Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: عوامی مسائل پر کارپوریٹرز اور انتظامیہ کے درمیان سخت بحث

Updated: May 09, 2026, 11:17 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

جنرل باڈی میٹنگ میں نالوں کی صفائی، غیر قانونی تعمیرات اور کرایہ داروں کے حقوق پر زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی۔

Various issues were discussed and debated in the general body meeting. Photo: INN
جنرل باڈی میٹنگ میں مختلف مسائل پر گفتگو اور بحث ہوئی۔ تصویر: آئی این این

قانونی تعمیرات کے مسئلے پر این سی پی (شرد) کے کارپوریٹر فراز بہاؤالدین( بابا) نے سخت لب و لہجہ میں گفتگو کی۔ انہوں نے ایوان میں سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ پربھاگ سمیتی ۵؍ کے وارڈ افسر پر مبینہ طور پر غیر قانونی تعمیرات اور خطرناک عمارتوں کے نام پر بلڈروں سے لاکھوں روپے طلب کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرمت کیلئے ۳؍ لاکھ روپے جبکہ دکانداروں سے ۱۰؍ ہزار روپے تک وصول کئے جاتے ہیں۔ فراز بابا نے ایسے افسران کو دی گئی سرکاری گاڑیاں واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔ 
اگرچہ وارڈ افسرنے ان الزامات کا جواب دیااور صفائی پیش کی مگر کئی کارپوریٹروں نے ان کی وضاحت کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے سخت ناراضگی ظاہر کی۔ میٹنگ میں سب سے زیادہ حساس موضوع پگڑی نظام کے تحت رہنے والے مستقل کرایہ داروں کے حقوق کا رہا۔ شندے سینا کے گروپ لیڈر منوج کاٹیکر نے الزام لگایا کہ بعض عمارتوں کو جان بوجھ کر انتہائی مخدوش قرار دے کر فوری کارروائی کی جاتی ہے تاکہ زمین خالی کراکر مخصوص لوگوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل انتظامیہ بعض معاملات میں زمین خالی کرانے کے کاروبار میں تبدیل ہو چکی ہے۔ 
منوج کاٹیکر نے زوردیکر کہا کہ پگڑی نظام کے تحت کئی خاندان گزشتہ کئی دہائیوں سے ان عمارتوں میں مقیم ہیں، اس لئے کسی بھی انہدامی کارروائی سے پہلے ان کا باقاعدہ پنچنامہ کیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مستقل کرایہ داروں کے حقوق، رہائشی حیثیت اور قانونی تحفظ کو یقینی بنائے بغیر کسی بھی عمارت کو خالی نہ کرایا جائے۔ 

یہ بھی پڑھئے: مسافروں کو طویل قطاروں سے بچانے کیلئے ریلوے کا نیانظم

اجلاس کے دوران متعدد اراکین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ خستہ حال عمارتوں کے نام پر کی جانے والی کارروائیوں میں شفافیت کا فقدان ہے اور متاثرہ خاندانوں کو مناسب متبادل یا تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا۔ میٹنگ میں مطالبہ کیا گیا کہ خطرناک قرار دی جانے والی عمارتوں کا غیر جانبدارانہ تکنیکی آڈٹ کرایا جائے اور پگڑی نظام کے تحت رہنے والے مستقل کرایہ داروں کے حقوق کے تحفظ کیلئے واضح پالیسی بنائی جائے۔ 
میٹنگ کے آغاز ہی میں بی جے پی کے کارپوریٹر سُمیت پاٹل نے انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوال کیا کہ مانسون سر پر ہونے کے باوجود نالہ صفائی میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے؟ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ کہیں یہ تاخیر مخصوص ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے تو نہیں ہو رہی؟ اس پر ایوان میں کافی شور شرابہ بھی ہوا۔ 
بی جے پی کے کارپوریٹر یشونت ٹاورے نے تجویز پیش کی کہ ہر سال کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود نالہ صفائی کے نتائج نظر نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میونسپل کارپوریشن اپنی جے سی بی، پوکلین اور ڈمپر خرید کر سال بھر صفائی کا نظام خود سنبھالے تو نہ صرف اخراجات کم ہوں گے بلکہ کام بھی مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکے گا۔ 
کارپوریٹر روہت چودھری نے کہا کہ صرف ۲۰؍ دنوں میں ٹھیکیدار معیاری صفائی نہیں کر سکتے، اس لئے صفائی کا کام مقامی کارپوریٹروں کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔ شندے سینا کے کارپوریٹر کملاکر پاٹل نے بھی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں تاخیر سے کی گئی صفائی کا خمیازہ شہریوں کو بھگتنا پڑا ہے۔ انہوں نے ہر وارڈ میں نگرانی کمیٹی قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK