Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناگپاڑہ: بجلی کی قلت، عوام پریشان، شدید گرمی اور اندھیرے میں وقت گزارنے پر مجبور

Updated: March 08, 2026, 1:25 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

ناگپاڑہ کےعلاوہ ڈنکن روڈ اور کماٹی پورہ میں ۲۴؍گھنٹے بجلی غائب رہی ، بجلی نہ ہونے سے پانی کی قلت کاسامنا کرناپڑا، کثیر منزلہ عمارتوںکی لفٹ بندہونے سے مکینوںکو دشواری ہوئی۔

Nagpada is plunged into darkness due to power outage. Photo: INN
ناگپاڑہ میں بجلی غائب ہونے سےا ندھیر ا چھایا ہوا ہے۔تصویر: آئی این این

ناگپاڑہ، ڈنکن روڈ اور کماٹی پورہ میں تقریباً ۲۴؍ گھنٹے بجلی نہ ہونے سے عوام کو شدید پریشانی ہوئی ۔ جمعہ کی صبح ۴؍بجے سے سنیچر کی الصباح تقریباً ساڑھے ۴؍بجے تک بجلی سپلائی متاثر ہونے سے سورتی محلہ، ڈیمٹمکر روڈ ، کھانڈا محلہ، چوکی محلہ اور تیلی محلہ کے علاوہ اطراف کے دیگر علاقوں کے مکینوں کو شدید گرمی اور اندھیرے میں وقت گزارنا  پڑا ۔بجلی نہ ہونے سےپانی کی موٹر بند ہونے سے پانی کی قلت کا سامنا رہا۔ جن کثیر منزلہ عمارتوں میں جنریٹر کی سہولت نہیں ہے ،ان عمارتوں کے مکینوں کو لفٹ بند ہونے سے بڑی دقت ہوئی۔ بیلاسس روڈ کے ۲؍ مقامات پر میجر الیکٹر ک کیبل فالٹ ہونے سے بجلی سپلائی تقریباً ۲۴؍گھنٹے متاثر رہی ۔ناگپاڑہ میونسپل اسکول کے قریب واقع ۱۷؍ منزلہ مصطفیٰ پیلس کی ۱۴؍ویں منزل پر رہائش پزیر انصاری توفیق احمد کے مطابق ’’ہماری بلڈنگ کی بجلی جمعہ کی الصباح ۶؍بجے گئی تھی ۔ جنریٹرکی سہولت نہ ہونے سے بلڈنگ کی لفٹ بند ہوگئی تھی  جس کی وجہ سے میں فجرکی نماز کے بعد گھر نہیں جاسکا ۔ مجبوراً سارا دن آگری پاڑہ پر اپنے چھوٹے بھائی کے گھر پر رہا۔ شام تک بجلی کے نہ آنے پر اہلیہ اور بچوںکو بھی چھوٹے بھائی کے گھر پر بلا لیا۔ اہلیہ اوربچوں کو ۱۴؍ ویں منزل سے سیڑھی سے اُتر ناپڑا۔میرے ایک بیٹے کا سنیچر کو امتحان بھی تھا ۔اسے میں نے چھوٹے بھائی کےگھر سے سنیچر کو اسکول پہنچایا ۔ مجموعی طورپر بجلی منقطع ہونے سے بڑی پریشانی ہوئی ۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ریاست میں ۳۰۰؍ کروڑ درخت لگانے کا وزیر اعلیٰ کا عزم

سورتی محلہ کے ریحان وارثی کے بقول’’ بجلی نہ ہونے سے جمعہ کو جہاں پانی بھرنے میں دقت ہوئی وہیں سنیچرکو میرا کارخانہ پوری طرح بند رہا۔ میرازری کا کاروبار ہے جس کیلئے روشنی بہت ضروری ہے ۔ بجلی نہ ہونے سے سارا کام کاج بند رہا ۔ ‘‘
 ناگپاڑہ جنکشن پر واقع ایک ۳۲؍ منزلہ عمارت کی ۱۱؍ویں منزل پر رہنے والے دلشاد صدیقی نے بتایا کہ ’’ہماری بلڈنگ میں جمعہ کو پہلے صبح ۴؍بجے بجلی غائب ہوئی، بعدازیں پونے ۶؍بجے بجلی بحال ہوئی اور پھر ساڑھے ۶؍بجے گئی توسارا دن بجلی نہیں آئی ، پھرسنیچرکی رات ڈیڑھ بجے ہی بجلی آئی ۔ اس دوران کافی پریشانی ہوئی ۔ بلڈنگ میں جنریٹرکی سہولت ہونے سے ایک لفٹ کام کر رہی تھی لیکن اس میں صرف ۶؍افراد کی گنجائش تھی جس کی وجہ سے لفٹ پر ضرورت سے زیادہ بوجھ رہا، علاوہ ازیں جنریٹر سے ۲۴؍ گھنٹے لفٹ نہیں چلائی جاسکتی تھی ۔ایسے میں لفٹ کے بندہونے پر بہت دقت ہوئی۔ مجھے جمعہ کی نمازکیلئے ۱۱؍ویں منزل سے سیڑھیوں سے اُترنا پڑا ۔ ‘‘
بیلاسس روڈپر واقع طہوراسوئٹس کے عقب کی ارشاد منزل میں رہنے والے عاصم خان نے بتایا کہ ’’تقریباً ۲۴؍ گھنٹے بجلی سپلائی بند ہونے سے بڑی تکلیف ہوئی ۔ رمضان المبارک میں روشنی نہ ہونے سے اندھیرے میںسحری اور افطار کا نظم کرنا پڑا ۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’ مہایوتی حکومت کا بجٹ قرض لے کر پٹاخے پھوڑنے جیسا ہے‘‘

کماٹی پورہ کے سابق کارپوریٹر جاوید جنیجا سے اس بارے میں استفسار کرنے پر انہوں نے بتایا کہ ’’دراصل بیلاسس روڈ پر مہاراشٹر کالج اور کے ڈی کمپنی کے قریب الیکٹرک کیبل کے ۲؍میجر فالٹ کی وجہ سے بجلی سپلائی منقطع ہوئی تھی۔ چونکہ ان دونوں فالٹ کو دور کرنے کا کام بڑا تھا ،اس لئے ان کی مرمت کا کام پورا کرنے میں کافی وقت لگا۔ اس کے باوجود بی ای ایس ٹی کے حکام نے بڑی تیزی سے کام مکمل کیا اور سنیچرکی الصباح ساڑھے ۴؍بجے بجلی سپلائی بحال ہوئی۔ ‘‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ میںنے اور رکن اسمبلی امین پٹیل نے بی ای ایس ٹی حکام سے درخواست کی ہے کہ ممبئی جیسے شہر میں اس طرح کا مسئلہ نہیں ہوناچاہئے اور اگر ہوتا بھی ہے تواس کیلئے متبادل انتظام ہوناچاہئے تاکہ عوام کو پریشانی نہ ہو۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK