مرکزی وزیر داخلہ امیت کے مغربی بنگال کے حالیہ دوروں کے دوران مسلم افسران کو اہم میٹنگوں سے دور رکھنے اور بے دخل کرنے سےمتعلق رپورٹنگ کرنے پر آن لائن نیوز پورٹل مکتوب میڈیا پر مغربی بنگال پولیس نےمختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔
EPAPER
Updated: September 24, 2026, 9:07 PM IST | Kolkata
مرکزی وزیر داخلہ امیت کے مغربی بنگال کے حالیہ دوروں کے دوران مسلم افسران کو اہم میٹنگوں سے دور رکھنے اور بے دخل کرنے سےمتعلق رپورٹنگ کرنے پر آن لائن نیوز پورٹل مکتوب میڈیا پر مغربی بنگال پولیس نےمختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔
کولکاتا: مغربی بنگال پولیس نے آن لائن نیوز پورٹل مکتوب میڈیا کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ کارروائی ترنمول کانگریس کی رکنِ پارلیمنٹ مہوا موئترا کے ان الزامات کی کوریج پر کی گئی ہے جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے دورۂ ریاست کے دوران سینئر مسلم آئی پی ایس اور آئی اے ایس افسران کو سرکاری میٹنگوں سے باہر رکھا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ معلومات جھوٹی ہیں، لیکن موئترا کے ان الزامات کو سامنے آئے کئی ہفتے گزر جانے کے باوجود حکومت یا پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ تردید یا اس کاانکار نہیں کیا گیا ہے، جبکہ دوسری طرف قومی اقلیتی کمیشن نے اس معاملے پر ریاستی حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔پولیس نے مکتوب میڈیا کی ایکس پوسٹ اور ان کے یوٹیوب چینل پر اپلوڈہونے والی ویڈیو کی بنیاد پر ۱۹؍ ستمبر کو بِدھن نگر سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ یہ کارروائی سورَو بنرجی نامی شخص کی تحریری شکایت پر کی گئی ہے۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ مکتوب میڈیاکی پوسٹس میں ’’قابلِ اعتراض گرافکس ‘‘اور ایسے تبصرے شامل ہیں جن سے عوامی امن میں خلل پڑ سکتا ہے اور دشمنی کو فروغ مل سکتا ہے۔ پولیس نے یہ مقدمہ بی این ایس کی دفعات ۱۹۶؍(۱)، ۲۹۹؍، ۳۵۳؍ (۱)(بی)، ۳۵۳؍ (۱)(سی)، ۳۵۳؍ (۲) اور ۳۵۶؍ (۲) کے تحت درج کیا ہے، جو مذہبی جذبات کو مجروح کرنے، عوامی افواہ پھیلانے اور بدنامی سے متعلق ہیں۔ ایف آئی آر میں ملزم کی جگہ ’’نا معلوم ۱؍‘‘ درج کیا گیا ہے ، فی الحال مکتوب کے کسی صحافی یا ایڈیٹر کو نامزد نہیں کیا گیا ہے۔ایکس کو بھیجے گئے خط میں پولیس نے مکتوب میڈیا کی پوسٹ کو ’’مکمل طور پر من گھڑت ‘‘اور ’’بدنیتی پر مبنی‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس سے ایک عوامی شخصیت کے موقف کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ پولیس نے ایکس سے مکتوب میڈیا کےاکاؤنٹ کی لاگ اِن تفصیلات اور اینڈرائیڈ ڈیوائس کی معلومات مانگی ہیں۔ تاہم عجیب بات یہ ہے کہ پولیس نے یکم فروری سے ۵؍ فروری ۲۰۲۶ء کے درمیان کی لاگ ان تفصیلات طلب کی ہیں، جو کہ ان دوروں اور سوشل میڈیا پوسٹس سے مہینوں پہلے کی مدت ہےاور اس کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسپیکر اوم برلا کے طرز عمل پر سپریم کورٹ کا حیرت کااظہار
مکتوب میڈیاکو اس ایف آئی آر کی اطلاع ایکس کی طرف سے بذریعہ ای میل ملی ہے۔ اس کے علاوہ قانونی نوٹس کے بعد ۱۹؍ ستمبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم میٹا نے بھی مہوا موئترا کے ان الزامات پر مبنی گرافک پوسٹرز کو ہندوستان میں اپنے انسٹاگرام پلیٹ فارم سے ہٹا دیا ۔یہ تمام تر کارروائیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب مہوا موئترا نے اس معاملے کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر شدت سے اٹھایا ہے۔ موئترا نے ۱۸؍ ستمبر کو قومی اقلیتی کمیشن میں باقاعدہ شکایت درج کروائی تھی، جس پر کمیشن نے ۲۱؍ ستمبر کو مغربی بنگال کے چیف سکریٹری سے ۱۰؍ دنوں کے اندر جواب طلب کیا ہے۔ موئترا کا الزام ہے کہ جولائی اور اگست۲۰۲۶ء میں امیت شاہ کے دوروں کے دوران سلی گوڑی کے پولیس کمشنر سید وقار رضا (آئی پی ایس)، مغربی بنگال ایس ٹی ایف کے ڈائریکٹر جنرل جاوید شمیم (آئی پی ایس) اور فائر سروسز کے ایڈیشنل چیف سکریٹری خلیل احمد (آئی اے ایس) کو دانستہ طور پر اہم سرکاری میٹنگوں اور پروٹوکول ڈیوٹی سے باہر رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: الیکشن کمشنروں کی تقرری کے قانون پرآئینی بنچ میں سماعت
تفصیلات کے مطابق، ۱۸؍ جولائی کو سلی گوڑی میں بنگلہ دیش سرحد کی سیکیورٹی کا جائزہ لینے والی میٹنگ سے سلی گوڑی کے پولیس کمشنر سید وقار رضا کو باہر جانے کیلئے کہا گیا، حالانکہ سلی گوڑی ہی بنگلہ دیش سے متصل واحد پولیس کمشنریٹ ہے اور اس کے حدود سلی گوڑی کوریڈور تک ہیں۔ اس کے علاوہ وقار رضا کا نام اور عہدہ پروٹوکول کی فہرست سے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ آئی جی نارتھ بنگال سکیش جین کو شامل کیا گیا۔ اسی میٹنگ سے ایس ٹی ایف کے سربراہ جاوید شمیم کو بھی ہٹا کر آئی جی گورو شرما کو بھیجا گیا۔ اگلے دن ۱۹؍ جولائی کو کولکاتا میں امن و امان سے متعلق میٹنگ میں فائر سروسز کے سب سے سینئر افسر خلیل احمد کے پہنچنے کے بعد انہیں میٹنگ چھوڑکر جانے کو کہا گیا اور جاوید شمیم کو دوبارہ باہر رکھا گیا۔ ۲۰؍ سے ۲۲؍ اگست کے دوسرے دورے میں بھی یہی سلسلہ دہرایا گیا، جہاں وقار رضا کو سرحد کے جائزے اور جاوید شمیم کو نئے فوجداری قوانین سے متعلق نمائش سے باہر رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’آر ایس ایس اور حزب المجاہدین میں کوئی فرق نہیں‘‘
مہوا موئترا کا کہنا ہے کہ ان تینوں افسران کے پورٹ فولیو ان میٹنگوں کے موضوعات سے براہِ راست متعلق تھے اور ان کے ساتھ ہونے والی اس بے دخلی کی واحد مشترکہ وجہ ان کا مسلم ہونا ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے اقلیتی امور کے خصوصی نمائندے نیکولس لیورات کو بھی خط لکھ کر اس معاملے کی جانچ کرنے اور سی سی ٹی وی فٹیج و سرکاری ریکارڈز کو محفوظ رکھنے کی اپیل کی ہے۔ واضح رہے کہ ستمبر کے آغاز میں جب مہوا موئترا نے ان الزامات کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تھا، تو مغربی بنگال پولیس نے ان کے خلاف بھی ایک ایف آئی آر درج کی تھی۔