شہر میں بڑھتی ہوئی گرمی کے ساتھ پانی کا بحران انتہائی تشویشناک صورت اختیار کر گیا ہے۔ روزانہ سیکڑوں شہری پانی کی قلت کے خلاف شکایات لے کر میونسپل کارپوریشن کے دفتر پہنچ رہے ہیں، مگر تاحال مسئلے کا کوئی مؤثر اور پائیدار حل سامنے نہیں آ سکا، جس کے باعث شہری علاقوں میں بے چینی اور اضطراب پایا جا رہا ہے۔
پانی کا بحران۔ تصویر:آئی این این
شہر میں بڑھتی ہوئی گرمی کے ساتھ پانی کا بحران انتہائی تشویشناک صورت اختیار کر گیا ہے۔ روزانہ سیکڑوں شہری پانی کی قلت کے خلاف شکایات لے کر میونسپل کارپوریشن کے دفتر پہنچ رہے ہیں، مگر تاحال مسئلے کا کوئی مؤثر اور پائیدار حل سامنے نہیں آ سکا، جس کے باعث شہری علاقوں میں بے چینی اور اضطراب پایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پانی کی طلب اور رسد کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق نے صورتحال کو مزید ابتر بنا دیا ہے۔ میئر اور اعلیٰ افسران کے درمیان متعدد اجلاس اور متعلقہ ادارے (اسٹیم ) کے دوروں کے باوجود عملی سطح پر کوئی خاص بہتری نظر نہیں آئی۔ گزشتہ روز بھی بڑی تعداد میں خواتین نے میونسپل ہیڈکوارٹر پہنچ کر پانی کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاج کیا اور انتظامیہ کے خلاف شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔احتجاج کے دوران سابق کارپوریٹر عمران خان اور حسنین فاروقی کی قیادت میں خواتین نے ایڈیشنل میونسپل کمشنر کا گھیراؤ کیا۔ بعد ازاں مظاہرین محکمہ آب رسانی پہنچے، تاہم وہاں ذمہ دار افسران کی عدم موجودگی نے عوامی غصے میں مزید اضافہ کر دیا۔
شہر کے مختلف علاقوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ملت نگر، بالا کمپاؤنڈ، اسلم نگر، زیتون پورہ ،نظام پورہ ،کونڈاچی واڑی اور گوپال نگر سمیت شہر کے مشرقی اور مغربی حصوں کے متعدد علاقوں میں پانی کی شدید قلت ہے۔ بعض مقامات پر کئی دنوں سے پانی کی سپلائی معطل ہے جس سے گھریلو زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
نظام پورہ کے کارپوریٹر فراز بہاؤالدین (بابا) کے مطابق ان کے وارڈ میں پانی کی قلت ہے۔ لوگ پانی کیلئے پریشان ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے اس ضمن ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ وارڈ نمبر ۱۰؍ میں رہنے والے ستیش نے بتایا کہ آئی جی ایم واٹر ٹینک کے قریب رہائش کے باوجود انہیں پانی میسر نہیں ہو پا رہا جو انتظامیہ کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ ادھر گوپال نگر کے ایڈوکیٹ منوج سریواستو نے بتایا کہ پانی کے بحران کے باعث جائیداد کی خرید و فروخت اور کرایہ داری پر بھی منفی اثر پڑ رہا ہے لوگ فلیٹ دیکھنے کے بعد پانی کی صورتحال جان کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متبادل ذرائع سے پانی کی فراہمی کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم فوری طور پر شہریوں کو راحت ملنے کے آثار کم دکھائی دے رہے ہیں۔ ادھر عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے ساتھ ہنگامی بنیادوں پر ٹینکر سپلائی میں اضافہ کیا جائے تاکہ بحران پر قابو پایا جا سکے۔
بحران کی وجہ کیا ہے
میونسپل ذرائع کے مطابق موجودہ بحران کی بڑی وجہ پانی کی سپلائی میں مجموعی طور پر ۱۱؍ ایم ایل ڈی کی کمی ہے۔ واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ کے ایگزیکٹو انجینئر سندیپ پٹناور نے وضاحت کی کہ اول، اسٹیم اتھارٹی کی جانب سے شہر کو فراہم کئے جانے والے پانی میں ۶؍ایم ایل ڈی کی کٹوتی اور دوم نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی ) کے احکامات کے تحت ورالا تالاب سے ۵؍ایم ایل ڈی پانی حاصل کرنے پر عائد پابندی۔ ان دونوں عوامل نے مل کر شہر کی مجموعی پانی فراہمی کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں شہری علاقوں میں شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔