Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’بھیونڈی سانحہ قدرتی آفت نہیں، انتظامی غفلت ہے‘‘

Updated: August 03, 2026, 5:11 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

سابق اپوزیشن لیڈر کا حکومت سے خاطی افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ۔

Former Opposition Leader Of The Municipal Corporation Khalid Mukhtar Sheikh Addressing A Press Conference.Photo:IINN
میونسپل کارپوریشن کے سابق اپوزیشن لیڈر خالدمختار شیخ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے-تصویر:آئی این این
 کوہِ نور اپارٹمنٹ کے المناک انہدام میں ۱۰؍ افراد کی جانیں ضائع ہونے کے بعد شہر میں ایک بار پھر خطرناک عمارتوں کے مسئلے پر انتظامیہ کی کارکردگی سخت سوالوں کے گھیرے میں آ گئی ہے۔ ۲۰۲۰ء کے جیلانی بلڈنگ سانحہ کے بعد ممبئی ہائی کورٹ کے ازخود نوٹس اور عدالتی ہدایات کے باوجود خطرناک عمارتوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔اسی پس منظر میں بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد خالد مختار شیخ (خالد گڈو) نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کوہِ نور سانحہ کو قدرتی آفت نہیں بلکہ انتظامی غفلت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک عمارت کو پہلے ہی انتہائی خطرناک قرار دے کر متعدد نوٹس جاری کئے جا چکے تھے تو پھر اسے خالی کیوں نہیں کرایا گیا اور شہریوں کی جان بچانے کے لئے بروقت کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ خالد گڈو نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس اور نائب وزیر اعلیٰ و وزیر شہری ترقیات ایکناتھ شندے کو ارسال کردہ تحریری شکایت میں میونسپل کمشنر ، سٹی انجینئر، متعلقہ وارڈ آفیسر اور دیگر ذمہ دار افسران کو فوری طور پر برخاست کرنے اور ان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
 
 
انہوں نے کہا کہ اس سانحہ کی ذمہ داری صرف عمارت کے مالک یا مرمتی کام کرنے والے ٹھیکیدار پر عائد نہیں کی جا سکتی بلکہ ان افسران کا بھی احتساب ضروری ہے جن پر خطرناک عمارتوں کو خالی کرانے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کی آئینی و انتظامی ذمہ داری تھی۔خالد گڈو نے کہا کہ اگر حکومت نے اس معاملے میں غیرجانبدارانہ اور سخت کارروائی نہ کی تو عوام کا انتظامیہ پر اعتماد مزید مجروح ہوگا اور لوگ پُرامن احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جیلانی بلڈنگ سانحہ کے بعد بھی اگر انتظامیہ نے سبق نہیں سیکھا تو یہ محض لاپروائی نہیں بلکہ ناقابلِ معافی غفلت ہے جس کا جوابدہ ہر ذمہ دار افسر ہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK