Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسپتالوں میں او پی ڈی بند، مریضوں کو دشواریاں

Updated: August 06, 2026, 1:46 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

ریسیڈنٹ ڈاکٹروں کے احتجاج سے جے جے ،نائر ،کے ای ایم اور سائن اسپتالوںمیںعملےکی قلت سے اوپی ڈی ، سرجری اور دیگر خدمات متاثررہیں۔

Resident doctors protesting at the gate of Nair Hospital. (Photo: PTI)
نائر اسپتال کے گیٹ پر ریسیڈنٹ ڈاکٹرس احتجاج کرتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

ہومیو پیتھ ڈاکٹروں کو ایلوپیتھ علاج کی پریکٹس کیلئے رجسٹریشن کی اجازت دینے کے خلاف بدھ کو ممبئی سمیت ریاست کے سبھی سرکاری اسپتالوں میں اوپی ڈی  بند ہونے سے مریضوں اور  ان کے رشتےداروںکوپریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ حالانکہ اوپی ڈی میں آنےوالے سنگین بیماری میں مبتلاافراد کا سینئر ڈاکٹروں نے معائنہ کیا ،اس کےباوجود جے جے ،نائر ،کے ای ایم اور سائن اسپتالوں میں عملےکی قلت سے اوپی ڈی ، سرجری اور دیگر خدمات متاثررہیں ۔ 

   نائر ،کےای ایم ، سائن اورکوپر اسپتالوں میں ڈاکٹروں نے صبح ٹھیک ۱۰؍بجے مذکورہ معاملہ میں اپنی ناراضگی کا اظہار کر نے کیلئے احتجاج کیا اور  حکومت کے فیصلے کی کھل کر مخالفت بھی کی۔اس دوران ایمرجنسی سروسیز، کیزوئلٹی، آئی سی یو ، میٹرنیٹی وارڈ اور دیگر ضروری   خدمات جاری رکھنےکی کوشش کی گئی تاکہ مریضوںکو کم سےکم پریشانی ہو۔  

یہ بھی پڑھئے: رانچی میں طلبہ کا احتجاج شدید تر، مزید ۵؍ بھوک ہڑتال پر بیٹھے

’’میری والدہ کا سی ٹی اسکین نہ ہوسکا‘‘

مدنپورہ  کی بھاجی گلی میں رہائش پزیر  محمد عقیل انصاری نے بتایا کہ ’’ میری ۶۶؍ سالہ والدہ   سانس لینے میں تکلیف کی وجہ سے نائر اسپتال کے وارڈ نمبر ۱۶؍ میں زیر علاج تھیں، بدھ کو ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے ان کا سی ٹی اسکین نہیں ہوسکا۔ ہڑتال  سےمیری والدہ کو اسپتال سے رخصت کر دیا گیاہے ۔ ڈاکٹروں نے ہڑتال ختم ہونے کے بعد آنے کیلئے کہا ہے ۔مجھے اُمید تھی کہ سی ٹی اسکین کے بعد ان کاعلاج ہو جائے گا لیکن اب کب علاج ہوگا، کہا نہیں جاسکتا ۔ ڈاکٹروں نے یہ بھی بتایا ہےکہ ہڑتال غیر معینہ مدت کیلئے ہے لہٰذا آپ نجی طور پر اگر سی ٹی اسکین کراسکتے ہیں تو کرالیں۔ مجموعی طور پر ڈاکٹروںکی ہڑتال سے میری پریشانی بڑھ گئی ہے ۔ ‘‘ ایک سوال کے جواب میں محمد عقیل نے بتایا کہ ’’  اس وارڈ   سے میری والدہ کے علاوہ دیگر ۵،۶؍ مریضوں کو بھی ہڑتال کا جواز پیش کر کے رخصت کردیا گیا۔‘‘

میڈیکل سوشل ورکر شعیب ہاشمی کےمطابق ’’مارڈز نے بدھ سے اوپی ڈی بند کرنےکا اعلان کیا تھالیکن سینئر ڈاکٹروں نے سنگین بیماری میں مبتلا افراد کا اوپی ڈی میں معائنہ جاری رکھا۔  اوپی ڈی میں ریسیڈنٹ ڈاکٹر نہ ہونے سے عام مریضوں کو  دشواریاں ہوئیں ۔میرے ساتھ جو مریض علاج کیلئے آئے تھے ،نائر اور جے جے اسپتال کے اوپی ڈی میں ان کا سینئر ڈاکٹروں نے معائنہ کیا۔‘‘

طبی خدمات متاثر

جے جے اسپتال کی میڈیکل ریکارڈ آفیسر یوگنی پٹواری کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ’’جے جے ا سپتال کے اوپی ڈی میں روزانہ اوسطاً ایک ہزار ۷۳۵؍ مریضوں کامعائنہ کیا جاتا ہے لیکن عملے کی قلت سے بدھ کو ایک ہزار ۳۳۳؍ مریضوں کا ہی معائنہ کیاگیا۔اسی طرح کیزوئلٹی میں ۱۷۵؍ کےبجائے صرف ۳۹؍ مریضوںکی جانچ ہوسکی ۔ یہاں روزانہ اوسطاً ۳۹؍ بڑے اور ۵۷؍ چھوٹے آپریشن کئے جاتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کی کمی سے ۴؍ بڑے اور ۱۰؍ چھوٹے آپریشن ہی کئے گئے جبکہ نائر اسپتال کے اوپی ڈی میں صرف ۴۳۲؍ نئے مریضوں  اور ۷۰۰؍ پرانے مریضوں کا فالواپ لیاگیا اور آپریشن کے نام پر ۱۱؍بڑے اور ۱۸؍چھوٹے آپریشن کئے گئے ۔ کوپر اسپتال میں ۸؍بڑے اور ۵؍چھوٹے آپریشن کئےگئے جو روزانہ ہونے والی اوپی ڈی اور آپریشن کی تعداد سے کافی کم ہے ۔ اسی طرح دیگر اسپتالوں میں بھی عملے کی کمی سےطبی کام کاج متاثر رہا ۔ کوپر اسپتال میں ۱۷۵؍ ریسیڈنٹ ڈاکٹروں میں سے صرف ۵؍ڈاکٹر ڈیوٹی پر تھے جس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ دیگر اسپتالوں میں ریسیڈنٹ ڈاکٹروں کی حاضری کتنی کم رہی ہوگی۔ مجموعی طور پر ریسیڈنٹ ڈاکٹروں کے ڈیوٹی پر نہ ہونے سے عام مریضوں کو بڑی دقت ہوئی۔ 

یہ بھی پڑھئے: عوام کا کام کیجئے ورنہ میں عہدے سے برطرف کر دوں گا: شندے کا وزراء کو انتباہ

’’ریاستی حکومت کا موقف ناقابل قبول‘‘

مہاراشٹر اسوسی ایشن آف ریسیڈنٹ ڈاکٹرز  ( مارڈز)نے بدھ کی نصف شب سے غیر معینہ مدت کیلئے ریاست گیر ہڑتال شروع کی جس  میں فارما کو لو جی کا مختصر کورس مکمل کرنے والے ہومیوپیتھی پریکٹیشنرز کو مہاراشٹر میڈیکل کاؤنسل ( ایم ایم سی ) کے رجسٹریشن دینے کے ریاستی حکومت کے اقدام کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ مہاراشٹر کے سرکاری میڈیکل کالج اسپتالوں میں او پی ڈی خدمات، انتخابی طریقہ کار، معمول کے فرائض اور تعلیمی سرگرمیاں فوری طور پر معطل کردی گئی ہیں ۔ ریسیڈنٹ ڈاکٹروں نے بدھ کی صبح ۱۰؍ بجے   ریاست بھر کے سرکاری میڈیکل کالجوں میں  جمع ہوکر احتجاج کیا جسے کئی اتحادی اداروں کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ نائر ، کے ای ایم اور سائن اسپتالوں میں ریسیڈنٹ ڈاکٹروں نے باقاعدہ احتجاج کیا۔ مارڈز کے مطابق ریاستی حکومت نے اس معاملہ میں جو موقف اختیار کیا ہے،  وہ ہمارے لئے ناقابل قبول ہے ۔ اس لئے سینٹرل مارڈز نے غیر معینہ مدت ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK