بھیونڈی میں کوہِ نور اپارٹمنٹ کاسانحہ کئی درناک داستانیں پیچھے چھوڑ گیا۔ یہاں بھنڈاری کمپاؤنڈ علاقے کے گنگا رام واڑی، میں واقع کوہِ نور اپارٹمنٹ کا سانحہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ برسوں کی غفلت، لاپروائی اور غیر ذمہ داری کا ایسا المناک انجام ہے جس نے کئی خاندانوں کے چراغ گل کر دیئے۔
شمیم انصاری مرحوم۔ تصویر: آئی این این
یہاں بھنڈاری کمپاؤنڈ علاقے کے گنگا رام واڑی، میں واقع کوہِ نور اپارٹمنٹ کا سانحہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ برسوں کی غفلت، لاپروائی اور غیر ذمہ داری کا ایسا المناک انجام ہے جس نے کئی خاندانوں کے چراغ گل کر دیئے۔
شمیم اس عمارت میں رہتے بھی نہیں تھے
۳۲؍سالہ شمیم انصاری کی قربانی انسان دوستی کی روشن مثال بن گئی ہے۔ وہ خود اس عمارت کے رہائشی نہیں تھے بلکہ اپنے عزیز مہتاب انصاری اور ان کی اہلیہ کو خستہ حال عمارت سے محفوظ مقام پر منتقل کرنے کیلئے پہنچے تھے۔ انہوں نے انہیں بحفاظت نکالا اور اپنے خالی مکان میں رہنے کا انتظام بھی کر دیامگر خود نہ بچ سکے۔ مہتاب انصاری جنہیں شمیم عمارت سے نکالنے پہنچے تھے، کے مطابق، ضروری سامان لے کر وہ اور ان کی اہلیہ باہر نکل آئے، مگر شمیم مرمت کے کام میں مصروف مزدوروں سے بات کرنے کیلئےرُکے اور اسی لمحہ عمارت منہدم ہو گئی ۔وہ ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئے۔ شمیم انصاری اپنے گھر کے واحد کفیل تھے۔ ان کے پسماندگان میں اہلیہ اور ۳؍کم سن بچے ہیں۔ دوسروں کی حفاظت کی کوشش میں اپنی جان قربان کرنے والے شمیم انصاری کی یہ داستان کوہِ نور سانحہ کا سب سے دردناک باب بن گئی ہے۔
’’دس منٹ میں واپس آتا ہوں‘‘ پھر نہیں آئے
اسی عمارت کی تیسری منزل پر رہنے والے رنجیت سنگھ اپنی بیمار اہلیہ کو دوا دینے کے بعد یہ کہہ کر نیچے اترے تھےکہ’’میں دس منٹ میں واپس آتا ہوں۔‘‘ لیکن یہ دس منٹ ان کی زندگی کے آخری لمحات ثابت ہوئے۔ نیچے پہنچتے ہی عمارت زور دار دھماکے کے ساتھ منہدم ہو گئی اور وہ ملبے تلے دب گئے۔ ان کی اہلیہ صدمے سے نڈھال ہیں اور بار بار یہی کہہ رہی ہیں کہ ان کے شوہر ہی ان کی زندگی کا واحد سہارا تھے۔
فوت ہونے والوں میں شامل سنتوش پانڈے عمارت کے خطرناک قرار دیئے جانے کے بعد ہوٹل میں رہ رہے تھے۔ جمعہ کو وہ صرف یہ جائزہ لینے گئے تھے کہ مرمت کا کام کہاں تک پہنچا ہے، مگر چند لمحوں بعد پوری عمارت ان پر آ گری۔ وہ ملبے میں دب گئے اور زندہ باہر نہ آ سکے۔