Inquilab Logo Happiest Places to Work

جین زی کے بعد ریزرویشن مخالف تحریک نے ملک گیر شکل اختیار کرلی، سوشل میڈیا پر بحث

Updated: August 02, 2026, 9:07 PM IST | New Delhi

ریزرویشن مخالف تحریک نے ملک گیر بحث چھیڑ دی،لاکھوں افراد ذات پات، میرٹ اور مساوی مواقع جیسے موضوعات پر آن لائن گفتگو میں حصہ لے رہے ہیں،ماہرین کے مطابق ریزرویشن کے مقصد سے آج بھی بہت سے نوجوان ناواقف ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

گزشتہ چند ہفتوں میں جن زی (Gen Z) نے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اپنی پہچان بنائی ہے۔ تاہم، ابھی بھی کچھ اہم موضوعات ہیں جن سے وہ ناواقف ہیں اور ذات پات ان میں سرفہرست ہے۔ جب ’’ریزرویشن ہٹاؤ آندولن‘‘ نامی انسٹاگرام ہینڈل نے۵۰؍ لاکھ سے زیادہ فالوورز حاصل کر لیے، تو یہ بات واضح ہو گئی کہ نوجوان نسل کو ذات پات کے نظام کی گہری سمجھ کی ضرورت ہے۔یہ معاملہ صرف ایک عددی بحث نہیں۔ ایک طرف ایک طالب علم ہے جو اعلیٰ تعلیم سے واقف گھرانے سے آتا ہے، جس کے پاس کتابیں، مشورے، اور نیٹ ورک موجود ہیں۔ دوسری طرف وہ طالب علم ہے جو اپنے خاندان میں اسکول مکمل کرنے والا پہلا فرد ہے، جسے کریڈٹ سسٹم یا یونیورسٹی کی پیچیدگیوں کا کوئی علم نہیں۔ دونوں ایک ہی کالج کے دروازے سے داخل ہوتے ہیں، مگر ان کا نقطہ آغاز یکساں نہیں۔ آج اگر آپ انٹرنیٹ پر دلت یا بہوجن برادری کی تصاویر تلاش کریں تو بیشتر تصاویر غربت اور دیہاتی دقیانوسی تصورات کی عکاس ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ ہم ذات پات کے بارے میں صحیح سمت میں بات نہیں کر رہے۔ریزرویشن اسی تاریخی خلا کو پاٹنے کی کوشش ہے۔ 
درج فہرست ذاتوں (ایس سی)،درج فہرست قبائل (ایس ٹی)، اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے طلبہ کے لیے، داخلہ محض ایک قدم نہیں بلکہ نسلوں سے جاری ظلم کے چکر کو توڑنے کا موقع ہے۔ جن زیڈ، جسے پچھلی نسلوں سے زیادہ آزاد خیال اور بیدار سمجھا جاتا تھا، اب کوکروچ جنتا پارٹی کی کامیاب تحریک کے بعد ’’ریزرویشن ہٹاؤ آندولن‘‘کے نام سے ایک نیا انسٹاگرام پیج لے کر میدان میں آیا ہے۔ اس پیج نے صرف۱۰؍ دنوں میں۵۹؍ لاکھ سے زائد فالوورز اکٹھے کر لیے جو ملک کی تیز ترین ترقی پانے والی تحریکوں میں سے ایک ہے۔ یہ مہم نعرہ دیتی ہے، ’’ریزرویشن ختم کرو، میرٹ کی حمایت کرو۔‘‘ اس کا موقف ہے کہ ریزرویشن مساوات اور تعلیمی معیار کو نقصان پہنچاتی ہے، اور ذات اب موقع کا تعین نہیں کرتی۔مگر اعدادوشمار اس کے برعکس کہانی سناتے ہیں۔ 
مرکزی ریزرویشن کا ڈھانچہ اعلیٰ تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں پسماندہ اکثریت کو نصف سے بھی کم نمائندگی مل رہی ہے۔ممبئی کی۲۲؍ سالہ کوئیر دلت کارکن دھناشری تائیڈے کہتی ہیں کہ اینٹی ریزرویشن تحریک کی نوجوانوں میں مقبولیت نے انہیں شدید مایوس کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں،ہم اس ملک کے نوجوانوں سے بہت امیدیں رکھتے تھے، لیکن ریزرویشن ختم کرنے کا مطالبہ خود میں ذات پرستی ہے۔ ممبئی میں پڑھتے ہوئے انہیں کلاس رومز، ریہرسل رومز، اور کالج دفاتر میں تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگ انہیں کہتے، ’’تم دلت جیسی نہیں لگتیں‘‘ یا ’’دلت ہونے کے باوجود ہوشیار ہو،‘‘  وہ کہتی ہیں اسکالرشپ کا تجربہ بھی تکلیف دہ تھا۔ صرف۶۰۰۰؍ روپے کی اسکالرشپ کے لیے انہیں ذات کا سرٹیفکیٹ اور درستگی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا پڑا، جس کے لیے دادا کے چوتھی جماعت کے اسکول کے سرٹیفکیٹ تک درکار تھے تقریباً ۳۰؍صفحات کی دستاویزات۔ اور وہ رقم انہیں پانچ سال بعد ملی۔ کالج کے کاؤنٹر پر انہیں دشمنی کا سامنا کرنا پڑا اور ملازم نے آنکھ تک نہیں ملائی۔ وہ رو پڑی۔یہ تجربات "میرٹ" بحث کے تضاد کو ظاہر کرتے ہیں۔ تائیڈے کہتی ہیں، "اگر اتنے کم سیٹوں پر اتنے مقابلے ہیں تو لوگ پوچھیں کیوں مزید کالج نہیں؟ مظلوم برادریوں پر الزام لگانا آسان ہے۔ ریزرویشن پورے خاندانوں کو بلند کرتا ہے، کیونکہ جب ایک شخص پڑھتا ہے تو سینکڑوں بچے اس سے حوصلہ لیتے ہیں۔ لیکن اگر معاشرہ مسلسل کہے کہ تم مستحق نہیں تو آخرکار تم خود بھی مان لیتے ہو۔‘‘
دوسری طرف، سورن پس منظر سے تعلق رکھنے والے۲۳؍ سالہ اریان کمار (جو دہلی سے رانچی منتقل ہوئے) کا کہنا ہے کہ ذات پرستی کو ختم کرنے کا پہلا قدم اپنے استحقاق کو تسلیم کرنا ہے۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ وہ ’’چمار‘‘کا لفظ عام استعمال کرتے تھے، یہاں تک کہ ان کے بہترین دوست (جو اس برادری سے ہیں) نے انہیں بتایا کہ یہ ایک گالی ہے۔ سی جے پی احتجاج میں ’’چائے والا چور ہے‘‘کے نعرے نے انہیں تکلیف دی، کیونکہ اس سے ایک طبقے کو کمتر قرار دیا جا رہا تھا۔ وہ کہتے ہیں، ’’وزیراعظم پر تنقید کرو، مگر ذات کیوں؟‘‘ ان کے مطابق، جب تک ذات پات ختم نہیں ہوتی، ریزرویشن ہی منصفانہ نظام ہے، اور اس تکلیف دہ حقیقت کو قبول کرنا ضروری ہے۔
اس کے برعکس، کارکن اور مصنف (ہندوتوا فار جن زی کے) یوراج پوکھرنا ریزرویشن کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ وہ ایک بے ذات اور مذہب سے پاک معاشرے کی وکالت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امبیڈکر خود ریزرویشن کو عارضی اقدام سمجھتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ریزرویشن سورنوں کے ساتھ ناانصافی ہے، اور جن زی پر بوجھ نہ ڈالیں وہ ڈیجیٹل نسل ہے، ذات سے بالا تر ہے۔
ڈاکٹر ابھیجیت کھنڈکر، جو دلت امبیڈکری معالج ہیں اور روزانہ جن زی کو پڑھاتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ نسل ظاہری طور پر بے نقاب تو ہے مگر ذات سے اندھی ہے۔ ’’ریزرویشن ہٹاؤ آندولن‘‘ کی کامیابی علمی مواد کو پڑھنے سے انکار ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’ریزرویشن غربت کا نہیں بلکہ نمائندگی کا پروگرام ہے، اور جب تک ذات ہے، ریزرویشن رہے گا۔‘‘ وہ اپنی مثال دیتے ہیں کہ وہ اور ان کی برادری کے بیشتر لوگ پہلی نسل کے سیکھنے والے ہیں اور ریزرویشن کی بدولت یہاں پہنچے۔ وہ کہتے ہیں کہ پرائیویٹ پریکٹس میں امبیڈکری ڈاکٹرز بہت کم ہیں۔ بہر حال، وہ جن زیڈ سے پرامید ہیں کہ وہ حساس ہو سکتے ہیں، مگر یہ وقت طلب ہے۔
پروفیسر یشونت زگاڈے (جندل گلوبل لا اسکول) کہتے ہیں کہ یہ جن زی کی غلطی نہیں بلکہ تعلیمی نظام کی ناکامی ہے جس نے ذات پات کی تعلیم کبھی نہیں دی۔ وہ کہتے ہیں کہ تاریخی طور پر مقبول رائے ہمیشہ ریزرویشن مخالف رہی ہے، اور اسکولوں نے کبھی نہیں سکھایا کہ ریزرویشن کیوں ضروری ہے۔ وہ ذیلی درجہ بندی اور پرائیویٹ سیکٹر تک ریزرویشن بڑھانے کی وکالت کرتے ہیں۔یہ ہے ریزرویشن کی پیچیدہ حقیقت جسے جن زی کو سمجھنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK