• Tue, 03 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی : کروڑوں روپے ضائع، ٹریفک سگنل ناکارہ، ٹریفک جام سےپریشانی

Updated: February 03, 2026, 1:13 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

شہر میں نصب ٹریفک سگنل یا تو مکمل طور پر ناکارہ ہو چکے ہیں یا محض لوہے کے کھمبوں اور بیکار آلات کی شکل میں باقی رہ گئے ہیں۔

Signal closed at a location in Bhiwandi. Picture: INN
بھیونڈی میں ایک مقام پر بند سگنل۔ تصویر: آئی این این
پاورلوم نگری اس وقت شدید ٹریفک بحران سے دوچار ہے جس کے باعث عام شہریوں کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ایک سے دو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں گھنٹوں لگ رہے ہیں، جبکہ ایمبولینس، فائر بریگیڈ اور دیگر ہنگامی خدمات کی گاڑیاں بھی ٹریفک میں پھنس کر رہ جاتی ہیں،جو کسی بڑے حادثے کے خطرے کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔
اس سنگین صورتحال نے شہری انتظامیہ کی کارکردگی پر کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں، کیونکہ بھیونڈی نظام پور میونسپل کارپوریشن کی جانب سے ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے نام پر تقریباً دو کروڑ روپے خرچ کئے گئے، مگر شہر میں نصب ٹریفک سگنل یا تو مکمل طور پر ناکارہ ہو چکے ہیں یا محض لوہے کے کھمبوں اور بیکار آلات کی شکل میں باقی رہ گئے ہیں۔ سگنل نظام کے خاتمے کے بعد شہر کی سڑکوں پر ٹریفک بغیر کسی ضابطے کے چل رہی ہے اور ہر چوراہا مستقل بدنظمی کا منظر پیش کر رہا ہے۔دھامنکر ناکہ، زکات ناکہ، ونجار پٹی ناکہ، کلیان ناکہ اور بھادوڈ ناکہ جیسے مصروف ترین مقامات پر ٹریفک سگنل نصب کئے گئے تھے مگر یہ سگنل چند ہی دنوں میں بند ہو گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی مرمت اور دیکھ بھال بھی نظرانداز ہوتی رہی جس کے نتیجے میں پورا نظام ناکام ثابت ہوا۔ شہریوں کا الزام ہے کہ شہر میں بھاری گاڑیوں کا بے وقت داخلہ بدستور جاری ہے جس سے تنگ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی مزید متاثر ہو رہی ہے۔ ٹریفک اہلکار زیادہ تر کلیان ناکہ ٹریفک چوکی تک محدود دکھائی دیتے ہیں جبکہ دیگر حساس اور مصروف چوراہے لاوارث پڑے ہیں۔
شہری حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹریفک کنٹرول کے بجائے محکمہ کی توجہ محض چالان اور رسمی کارروائیوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے جس سے زمینی سطح پر ٹریفک مسائل حل نہیں ہو پا رہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ۲۰۰۹ء میں ریاستی حکومت نے ماحول دوست توانائی کے فروغ کے مقصد سے۱ء۲۰؍ کروڑ روپے کی لاگت سے شمسی توانائی سے چلنے والے ٹریفک سگنل منصوبے کی منظوری دی تھی۔ اس منصوبے کے تحت مختلف چوراہوں پر سگنل نصب کئے گئے مگر ناقص آلات، مبینہ بدعنوانی اور مسلسل دیکھ بھال کے فقدان کے باعث یہ منصوبہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ چند ہی برسوں میں پورا نظام بند ہو گیا اور عوامی سرمایہ ضائع ہو کر رہ گیا۔
اس معاملے پر بھیونڈی ٹریفک انچارج کشور کھرات نے اعتراف کیا کہ ناکارہ سگنل نظام سے ٹریفک کنٹرول میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’ماضی میں سڑکیں تنگ ہونے کے باعث سگنل مؤثر طریقے سے نہیں چل پا رہے تھے۔ اب سڑکوں کی توسیع کا کام جاری ہے۔ جیسے ہی یہ کام مکمل ہوگا، نئے ٹریفک سگنل اور ٹریفک کیمرے نصب کئے جائیں گے جس سے صورتحال میں بہتری آئے گی۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK