کانگریس، کاکروچ جنتا پارٹی، چندرشیکھر آزاد اور دیگر کا پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہرغیر معمولی احتجاج، نیشو آزاد کے والد پر حملہ کرنےوالا بھگوا شدت پسند بلند شہر سے پکڑا گیا
پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر مظاہرین کے جم غفیر کو دیکھا جاسکتاہے۔ تصویر: آئی این این
جنتر منتر پر احتجاج کے دوران ایک طالبہ کے والد پر حملہ کرکے لہولہان کردینےوالےجس بھگوا شدت پسند سوتنتر بھاردواج کودہلی پولیس نے چھوٹ دے رکھی تھی اورگزشتہ دنوں میڈیا میں خود ستائی کرتے ہوئے اس کے اقبال جرم کےباوجود کوئی کاررروائی نہیں کی تھی، اس کو جمعہ کو کانگریس، کاکروچ جنتا پارٹی، آزاد رکن پارلیمان چندر شیکھرآزاد اور دیگر کے غیر معمولی احتجاج کے بعد بالآخر گرفتار کرنا پڑا۔ اسے بلند شہر سے حراست میں لیا گیا ہے۔
۷۲؍ گھنٹے کی یقین دہانی کے بعد گرفتاری
یہ گرفتاری پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر کانگریس اور کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کو یہ یقین دہانی کرانے کے بعد ہوئی کہ اسے۷۲؍گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا جائے گا۔ سوتنتر بھاردواج کا دعویٰ ہے کہ اسے دہلی کے وزیر کپل مشرا، مرکزی وزیر چراغ پاسوان اور یہاں تک وزیراعظم نریندر مودی کی پشت پناہی حاصل ہے۔ جمعہ کو جس طرح پولیس اسٹیشن کے باہر مظاہرین کی بھیڑ امڈی اس نے جنتر منتر کے احتجاج کی یاد تازہ کردی اور مودی سرکار سہم گئی۔ وزارت داخلہ کی ہدایت پر دہلی پولیس نے نہ صرف ایف آئی آر میں دفعات سخت کیں بلکہ چند ہی گھنٹوں میں سوتنتر بھاردواج کو گرفتار بھی کرلیا۔
سوتنتر بھاردواج کے دعوے
۲؍ روز قبل اپ لوڈ کئے گئے ایک انٹرویو میں سوتنتر بھاردواج نے دعویٰ کیا تھا کہ جنتر منتر پر احتجاج کے دوران نیشونامی طالبہ کے والد۳۸؍ سالہ سنجے آزاد پر حملہ اورانہیں شدید زخمی کرنے کے باوجود وہ جیل اس لئے نہیں گیا کیوں کہ اسے کپل مشرا، چراغ پاسوان اور یہاں تک کہ وزیراعظم نریندر مودی کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس نے خود کہا کہ سنجے کے سر پر ۷؍ ٹانکے آئے تھے اور اس پر ’’ہاف مرڈر‘‘ کا کیس بننا چاہئے تھا مگر وہ جیل نہیں گیا۔ بھاردواج نے کہا کہ اس نے سنجے کی ’’کھوپڑی پھاڑ دی‘‘ تھی، اب نیشو کو بھی نشانہ بنایا جائے گا اور ’’اب بچی کو بھی مارا جائے گا۔‘‘
دنیا کو معلوم ہونا چاہئے کہ میں جیل نہیں گیا
سوتنتر بھاردواج کے اس دعویٰ سے ملک میں قانون کی حکمرانی پر سوالیہ نشان پیدا ہو گیا ہے کہ ’میں جیل بھی نہیں گیا، پوری دنیا کو یہ معلوم ہونا چاہیے۔ ہم ساری رات باہر گھومتے رہے۔ ایک طرف بالاجی اور ہنومان جی کا آشیرواد ہے، دوسری طرف کپل مشرا ہمارے بڑے بھائی ہیں... مودی جی بھی میرے بڑے بھائی ہیں۔‘‘
ہنگامہ کے بعد بیان بدل دیا
شدید ہنگامے کے بعد ویڈیومیں کہی گئی باتوں سے بھاردواج نےانکار کیا اور خود کو مظلوم بنا کر پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس نے ’’اپنے دفاع‘‘ میں حملہ کیا تھا، ورنہ ہجوم اسے ’’ماردیتا۔‘‘اہم بات یہ ہے کہ اے این آئی جیسی خبر رساں ایجنسیوں اور کئی میڈیا چینلوں نے اس کے ساتھ کسی ہیرو جیسا برتاؤ کیاا وراسے اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع دیا۔
پولیس نے بھی ملزم کا دفاع کیا
شرمناک بات یہ ہےکہ احتجاج سے قبل بھی دہلی پولیس نے بھی ملزم کا دفاع کیا کہ سنجے آزاد پر اس نے حملہ نہیںکیاتھابلکہ ہاتھ کے کڑے سے چوٹ لگی تھی اور خون نکل آیاتھا ۔ دہلی پولیس پر کاکروچ جنتا پارٹی کی کارکن نیشو آزاد نے بھی کارروائی نہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔
بھاردواج کے اپنے دعوے کے باوجود دہلی پولیس نے جمعرات کو بھی اس کو بچانے کی کوشش کی اور ’ایکس‘ پوسٹ کیا کہ ’’آر ایم ایل اسپتال کے ڈاکٹروں نے زخموں کو معمولی نوعیت کا قرار دیا۔ وہ کسی ہتھیار سے نہیں بلکہ کڑے سے لگی تھیں۔ کھوپڑی میںگہرے زخم کی باتیں حقائق کے منافی ہیں۔‘‘
نیشو کی راہل گاندھی سے مدد کی اپیل کام آئی
بدھ کو سونتربھاردواج کا ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد نیشو نے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سے مدد کی اپیل کی تھی۔ان کی یہ اپیل کام آئی اور راہل گاندھی نے ٹویٹ کرکے ان کوہمت دلائی تھی کہ ’’پریشان نہ ہو ، میں آپ کے ساتھ ہوں۔‘‘ راہل گاندھی کے آواز بلند کرنے کے بعد معاملہ نے سنگین رخ اختیار کرلیا۔
دہلی پولیس کا وقار اور اعتبار خاک میں مل گیا
سونتر بھاردواج کے معاملہ نے ایک بار پھر دہلی پولیس کو ملک ہی نہیں پوری دنیا کے آگے شرمسار کردیاہے۔اس نے پوڈکاسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ ’’ پولیس کے سو ِل اہلکار‘‘ کی طرح گھومتا ہے، اس تاثرکو تقویت ملی ہے کہ جنترمنتر پر احتجا کے دوران دہلی پولیس کے ساتھ سادہ وردی والے افراد ’’بھگوا غنڈہ عناصر‘‘ تھے۔