Inquilab Logo Happiest Places to Work

منشیات سے جڑے ۴ لاکھ مقدمات زیرِ التواء: ریاستوں پر خصوصی این ڈی پی ایس عدالتیں قائم کرنے کیلئے دباؤ

Updated: August 03, 2026, 8:02 PM IST | New Delhi

گزشتہ ۶ مہینوں کے دوران، وزارتِ داخلہ نے ان عدالتوں کے قیام پر زور دینے کیلئے چیف سیکریٹریوں اور ہوم سیکریٹریوں کے ساتھ متعدد اجلاس منعقد کئے۔ جائزہ میں پتہ چلا ہے کہ صرف پنجاب میں تقریباً ۶۰ ہزار مقدمات زیرِ التواء ہیں جبکہ وہاں کوئی مخصوص عدالت موجود نہیں ہے۔ کیرالا میں تقریباً ۵۰ ہزار مقدمات زیرِ التواء ہیں لیکن تجویز کردہ ۹ عدالتوں کے مقابلے میں صرف ۲ عدالتیں فعال ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

وزارتِ داخلہ نے ملک بھر میں این ڈی پی ایس ایکٹ (NDPS Act) کے تحت زیر التواء تقریباً ۹۶ء۳ لاکھ مقدمات کے پیشِ نظر تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو منشیات سے جڑے مقدمات کیلئے مخصوص عدالتیں قائم کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ یہ ہدایت ایک اجلاس کے بعد سامنے آئی جہاں حکام کو بتایا گیا کہ ۲۲ ریاستوں کی جانب سے خصوصی این ڈی پی ایس عدالتیں قائم کئے جانے کا امکان ہے۔

گزشتہ ۶ مہینوں کے دوران، وزارتِ داخلہ نے خصوصی این ڈی پی ایس عدالتوں کے قیام پر زور دینے کیلئے چیف سیکریٹریوں اور ہوم سیکریٹریوں کے ساتھ متعدد اجلاس منعقد کئے ہیں۔ جائزہ میں پتہ چلا ہے کہ صرف پنجاب میں تقریباً ۶۰ ہزار مقدمات زیرِ التواء ہیں جبکہ وہاں کوئی مخصوص عدالت موجود نہیں ہے۔ وزارتِ داخلہ نے لدھیانہ، جالندھر، امرتسر، ترن تارن اور سنگرور میں پانچ خصوصی عدالتیں قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔ کیرالا میں تقریباً ۵۰ ہزار مقدمات زیرِ التواء ہیں لیکن تجویز کردہ ۹ عدالتوں کے مقابلے میں صرف ۲ عدالتیں کام کر رہی ہیں۔ ادیشہ میں ۱۷ ہزار مقدمات زیرِ التواء ہیں، وہاں اس سال ۸ نئی عدالتیں اور ۲۸-۲۰۲۷ء میں مزید ۷ عدالتوں کے قیام کا منصوبہ زیر غور ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: مودی نے منشیات کیخلاف ملک گیر مہم کا آغاز کیا

نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) نے اجلاس میں بتایا کہ اس وقت ملک بھر میں صرف ۶۵ خصوصی این ڈی پی ایس عدالتیں فعال ہیں۔ سپریم کورٹ نے بھی مقدمات کی سماعت میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ حکام نے نوٹ کیا کہ منشیات کے مقدمات میں اکثر متعدد ملزمین اور گواہ شامل ہوتے ہیں، جس کیلئے عام عدالتوں پر بوجھ ڈالنے کے بجائے مخصوص عدالتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں ریاستوں سے ان عدالتوں کے قیام سے متعلق پروگریس رپورٹس جمع کرانے کیلئے کہا گیا ہے۔ وزارتِ داخلہ اور این سی بی ان ریاستوں میں ہائی کورٹ کے رجسٹرارز کے ساتھ بھی رابطہ قائم کریں گے جہاں مقدمات کا بہت زیادہ بوجھ ہے۔ یہ اقدام منشیات کی ترسیل کے خلاف مرکز کی تین سالہ حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ سپریم کورٹ کے آئینی معاملات کی کارروائی سے ملتے جلتے طے شدہ وقت کے ساتھ پری ٹرائل کانفرنسوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: وندے بھارت کے ذریعے پہلی مرتبہ سورت سے احمد آبادایک زندہ دل کی کامیاب منتقلی

اعداد و شمار سے منشیات کے مقدمات میں تیز رفتار اضافہ ظاہر ہوتا ہے: ۲۰۰۴ء سے ۲۰۱۴ء کے درمیان ایک لاکھ ۷۳ ہزار مقدمات اور ایک لاکھ ۹۵ ہزار گرفتاریاں ہوئیں۔ ۲۰۱۴ء سے ۲۰۲۶ء کے درمیان یہ اعدادوشمار بڑھ کر ۸ لاکھ ۷۵ ہزار مقدمات اور ۱۰ لاکھ ۹۷ ہزار گرفتاریوں تک پہنچ گئے۔ دیگر ریاستوں میں، تمل ناڈو (۱۵ ہزار زیرِ التواء مقدمات، ۵ عدالتیں) نے مزید ۶ عدالتوں کی تجویز پیش کی۔ کرناٹک (۱۵ ہزار مقدمات، ۳ عدالتیں) کو توسيع کی ہدایت دی گئی۔ مدھیہ پردیش، جہاں ۱۴ ہزار مقدمات زیرِ التواء ہیں اور کوئی مخصوص عدالت نہیں ہے، پر اندور، بھوپال، نیمچ، منڈسور، ریوا اور سنگرولی میں ۶ عدالتیں قائم کرنے پر زور دیا گیا۔ مغربی بنگال (۱۱ ہزار مقدمات، کوئی خصوصی عدالت نہیں) کو ۶ عدالتیں قائم کرنے کا مشورہ دیا گیا، جبکہ ہماچل پردیش میں بھی کوئی خصوصی عدالت نہ ہونے کے ساتھ تقریباً ۱۱ ہزار مقدمات زیرِ التواء ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK