کروڑوں روپے کی لاگت سے جاری مرکزی حکومت کے اہم ’ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور‘ (ڈی ایف سی) منصوبے میں ڈونگے اور وڑگھر کے قریب مٹی کے بھراؤ کو بارش سے بچانے کے لئے پلاسٹک ترپال اور سیمنٹ کی بوریوں کا عارضی سہارا دیئے جانے سے منصوبے کی تعمیراتی کیفیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ڈونگے اور وڑگھر کے قریب مٹی کے بھراؤ کو سیمنٹ کی بوریوں سے سہارادیا گیاہے۔ تصویر: آئی این این
کروڑوں روپے کی لاگت سے جاری مرکزی حکومت کے اہم ’ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور‘ (ڈی ایف سی) منصوبے میں ڈونگے اور وڑگھر کے قریب مٹی کے بھراؤ کو بارش سے بچانے کے لئے پلاسٹک ترپال اور سیمنٹ کی بوریوں کا عارضی سہارا دیئے جانے سے منصوبے کی تعمیراتی کیفیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے مستقل کنکریٹ حفاظتی دیوار کی تعمیر کا مطالبہ کیا جا رہا تھا لیکن بروقت اقدام نہ ہونے کے باعث موسلادھار بارش میں مٹی کھسکنے لگی اور ریلوے ٹریک کی سلامتی پر بھی خدشات پیدا ہوگئے۔ ڈی ایف سی کا راستہ بھیونڈی کے دیوا-وسئی ریلوے روٹ سے گزر رہا ہے۔ شہر کے بڑے گودام کاروبار کے پیش نظر اس منصوبے کو علاقے کی تجارتی ترقی کے لئے اہم قرار دیا جا رہا ہےلیکن کروڑوں روپے کے منصوبے کے ایک اہم حصے کو عارضی انتظامات کے سہارے چھوڑے جانے پر شہریوں میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۵؍ سال میں مہاراشٹر کی ۳۶؍ ہزار نجی کمپنیاں بند!
بارش کے دوران مٹی کے بھراؤ کو مزید کھسکنے سے روکنے کے لئے ٹھیکیدار نے پلاسٹک ترپال اور سیمنٹ کی بوریوں کا سہارا لیا جبکہ بدھ سے پوکلین مشین کے ذریعے کھدائی اور مرمتی کام شروع کردیا گیا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ محض عارضی مرمت پر اکتفا کرنے کے بجائے مستقل کنکریٹ حفاظتی دیوار کے ساتھ ڈرینج لائن بھی تعمیر کی جائے، تاکہ پانی کے جمع ہونے اور مٹی کھسکنے کا مسئلہ مستقل طور پر حل ہوسکے۔ اس معاملے پر رکن پارلیمنٹ اور مرکزی وزارتِ ریلوے کی مشاورتی کمیٹی کے رکن سریش مہاترے( بالیا ماما) نے کہا کہ جلد ہی ریلوے کے اعلیٰ حکام کے ساتھ میٹنگ کی جائے گی۔ شہریوں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ ٹھیکیدار اور ریلوے انتظامیہ سے مستقل کنکریٹ حفاظتی دیوار اور ڈرینج لائن تعمیر کرنے کامطالبہ کیا جائےگا۔