ وہ گزشتہ ۴؍ برس سے یہاں مقیم تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بھائی اور ۲؍ دیگر افراد کے ساتھ کمرے میں موجود تھے کہ اچانک پوری عمارت زمین میں دھنسنے لگی۔ چند لمحوں کیلئے کچھ سمجھ میں نہیں آیا اور یوں محسوس ہوا جیسے موت بالکل سامنے کھڑی ہو۔کرشنا نے بتایا کہ کمرے میں پانی کی لائن کا ایک مضبوط پائپ موجود تھا۔ انہوں نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے نیچے لٹکایا اور رسی کی طرح استعمال کیا۔ سب سے پہلے اپنے بھائی کو نیچے اتارا پھر ایک ایک کر کے چاروں افراد اسی پائپ کے سہارے نیچے اترنے میں کامیاب ہوئے اور یوں موت کے منہ سے واپس بچ گئے۔