Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: بوگس ڈاکٹروں کیخلاف سخت کارروائی کا اعلان

Updated: August 30, 2025, 5:42 PM IST | Khalid Abdul Qayyum | Bhiwandi

بھیونڈی۔نظام پور شہر میونسپل کارپوریشن نے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ شہریوں کی زندگی اور صحت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے جعلی ڈاکٹروں کے دن اب گنے چنے رہ گئے ہیں۔

Fake Doctor.Photo:INN
فرضی ڈاکٹر۔تصویر:آئی این این

بھیونڈی۔نظام پور شہر میونسپل کارپوریشن نے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ شہریوں کی زندگی اور صحت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے جعلی ڈاکٹروں کے دن اب گنے چنے رہ گئے ہیں۔ شہریوں کو بیماری کے نام پر لوٹنے اور ان کی جان کو خطرے میں ڈالنے والے ان نام نہاد ڈاکٹروں پر کارروائی کے لئے کارپوریشن نے ایک خصوصی، جارح اور ہمہ گیر مہم شروع کر دی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق میونسپل کارپوریشن کے طبی افسران اور شہری صحت مراکز کے عملے روزانہ اسپتالوں اور کلینکوں کا اچانک دورہ کریں گے۔ وہاں موجود ڈاکٹروں کی ڈگری، رجسٹریشن اور اسناد کی باریک بینی سے جانچ کی جائے گی۔ اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ان کی اصل ڈگری اور سند کلینک یا اسپتال میں نمایاں مقام پر لگی ہیں یا نہیں۔کارپوریشن نے سخت انتباہ دیا ہے کہ اگر کسی بھی جانچ کے دوران یہ ثابت ہوا کہ کوئی شخص بغیر ڈگری یا غیر قانونی طریقے سے طبی پیشہ اختیار کر رہا ہے تو اس کی فہرست فوری طور پر طبی شعبے کو دی جائے گی اور اس کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہ کارروائی صرف کلینک یا اسپتال بند کرنے تک محدود نہیں ہوگی بلکہ ایسے دھوکے بازوں کو جیل کی ہوا بھی کھانی پڑے گی۔
فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کلیان روڈ کے سماجی کارکن اور کانگریسی لیڈر تاج محمد خان  نے انقلاب کو بتایا کہ شہری برسوں سے جعلی ڈاکٹروں کے شکار رہے ہیں، بہت سے لوگ غلط علاج کی وجہ سے مزید بیمار ہو گئے۔ میونسپل انتظامیہ کی یہ مہم شہریوں کی زندگیوں کے لئے ضروری اور خوش آئند ہے۔ امید ہے کہ اب کارپوریشن ایمانداری سے جعلی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کرے گا۔ انہوں نے انتظامیہ سے درخواست کی کہ وہ کاغذی کاروائی کے بجائے عملی اقدامات کرے۔ شہریوں کی صحت سے کھلواڑ کرنے والوں کو کسی بھی طرح کی کوئی رعایت نہیں ملنی چاہیے۔
میونسپل کارپوریشن کے محکمہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر سندیپ گاڈیکر نے بتایا کہ’’یہ مہم شہریوں کی صحت کے تحفظ کے لئے انتہائی ناگزیر ہے۔ جعلی ڈاکٹروں کی دکانیں بند ہوں گی اور شہریوں کو صرف مستند اور تصدیق شدہ طبی سہولتیں ہی ملیں گی۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK