ایپل کے نئے آئی فون ۱۸؍ پرو اور آئی فون ۱۸؍ پرو میکس کے کچھ صارفین نے ایک ایسے مسئلے کی شکایت کی ہے جس میں فیس آئی ڈی کے ذریعے فون ان لاک کرنے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد ڈیوائس عارضی طور پر فریز ہوجاتا ہے۔
EPAPER
Updated: September 24, 2026, 9:08 PM IST | New Delhi
ایپل کے نئے آئی فون ۱۸؍ پرو اور آئی فون ۱۸؍ پرو میکس کے کچھ صارفین نے ایک ایسے مسئلے کی شکایت کی ہے جس میں فیس آئی ڈی کے ذریعے فون ان لاک کرنے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد ڈیوائس عارضی طور پر فریز ہوجاتا ہے۔
ایپل کے نئے آئی فون ۱۸؍ پرو اور آئی فون ۱۸؍ پرو میکس کے کچھ صارفین نے ایک ایسے مسئلے کی شکایت کی ہے جس میں فیس آئی ڈی کے ذریعے فون ان لاک کرنے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد ڈیوائس عارضی طور پر فریز ہوجاتا ہے۔ صارفین کی رپورٹس کے بعد ایپل نے اس مسئلے کا نوٹس لیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایک سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے ذریعے اس خرابی کو دور کرنے پر کام کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مسئلہ اس وقت سامنے آتا ہے جب صارف فیس آئی ڈی سے آئی فون ان لاک کرنے کی کوشش کرتا ہے اور چہرے کی شناخت مکمل نہیں ہوپاتی۔ بعض صورتوں میں فون اسکرین پر وہیں رک جاتا ہے اور ٹچ ان پٹ یا دیگر کمانڈز کا فوری جواب نہیں دیتا۔ اس صورتحال نے خاص طور پر ان صارفین کو پریشان کیا ہے جو نئے آئی فون ۱۸؍ پرو کو روزمرہ استعمال میں لا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ویر داس کو’ ’فُل والیوم‘‘ کے لیے تیسری بار انٹرنیشنل ایمی میں نامزدگی ملی
فیس آئی ڈی ایپل کے بایومیٹرک سکیورٹی سسٹم کا حصہ ہے، جو صارف کے چہرے کو شناخت کرکے فون کو ان لاک کرتا ہے۔ عام طور پر اگرفیس آئی ڈی ناکام ہوجائے تو آئی فون صارف سے پاس کوڈدرج کرنے کے لیے کہتا ہے تاہم سامنے آنے والی شکایات میں بتایا گیا ہے کہ بعض حالات میں فیس آئی ڈی کی ناکامی کے بعد یہی عمل معمول کے مطابق آگے نہیں بڑھتا اور آئی فون عارضی طور پر غیر responsive ہوجاتا ہے۔ اس خرابی کا تعلق بظاہرآئی او ایس سافٹ ویئر اور فیس آئی ڈی آتھنٹیکیشن پروسیس کے درمیان پیدا ہونے والے مسئلے سے جوڑا جارہا ہے۔ تاہم ایپل نے ابھی اس تکنیکی خرابی کی مکمل وجہ عوامی طور پر بیان نہیں کی ہے۔
ایپل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس مسئلے کے لیے آئندہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹ میں حل فراہم کیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ صارفین کو فوری طور پر کسی ہارڈویئر تبدیلی یا فون تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے، اگر مسئلہ واقعی اسی سافٹ ویئر بگ سے متعلق ہے جس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ صارفین کے لیے یہ بھی اہم ہے کہ وہ اپنے آئی فون میں دستیاب آئی او ایس اپڈیٹس کو باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں۔ ایپل عام طور پر بگز اور سیکورٹی مسائل کو سافٹ ویئر اپ ڈیٹس کے ذریعے دور کرتا ہے، اس لیے متعلقہ اپ ڈیٹ دستیاب ہونے پر اسے انسٹال کرنا مسئلے کے حل کا بنیادی طریقہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:ممبئی انڈینس نے ڈبلیو پی ایل ۲۰۲۷ء سے قبل لیوک ولیمز کو ہیڈ کوچ مقرر کیا
نئے آئی فون ماڈلز کے آغاز کے بعد ابتدائی سافٹ ویئر مسائل کا سامنے آنا ٹیکنالوجی کی دنیا میں غیر معمولی بات نہیں ہے۔ نئے ہارڈویئر، کیمرہ، بایومیٹرک سسٹمز اور نئےآئی او ڈی فیچرز کے ساتھ بڑی تعداد میں صارفین کا استعمال شروع ہونے پر بعض ایسے بگز سامنے آسکتے ہیں جو ٹیسٹنگ کے دوران واضح نہیں ہوئے ہوتے۔
آئی فون ۱۸؍ پرو میں فریزنگ کا مسئلہ کی موجودہ شکایت میں خاص دلچسپی اس لیے بھی پیدا ہوئی ہے کیونکہ فیس آئی ڈی آئی فون کے بنیادی سیکورٹی اور ان لاکنگ سسٹم کا حصہ ہے۔ اگر ان لاکنگ کے عمل کے دوران فون فریز ہوجائے تو صارف کو روزمرہ استعمال میں خاصی دقت کا سامنا ہوسکتا ہے۔
جب تک ایپل کا باقاعدہ سافٹ ویئر فکس دستیاب نہیں ہوتا، اگر کسی صارف کو فیس آئی ڈی فیل ہونے کے بعد آئی فون کے عارضی طور پر فریز ہونے کا سامنا ہو تو وہ ایپل کی جانب سے تجویز کردہ بنیادی ٹربل شوٹنگ اقدامات استعمال کرسکتا ہے، جن میں ڈیوائس کو دوبارہ شروع کرنا اور فیس آئی ڈی کی سیٹنگز چیک کرنا شامل ہوسکتا ہے۔ اگر مسئلہ بار بار پیش آئے تو ایپل سپورٹ سے رابطہ کرنا بھی مناسب ہوگا۔