ٹرین کی روانگی سے ۲۴؍ تا ۸؍ گھنٹہ قبل منسوخ کرائے گئے ٹکٹوں کی صرف ۵۰؍ فیصد رقم واپس ملے گی، اس کے بعد کچھ نہیں ملےگا، پہلے ۴؍ گھنٹہ پہلے بھی پیسے واپس ملتے تھے، اب چارٹ بننے کے بعد بھی بورڈنگ تبدیل کی جاسکے گی۔
EPAPER
Updated: April 13, 2026, 1:04 PM IST | New Delhi
ٹرین کی روانگی سے ۲۴؍ تا ۸؍ گھنٹہ قبل منسوخ کرائے گئے ٹکٹوں کی صرف ۵۰؍ فیصد رقم واپس ملے گی، اس کے بعد کچھ نہیں ملےگا، پہلے ۴؍ گھنٹہ پہلے بھی پیسے واپس ملتے تھے، اب چارٹ بننے کے بعد بھی بورڈنگ تبدیل کی جاسکے گی۔
ہندوستانی ریلوےرواں مالی سال (۲۷-۲۶ء) میں کئی اہم تبدیلیاں کرنے جا رہی ہے۔ ریلوے وزارت نے ٹکٹ کی منسوخی اور رقم کی واپسی کے قواعد تبدیل کردیئے ہیں جو ۱۵؍ اپریل سے نافذ ہوں گے۔ اس سال ۱۲؍ نئی وندے بھارت سلیپر ٹرینیں متعارف کرائی جائیں گی جبکہ پہلی ہائیڈروجن ٹرین بھی پٹری پر اتاری جائے گی۔
ٹکٹ منسوخی اوررقم واپسی کے نئے اصول
ریلوے نے ٹکٹ کینسل کرنے اور ریفنڈ کے قواعد سخت کر دیئے ہیں۔ اب اگر کوئی مسافر ٹرین چھوٹنے سے۸؍ گھنٹے پہلے تک ٹکٹ کینسل کرتا ہے، تب ہی اسے رقم واپس ملے گی۔ پہلے ۴؍گھنٹے پہلے ٹکٹ کینسل کرنے پر بھی رقم واپس مل جاتی تھی۔ نئے اصولوں کے مطابق اگر آپ اپنی روانگی کے مقررہ وقت سے۸؍گھنٹے سے کم وقت میں ٹکٹ کینسل کرتے ہیں تو آپ کو ایک بھی روپیہ واپس نہیں ملے گا۔ تاہم۲۴؍ سے۸؍ گھنٹے کے درمیان ٹکٹ کینسل کرنے پر۵۰؍فیصد رقم واپس ملے گی۔ نئے ضوابط کا اطلاق ۱۵؍ اپریل سے کردیا جائےگا۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان میں مہنگائی ۷۴؍ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر، ڈیزل کی قیمت دُگنی ہو گئی
مسافروں کیلئے ایک بڑی راحت یہ ہے کہ اب کاؤنٹر ٹکٹ کینسل کروانے کیلئے اسی اسٹیشن یا آخری اسٹیشن جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اب ملک کے کسی بھی ریلوے اسٹیشن کے کاؤنٹر پر جا کر ٹکٹ کینسل کروایا جاسکےگا۔ اسی طرح مسافرٹرین کے پہلے اسٹیشن سے چل پڑنے سے ۳۰؍ منٹ پہلے تک یعنی چارٹ بننے کے بعد بھی اپنا بورڈنگ اسٹیشن آن لائن تبدیل کر سکیں گے۔ پہلے یہ سہولت صرف چارٹ بننے سے پہلے تک دستیاب تھی۔ نئے اصول کے تحت اگر کوئی مسافر اپنے پرانے اسٹیشن سے ٹرین نہیں پکڑ پاتا تو وہ اگلا اسٹیشن منتخب کر کے کنفرم سیٹ پر سفر کر سکے گا۔
ہائیڈروجن ٹرین، آلودگی سے پاک سفر
ہندوستانی ریلوے امسال اپنی پہلی ہائیڈروجن ٹرین لانچ کرنے کے بہت قریب ہے۔ ریسرچ ڈیزائن اینڈ اسٹینڈرڈ آرگنائزیشن نے اس کا ٹرائل مکمل کر لیا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے لمبی(۱۰؍ کوچ) اور سب سے طاقتور(۲۴۰۰؍ کلوواٹ) ہائیڈروجن ٹرین ہوگی۔ اس میں ۲؍ ڈرائیونگ پاور کار اور۸؍مسافر کوچ ہوں گے۔ یہ ٹرین مکمل طور پر ماحول دوست ہوگی اور دھوئیں کے بجائے صرف بھاپ خارج کرے گی۔