Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: شناختی دستاویزات سے محروم قبائلی خاندانوں کا دھرنا

Updated: May 26, 2026, 2:28 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

دستاویز نہ ہونے سے سیکڑوں خاندانوں کو سرکاری سہولیات نہیں مل پا رہی ہیں۔

A large number of tribals staged a sit-in in front of the Bhiwandi Tehsildar office demanding identity documents. Photo: INN
بھیونڈی تحصیلدار دفتر کے سامنےبڑی تعداد میں قبائیلیوں نے شناختی دستاویزات کیلئے دھرنا دیا۔ تصویر: آئی این این

ڈیجیٹل دور میں جہاں سرکاری خدمات اور فلاحی منصوبوں کا بیشتر نظام شناختی دستاویزات سے منسلک ہو چکا ہے، وہیں بھیونڈی اور اطراف کے قبائلی علاقوں میں رہنے والے متعدد کاتکری اور دیگر قبائلی خاندان آج بھی آدھار کارڈ، راشن کارڈ، پیدائش کے سرٹیفکیٹ اور ذات کے تصدیقی دستاویزات سے محروم ہیں۔ ان بنیادی کاغذات کی عدم دستیابی کے باعث یہ خاندان نہ صرف سرکاری فلاحی اسکیموں سے باہر ہیں بلکہ تعلیم، صحت، غذائی تحفظ اور دیگر بنیادی حقوق تک ان کی رسائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ اسی سنگین مسئلے کے خلاف شرم جیوی سنگٹھن کی جانب سے پیر کو بھیونڈی تحصیلدار دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ ضلع نائب صدر ساگر دیسک کی قیادت میں ہونے والے اس احتجاج میں بڑی تعداد میں قبائلی افراد اور تنظیم کے کارکنان شریک ہوئے۔ مظاہرین نے تحصیلدار کے دفتر کے باہر بیٹھ کر انتظامیہ سے فوری مداخلت اور متاثرہ خاندانوں کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے دوران مقررین نے کہا کہ کئی خاندانوں کے پاس پیدائش کے سرٹیفکیٹ موجود نہیں ہیں جبکہ آدھار کارڈ بنانے کیلئے یہی دستاویز لازمی قرار دی جاتی ہے۔ نتیجتاً ایک دستاویز کی عدم موجودگی دیگر تمام شناختی کاغذات کے حصول میں رکاوٹ بن جاتی ہے اور خاندان سرکاری نظام سے عملاً خارج ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان خواتین، بچوں اور بزرگوں کو اٹھانا پڑتا ہے، جو راشن، وظیفوں، تعلیمی سہولتوں اور صحت سے متعلق حکومتی اسکیموں سے فائدہ نہیں لے پاتے۔ ساگر دیسک نے الزام عائد کیا کہ بارہا شکایات اور درخواستوں کے باوجود انتظامیہ نے مسئلے کے مستقل حل کیلئے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔

یہ بھی پڑھئے: ڈیوٹی نہ کرنیوالے اور تساہل برتنےوالے سپروائزر اور شمار کنندگان کیخلاف کیس ہوگا

انہوں نے کہا کہ دستاویزات کے فقدان کو محض تکنیکی مسئلہ سمجھنا درست نہیں بلکہ یہ سماجی انصاف، شہری شناخت اور بنیادی حقوق سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ جب تک ہر مستحق فرد کو قانونی شناخت فراہم نہیں کی جاتی تب تک ترقی اور شمولیت کے دعوے ادھورے رہیں گے۔ شرم جیوی سنگٹھن نے مطالبہ کیا کہ جن خاندانوں کے پاس کوئی بھی دستاویز موجود نہیں ہے ان کے لئے خصوصی کیمپ منعقد کئے جائیں، گھر گھر سروے کیا جائے اور موقع پر ہی رجسٹریشن و تصدیق کا عمل مکمل کیا جائے تاکہ برسوں سے شناخت کے بحران کا شکار قبائلی خاندان سرکاری سہولتوں کے دائرے میں آ سکیں۔ 
مظاہرین نے واضح کیا کہ اگر انتظامیہ نے جلد عملی اقدامات نہ کئے تو تحریک کو مزید وسیع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شناختی دستاویزات کا حصول کسی رعایت کا نہیں بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اور اس حق کے حصول تک ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK