صارفین پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کو واضح کرنے کا مطالبہ۔
EPAPER
Updated: September 21, 2026, 10:46 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
صارفین پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کو واضح کرنے کا مطالبہ۔
ریاست میں اسمارٹ میٹر کی تنصیب کی مہم تیز ہونے کے ساتھ ہی بھیونڈی کی پاورلوم صنعت سے وابستہ مالکان اور پاورلوم اسوسی ایشن میں ناراضی پائی جا رہی ہے۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ بجلی ان کی صنعت کیلئے بنیادی ضرورت ہے اور بجلی کے بل میں کسی بھی تبدیلی کا براہ راست اثر پیداواری لاگت اور کاروبار پر پڑتا ہے۔ ایسے میں اسمارٹ میٹر کی تنصیب سے قبل اس کے طریقۂ کار، بلنگ سسٹم اور صارفین پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کو واضح کیا جانا ضروری ہے۔
پاورلوم اسوسی ایشن کے صدر تروپتی وی سری پورم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام اور صنعتی صارفین پر اس نظام کو نافذ کرنے سے پہلے تھانے، پونے اور ناگپور جیسے بڑے شہروں میں اسمارٹ میٹر نصب کرکے اس کے نتائج عوام کے سامنے پیش کئے جائیں۔سری پورم نے کہا کہ حکومت اسمارٹ میٹر کو جدید، درست اور شفاف بجلی نظام کی جانب اہم قدم قرار دے رہی ہے لیکن دوسری جانب پاورلوم مالکان سمیت بجلی صارفین کے ذہن میں اس کے استعمال اور بلنگ کے تعلق سے کئی سوالات موجود ہیں۔ حکومت کو صرف یہ یقین دہانی کرانے کے بجائے کہ اسمارٹ میٹر سے بجلی کا بل نہیں بڑھے گا، یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ میٹر ریڈنگ کس طرح ہوگی، بجلی کے استعمال کا حساب کس بنیاد پر کیا جائے گا اور بل میں کسی اختلاف کی صورت میں صارفین کی شکایت کا ازالہ کس طریقے سے ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اسمارٹ میٹر کی کارکردگی اور شفافیت کے بارے میں پوری طرح مطمئن ہے تو پہلے بڑے شہروں کو اس کا ماڈل بنایا جائے۔ وہاں بڑے پیمانے پر اسمارٹ میٹر نصب کرنے کے بعد بجلی کی کھپت، بلنگ میں ہونے والی تبدیلی، صارفین کی شکایات اور مجموعی نتائج کا جائزہ لے کر رپورٹ عوام کے سامنے رکھی جائے۔ اگر ان شہروں میں صارفین کو کسی قسم کی دشواری یا غیر ضروری اضافی مالی بوجھ کا سامنا نہیں ہوتا تو اسی تجربے کی بنیاد پر ریاست کے دیگر علاقوں میں اس نظام کو نافذ کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:جنسی زیادتی کے ملزم کو سیاسی سرپرستی حاصل ہونے کا الزام!
پاورلوم اسوسی ایشن کے مطابق بھیونڈی کی پاورلوم صنعت پہلے ہی بجلی کی قیمت، پیداواری لاگت اور دیگر کاروباری مشکلات سے دوچار ہے۔ ایسے میں بجلی کے نظام میں کسی نئی تبدیلی کے ممکنہ اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاورلوم مالکان کا کہنا ہے کہ اسمارٹ میٹر کی تنصیب سے قبل صنعتی صارفین کے خدشات کو بھی سنا جائے اور انہیں اس نظام کی مکمل معلومات فراہم کی جائیں۔
سری پورم نے بھیونڈی میں بجلی کی تقسیم کا انتظام نجی کمپنی کو دئیے جانے کے ماضی کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نئی بجلی پالیسی نافذ کرتے وقت سابقہ تجربات سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق پاورلوم صنعت پر بجلی کے نظام میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات کو دیکھتے ہوئے اسمارٹ میٹر کے نفاذ میں بھی صنعتی صارفین کے مفادات اور مسائل کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اسمارٹ میٹر کے خلاف عوام یا صنعتکاروں کے درمیان جو خدشات ہیں، انہیں محض مخالفت قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ حکومت کو پہلے ان خدشات کا جواب دینا اور بلنگ و میٹر ریڈنگ کے نظام کو شفاف بنانا چاہیے۔ ان کے مطابق عوام کا اعتماد صرف اعلانات سے نہیں بلکہ عملی نتائج سامنے رکھ کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔
پاورلوم اسوسی ایشن کے صدر نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسمارٹ میٹر کی تنصیب میں عجلت کے بجائے پہلے تھانے، پونے اور ناگپور کو ماڈل شہر بنایا جائے اور وہاں کے نتائج عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر اسمارٹ میٹر میں کوئی خامی نہیں تو پہلے ہمارے بڑے لیڈروں کے شہروں میں اسے نصب کرکے نتائج عوام کو دکھائے جائیں، اس کے بعد پورے ریاست میں اس کا نفاذ کیا جائے۔‘‘