Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: ٹورینٹ پاور کمپنی کے لائسنس کی تجدید روکنے کیلئے آواز بلند

Updated: June 18, 2026, 12:10 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

وزیر اعلیٰ کو میمورنڈم، پرانت آفیسر کے توسط سے پیش کی گئی عرضداشت میں ٹاٹا پاور، اڈانی پاور سمیت دیگر کمپنیوں کو موقع دینے کی تجویز۔

Bhiwandi Naya Manch officials presenting a memorandum against Torrent Power franchise. Photo: INN
ٹورینٹ پاور کی فرنچائزی کے خلاف میمورنڈم پیش کرتے ہوئے بھیونڈی نیائے منچ کے عہدیداران۔ تصویر: آئی این این

بھیونڈی نیائے منچ کے ایک وفد نے بدھ کو پرانت افسر (سب ڈویژنل آفیسر) کے توسط سے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو ایک میمورنڈم پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جنوری ۲۰۲۷ءمیں ختم ہونے والی ٹورینٹ پاور کی بجلی تقسیم فرنچائزی کی تجدید نہ کی جائے اور اس کی جگہ کسی دوسری نجی کمپنی کو بجلی فراہمی کی ذمہ داری سونپی جائے۔میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت نے ۲۰۰۷ء میں مہاوترن (ایم ایس ای ڈی سی ایل ) کی فرنچائزی کے تحت بھیونڈی شہر اور دیہی علاقوں میں بجلی کی تقسیم کی ذمہ داری ٹورینٹ پاور لمیٹڈ کو دی تھی جس کی دوسری مدت جنوری ۲۰۲۷ء میں مکمل ہو رہی ہے۔ تنظیم کا موقف ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اس نظام کا ازسرنو جائزہ لے اور شہریوں کے مفاد میں متبادل انتظام پر غور کرے۔بھیونڈی نیائے منچ نے اپنے میمورنڈم میں دعویٰ کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے بجلی نرخ، مبینہ فاسٹ میٹر، زائد بلنگ اور کمپنی کی من مانی پالیسیوں کے باعث پاورلوم صنعت شدید متاثر ہوئی ہے۔ میمورنڈم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متوسط اور غریب طبقے کے صارفین زائد بجلی بلوں، ویجلنس کارروائیوں اور دیگر مسائل سے پریشان ہیں۔ جبکہ ۲۰۰۷ء میں فرنچائزی نظام نافذ کرنے کا مقصد عوام کو معیاری اور سستی بجلی فراہم کرنا تھا، موجودہ حالات میں شہری متعدد دشواریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹورینٹ پاور کی مدت ختم ہونے کے بعد بجلی کی تقسیم کا نظام نئی کمپنیوں کے لئے کھولا جائے اور ٹاٹا پاور یا اڈانی پاور جیسی کمپنیوں کو بھی موقع دیا جائے، تاکہ مسابقتی ماحول میں صارفین کو بہتر خدمات اور مناسب نرخوں پر بجلی دستیاب ہو سکے۔اس موقع پر بھیونڈی نیائے منچ کے صدر شاداب عثمانی نے کہا کہ عوامی جذبات اور شکایات کو جمہوری طریقے سے حکومت تک پہنچانے کیلئے  یہ مہم شروع کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK