بھیونڈی: مزدوروں کی قلت کے سبب سائزنگ کمپنیوں کے بند ہونے کا خطرہ

Updated: July 01, 2020, 8:49 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

پاور لوم کارخانوں کو جاری رکھنے کیلئے بھیونڈی میں سائزنگ بھی شروع کردی گئیں ہیں لیکن مزدوروں کی قلت، کورونا سے متاثر مریضوں کی تعدادمیں اضافہ و خوف اور کپڑوں کی مانگ نہ ہونے کی وجہ سے صرف۲۵؍ سے۳۰؍ فیصد ہی بھیونڈی کی سائزنگ یونٹ چل رہی ہیں

Powerloom - Pic : Inquilab
پاورلوم ۔ تصویر : آئی این این

پاور لوم کارخانوں کو جاری رکھنے کیلئے  بھیونڈی میں سائزنگ بھی شروع کردی گئیں ہیں لیکن مزدوروں کی قلت، کورونا سے متاثر مریضوں کی تعدادمیں اضافہ و خوف اور کپڑوں کی مانگ نہ ہونے کی وجہ سے صرف۲۵؍ سے۳۰؍ فیصد ہی بھیونڈی کی سائزنگ یونٹ چل رہی ہیں۔تقریباً۷۰؍ فیصد سائزنگ کمپنیوں کا تالا بھی نہیں کھلا ہے۔جو سائزنگ  یونٹ چل رہی  ہیں ان میں بیشتر صرف ایک شفٹ میں کام چل رہا ہے۔ ایک شفٹ میں کام چلنے کے سبب مالکان کا شدید نقصان  ہو رہا ہے۔ دن بہ دن نقصان کی شرح میں ہورہے اضافے  کی وجہ سے ایک شفٹ میں چلنے والی سائزنگ  یونٹ کبھی بھی بند ہوسکتی ہیں۔
 واضح رہے کہ پاور لوم پرکاٹن، پی سی اور پی بی کپڑا بنانے کے لئے اس کے یارن (سوت)کو سائزنگ کمپنیوں میں کانجی لگائی جاتی ہے جس کی وجہ سے پاور لوم کارخانہ شروع ہونے کے بعد ہی سائزنگ کمپنیاں کوبھی شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ کچھ سائزنگ مالکان نے سائزنگ یونٹ شروع کردی ہےلیکن مزدوروں کی قلت کے سبب تقریباً کم از کم ۷۰؍ فیصد سائزنگ کمپنیاں مکمل طور پر بند ہیں۔بھیونڈی میں ۹۰؍ سائزنگ کمپنیاںکی تقریباً ۳۵۰؍ یونٹ ہیں جن میں سے صرف ۷۰؍ سے ۷۵؍ یونٹ ہی چل رہی  ہیں۔
زیادہ اجرت ادا کرنی پڑتی ہے
 بھیونڈی سائزنگ ویلفیئر اسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری اجے کمار یادو نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے دوران مزدوروں کی بڑی تعداد میں ہجرت کرنے کے سبب جو مزدور بچے ہیںوہ کام کرنے سے پہلے اپنی مزدوری بڑھانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اس کی وجہ سے اب انہیں  دیڑھ گنا زیادہ اجرت دینی پڑرہی ہے۔مزدوری بڑھاکر نہیں دینے پر وہ دوسرے دن کام پر نہیں آتے۔ سائزنگ کمپنیوں میں سب سے زیادہ مانگ ’بوائلر اٹینڈنٹ‘کی ہے۔ تربیت یافتہ ہونے کی وجہ سے ان کی شدید کمی ہے۔ اسی طرح ’مقادم‘ اور’ کانجی ماسٹر‘ کی بھی کمی ہے۔ اجے کمار یادو بتاتے ہیں کہ سائزنگ کا کام جاب ورک کاہےجس کی وجہ سے انہیں پاورلوم کارخانوں پرمنحصر رہنا پڑتا ہے۔
معاشی نقصان ہو رہا ہے
 اسوسی ایشن کے ممبر اور سائزنگ کمپنی کے مالک، آنند گپتا بتاتے ہیں کہ اجرت میں ڈیڑھ گنا اضافہ ہوا ہے لیکن کام نصف ہوگیا ہے۔ مزدور سودے بازی کرکے ۱۸؍ہزار کے بجائے ۲۳ ؍سے ۲۴؍ ہزار روپے مانگ رہے ہیں حالانکہ پیداوارنصف ہوکر رہ گئی ہے۔ ایک شفٹ میں ہونے والی ۳۲؍ ہزار سے۴۰؍ ہزار تک کی پیداوار اب زیادہ سے زیادہ۱۸؍ سے ۲۰؍ ہزار تک ہی ہوپارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سائزنگ کمپنیوں کی  ایک شفٹ میں چلنے کی وجہ سے سب سے زیادہ ایندھن کا نقصان ہو رہا ہے۔ بوائلرکی بھاپ کو سطح تک لے پہنچانے کیلئے ایک سے دیڑھ کوئنٹل کوئلہ لگتا ہے۔بھاپ کی سطح برابر ہونے کے بعد سائزنگ دوسری شفٹ میں نہیں چلتی جس کے سبب اس کا لیول گرجاتا ہے۔
سائزنگ مالک ذہنی تناؤ کا شکار
 آنند گپتا نے بتایا کہ سائز نگ میں کام کرنے والے کئی مزدور کورونا سے متاثر  ہوچکے ہیں۔ اس کی وجہ سے سائزنگ بھی بند کرنی پڑی ہے۔کورونا سے متاثر ہونے کے سبب ایک سائزنگ مالک کی موت بھی ہوچکی ہے۔کورونا  انفیکشن کی وجہ سے سائزنگ مالکان شدید ذہنی دباؤ میں ہیں۔ سائزنگ بند ہونے کے سبب ایک طرف  پے منٹ نہیں آرہا ہے تو دوسری جانب سائزنگ کا خرچ بچانے کیلئے سائزنگ مالکوں کو خودرکھوالی بھی کرنی پڑتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایک شفٹ میں چلنے والی سائزنگ یونٹ بھی بند ہونے کی دہلیز پر ہے۔ سائزنگ میں کام کرنے والے مزدور یونٹ بند کے دوران بھی مزدوری مانگ رہے ہیں۔مزدور گیارنٹی مانگ رہے ہیں کہ سائزنگ بند ہونے کے بعد بھی ان کی پوری مزدوری دی جائے گی تو ہی وہ کام کریں گے۔ورنہ وہ گاؤں چلے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK