ٹیکہ کاری سے محروم بچوں تک رسائی، گھریلو زچگی کی حوصلہ شکنی اور کچرا الگ رکھنے پر زور ،شہریوں میں صفائی سے متعلق ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے کی اپیل۔
EPAPER
Updated: September 11, 2026, 10:44 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
ٹیکہ کاری سے محروم بچوں تک رسائی، گھریلو زچگی کی حوصلہ شکنی اور کچرا الگ رکھنے پر زور ،شہریوں میں صفائی سے متعلق ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے کی اپیل۔
شہر کو صاف ستھرا رکھنے کی ذمہ داری صرف میونسپل کارپوریشن کی نہیں بلکہ ہر شہری کی ہے اور اس پیغام کو سماج کے ہر طبقے تک پہنچانے میں مذہبی رہنما اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت بھیونڈی نظام پور میونسپل کارپوریشن کی جانب سے مذہبی رہنماؤں کی خصوصی میٹنگ منعقد کی گئی جس میں کمشنر انمول ساگر نے مذہبی پیشواؤں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اجتماعات اور سماجی رابطوں کے ذریعے شہریوں میں صفائی سے متعلق ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔
کمشنر نے کہا کہ مذہبی رہنماؤں کی بات عوام توجہ اور اعتماد کے ساتھ سنتے ہیں، اس لئے اگر صفائی کا پیغام مذہبی و سماجی پلیٹ فارموں سے مسلسل دیا جائے تو اس کے مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ جس طرح وہ اپنے گھروں کو صاف رکھتے ہیں، اسی طرح گھر کے اطراف اور اپنے محلے کو بھی صاف رکھنے کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔
یہ بھی پڑھئے:سی جے پی احتجاج: ۱۴؍ سالہ لڑکی کو ہراساں کئے جانے پر سپریم کورٹ سخت برہم
میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کانفرنس ہال میں منعقدہ اس میٹنگ میں مسلم علماء، ہندو پنڈت، بدھ مذہب کے نمائندوں، آئی ایم اے کے ڈاکٹروں اور محکمہ صحت کے افسران نے شرکت کی۔ میٹنگ میں صحت عامہ سے متعلق مختلف امور کے ساتھ صفائی کو خصوصی اہمیت دی گئی۔
گیلے اور خشک کچرے کی علاحدہ نکاسی کو مؤثر بنانے پر زور دیتے ہوئے شہریوں سے کہا گیا کہ وہ کچرے کو مقررہ طریقے سے جمع کریں اور سڑکوں، گلیوں اور رہائشی علاقوں میں کچرا پھینکنے سے گریز کریں۔ میٹنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ شہریوں کے تعاون کے بغیر صفائی کے لئے میونسپل کارپوریشن کی کوششیں مکمل کامیابی حاصل نہیں کرسکتیں۔میٹنگ کا مرکزی نکتہ یہ رہا کہ سرکاری سطح پر چلنے والی صحت مہمات کو سماج کے بااثر افراد کے تعاون سے مزید مؤثر بنایا جائے۔ خاص طور پر ان بچوں تک پہنچنے پر توجہ دی گئی جن کی معمول کی ٹیکہ کاری نہیں ہو رہی ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق ٹیکہ کاری بچوں کو۱۱؍ سنگین بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ شہر کی بعض عمارتوں میں صحت کارکنوں کو داخلے کی اجازت نہ ملنے سےٹیکہ کاری کا ریکارڈ اور بچوں کی معلومات حاصل کرنے میں پیش آنے والی دشواریوں پر بھی غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی برکس کیلئے تیار، اہم لیڈروں کی شرکت
گھریلو زچگی کے بجائے محفوظ ادارہ جاتی زچگی کی ترغیب دینے پر بھی زور دیا گیا۔ حکام نے واضح کیا کہ زچگی کے دوران اچانک پیچیدگی، آپریشن یا خون کی ضرورت پیش آنے کی صورت میں گھر پر فوری طبی سہولت دستیاب نہ ہونے سے ماں اور بچے کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اس لئے خاندانوں میں محفوظ زچگی کے تعلق سے بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔
میٹنگ کا انعقاد چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر سندیپ گادیکر اور ٹی بی شعبہ کی انچارج افسر ڈاکٹر بشرا سید نے کیا۔ دو گھنٹے جاری رہنے والی اس میٹنگ میں مذہبی رہنماؤں اور محکمہ صحت کے نمائندوں نے شہریوں کی صحت اور صاف ستھرے ماحول کے لئے باہمی تعاون سے بیداری مہم کو آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔