الہ آباد ہائی کورٹ کا واضح موقف، کہا:عوامی سڑک یا سرکاری جگہ استعمال ہونے کی صورت میں اجازت لازمی ہوگی، عدالتی فیصلے سے مذہبی گروپوں کو اطمینان۔
عدالتی حکم کے مطابق نجی زمین پر مذہبی تقریبات کیلئے اب اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہے۔ تصویر: آئی این این
الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اتر پردیش میں نجی ملکیت کے اندر مذہبی دعائیہ اجتماع منعقد کرنے کیلئے ریاستی حکومت سے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم عدالت عالیہ نے یہ بھی کہا کہ اگر ایسا اجتماع عوامی سڑک یا کسی سرکاری املاک تک پھیلتا ہے تو اس صورت میں متعلقہ حکام سے اجازت لینا لازمی ہوگا۔
یہ فیصلہ جسٹس اتل شری دھرن اور جسٹس سدھارتھ نندن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے دیا۔ عدالت نے یہ حکم اتر پردیش حکومت کی اس وضاحت کے بعد دیا کہ قانون میں کہیں بھی نجی احاطے میں مذہبی اجتماع کیلئے پیشگی اجازت لینے کی شرط موجود نہیں ہے۔ عدالت نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے دی گئی ہدایات کے مطابق درخواست گزار کو اپنے نجی احاطے میں مذہبی دعائیہ اجتماع منعقد کرنے سے روکنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ریاست کے تمام شہریوں کو بلا تفریق مذہب یا کسی اور بنیاد کے مساوی قانونی تحفظ حاصل ہے۔
ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ آئین ہند کے آرٹیکل ۲۵؍ کے تحت مذہبی آزادی ایک بنیادی حق ہے اور قانون کے مطابق ایسے کسی عمل کیلئے اجازت درکار نہیں ہو سکتی جو بنیادی حق کے دائرے میں آتا ہو، بشرطیکہ وہ سرگرمی مکمل طور پر نجی احاطے تک محدود ہو۔یہ معاملہ ’مارنتھا فل گاسپل منسٹریز اور ایمانوئیل گریس چیرٹیبل ٹرسٹ‘ کی جانب سے دائر کی گئی دو عرضیوں سے متعلق تھا، جن میں کہا گیا تھا کہ وہ اپنے نجی احاطے میں مذہبی عبادت کا اجتماع منعقد کرنا چاہتے ہیں، مگر ریاستی حکام ان کی درخواستوں پر کوئی کارروائی نہیں کر رہے تھے۔ عدالت نے ان دلائل پر غور کرتے ہوئے عرضیوں کو نمٹا دیا اور کہا کہ درخواست گزاروں کو اپنے نجی احاطے میں اپنی سہولت کے مطابق مذہبی عبادت کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور اس کیلئے ریاستی حکومت سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
تاہم عدالت نے یہ شرط بھی عائد کی کہ اگر کسی موقع پر ایسا اجتماع عوامی سڑک یا سرکاری جگہ تک پھیلنے کا امکان ہو تو درخواست گزار کو کم از کم پولیس کو مطلع کرنا ہوگا اور قانون کے مطابق ضروری اجازت حاصل کرنی ہوگی۔عدالت نے مزید کہا کہ ایسی صورت میں ریاست کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ درخواست گزار کی جان، مال اور حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنائے۔ اس تحفظ کو کس طرح فراہم کیا جائے گا، یہ پولیس کی صوابدید پر ہوگا۔اس مقدمے میں درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ منوج کمار اور اکال راج سنگھ نے عدالت میںبحث کی۔
غورطلب ہے کہ یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ نجی ملکیت میں نماز،مذہبی عبادت یا دعائیہ اجتماعات پر ریاست کی اجازت لازمی نہیں، جو شہریوں کے آئینی حق مذہبی آزادی کی مضبوط ضمانت ہے۔ تاہم، اگر اجتماع عوامی جگہ یا سڑک تک پھیل جائے تو قانونی اجازت لینا اور حکام کو مطلع کرنا ضروری ہے، تاکہ قانون اور نظم و ضبط برقرار رہے اور عوامی مفاد کا تحفظ بھی ممکن ہو۔ یہ عدالتی موقف متوازن اور عمل درآمد کیلئے واضح رہنما اصول فراہم کرتا ہے۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے مذہبی گروپوں بالخصوص اقلیتوں کو کافی اطمینان ہوا ہے کیونکہ ان کی یہ شکایت عام ہے کہ پولیس اہلکار انہیں نجی جگہوں پر عبادت کیلئے بھی پریشان کرتے ہیں۔