ڈپٹی پولیس کمشنر نے ایک بار پھرایسی خبروں کی تردید کی اور افواہ پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا۔
۱۲؍بچوں کی گمشدگی کی خبرپھیلنے سے شہریوں میں تشویش پائی جارہی تھی۔ تصویر: آئی این این
شہر اور مضافات کے مختلف علاقوں سے ۳۶؍ گھنٹے کے درمیان ۱۲؍ بچے لاپتہ ہوگئے ہیں جس کے تعلق سے خبریں بھی وائرل ہورہی ہیں۔ اس پر ڈپٹی پولیس کمشنر (ڈی سی پی ) بجرنگ بنسوڑے نے کہا کہ ’’ بچوں کی گمشدگی کے تعلق سے مختلف پلیٹ فارم کے ذریعہ جو اطلاعات مل رہی ہیں، وہ سراسر غلط ہے ۔ تاہم شہر میں بچوں کی گمشدگی کے تعلق سے جھوٹی خبریں اور افواہ پھیلانے والوں اور لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ان کے خلاف کیس درج کیا جائے گا۔
اس ضمن میں پولیس کا کہنا ہے کہ جب بھی کسی بچہ کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی جاتی ہے تو اسے تلاش کرنے کیلئے بنائے گئے خصوصی دستہ کے ذریعہ نہ صرف تلاشی مہم شروع کر دی جاتی ہے بلکہ تمام پولیس اسٹیشنوں کو اس سلسلہ میں اطلاع دینے کے علاوہ ہر ایسے مقام پر گمشدہ بچے کو تلاش کیا جاتاہے جہاں اس کے ملنے کا امکان ہوتا ہے اور مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ بھی کی جاتی ہے ۔پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ جہاںپولیس شہر اور مضافات کی سڑکوں ، ریلوے اسٹیشنوں ، بس اسٹینڈ اور حساس علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کے فوٹیج کے ذریعہ گمشدہ بچوںکو تلاش کرتی ہے وہیں خصوصی ٹیمیں ریلوے اسٹیشنوں، بس ، ٹیکسی اور رکشا اسٹینڈ، عوامی تفریحی مقامات کے علاوہ جھوپڑ پٹیوں بھی انہیں تلاش کرتی ہے۔
واضح رہے کہ پیر کو پولیس محکمہ میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارم کے ذریعہ جس میں نیوز پورٹل بھی شامل ہیں، پر شہر کے مختلف علاقوں سے ۳۶؍ گھنٹے میں ۱۲؍ بچوں کے گم ہونے کی ایف آئی آر درج ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا ۔ یہی نہیں گمشدہ بچوں میں ایک تا ۱۷؍ سال کی ۸؍ بچیوں کے بھی لاپتہ ہونے کا دعویٰ کیا گیاتھا ۔ اس سلسلہ میں گوونڈی شیواجی نگر ، ساکی ناکہ ،انٹاپ ہل ، اوشیوارہ ، مانخورد ، بانگور نگر اور گھاٹکوپرپولیس اسٹیشنوں میں کیس درج ہونے کابھی دعویٰ کیا گیا تھا جس کے مطابق شیواجی نگر پولیس اسٹیشن میں۴ ، ساکی ناکہ میں ۲، انٹاپ ہل میں ۲،اوشیوارہ ، مانخورد، بانگور نگر اور گھاٹکوپر میں ایک ایک بچے کی گمشدگی کا کیس درج کیا گیا ہے۔
۳۶؍ گھنٹے میں ۱۲؍ بچوں کی گمشدگی کی اطلاع ملنے پر پولیس بھی حرکت میں آگئی ۔ اس ضمن میں بچوں کی گمشدگی سے متعلق کیس درج ہوا ہے یا نہیں اس بابت وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ البتہ اس ضمن میں ڈپٹی پولیس کمشنر بجرنگ بنسوڑے نے نہ صرف ایسی خبروں کو بے بنیاد بتایا ہے بلکہ افواہ پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی اور ایف آئی آر درج کرنے کا بھی انتباہ دیا ہے۔
اس تعلق سے ایک سینئر افسر نے کہا کہ ’’ اکثر بچے والدین یا سرپرست سے ناراض ہوکر گھر سے بھاگ جاتے ہیں اور اکثر خود ہی لوٹ بھی آتے ہیں۔
بچوں کے گم ہونے کے تعلق سے ایک جانب پولیس نے جہاں تردید کی ہے وہیں گزشتہ سال بچوں کی گمشدگی اور اغواء سے متعلق ممبئی پولیس کے ترتیب کردہ ریکارڈ کے مطابق جون تا دسمبر۲۰۲۵ء میں شہر ومضافات کے مختلف پولیس اسٹیشنوں میں ۱۴۵؍ بچوں کی گمشدگی کی شکایت درج کرائی گئی تھی جن میں ۹۳؍ لڑکیاں شامل تھیں، ان میں سے ۴۱؍ لڑکیوں اور ۱۳؍ لڑکوں کو صحیح سلامت تلاش کرکے ان کے اہل خانہ کے سپرد کر دیا گیا تھا۔