سماجوادی پارٹی کو بڑا جھٹکا، ایم ایل سی امیدوار کا فارم مسترد، بی جے پی کے امیدوار بلا مقابلہ منتخب

Updated: August 03, 2022, 9:29 AM IST | Lucknow

ودھان پریشد کے امیدوار کیلئے کم از کم عمر ۳۰؍ سال ہونی چاہئے لیکن ایس پی کی امیدوار کیرتی کول کی عمر صرف ۲۸؍ سال ہی تھی،اسلئے فارم مسترد ہوگیا، امیدواروں کی جیت کا صرف باضابطہ اعلان باقی

Samajwadi Party candidate Kirti Kaul
سماجوادی پارٹی کی امیدوار کیرتی کول

ترپردیش میں انتخابات کے تئیں سماجوادی پارٹی کی غیر سنجیدگی ایک بار پھر اُس وقت ظاہر ہوگئی جب  ایم ایل سی امیدوار کے طور پر سماجوادی پارٹی کے نمائندہ کا فارم مسترد ہوگیا۔ایم ایل سی کیلئے ایک امیدوار کی عمرکم از کم ۳۰؍ سال ہونی چاہئے جبکہ سماجوادی پارٹی نے ۲۸؍ سال کے امیدوار کو ٹکٹ دے کر میدان میں اُتار  دیا تھا۔ اس طرح اترپردیش ودھان پریشد کی دو خالی سیٹوں پر ہونے والے ضمنی الیکشن کیلئے بی جے پی کے دونوں امیدوار دھرمیندرسنگھ سینتھ وار اور نرملا پاسوان کا بلامقابلہ کامیاب ہونا تقریباً طے ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں صرف باضابطہ اعلان ہونا باقی ہے۔ریٹرننگ افسر نے منگل کو چھان بین کے بعد کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کی کارروائی کی ہے۔ سماجوادی پارٹی کی طرف سے امیدوار کے اس طرح انتخاب کی وجہ سے اس پر چوطرفہ تنقید ہورہی ہے۔اسے ایل ایل سی کے ضمنی انتخابات کے تئیں   اس کی غیرسنجیدگی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔  اس سے قبل ابھی حال ہی میں لوک سبھا کی ۲؍ سیٹوں کیلئے بھی ضمنی انتخابات ہوئے تھے، جس میں سماجوادی پارٹی کو اپنی دونوں سیٹیں گنوانی پڑی تھیں۔ اس موقع پربھی پارٹی اور پارٹی سربراہ کو اپنی غیر سنجیدگی کا طعنہ سننا پڑا تھا۔  اعظم گڑھ اور رام پور کا حلقہ انتخابات سماجوادی پارٹی کیلئے بڑی اہمیت کا حامل تھا،اس کے باوجود انتخابی مہم میں اکھلیش یادو نے حصہ نہیں لیا تھا۔ نتیجتاً دونوں ہی انتخابی حلقوں میں سماجوادی پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اعظم گڑھ خود اکھلیش یادو کا انتخابی حلقہ تھا۔ 
  خیال رہے کہ پیر کو نامزدگی کے آخری دن ایس پی امیدوار کیرتی کول نےپارٹی کے ریاستی صدر نریش اتم پٹیل اور ایس پی چیف وہپ منوج پانڈے کی قیادت میں پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا۔ کیرتی نے احمد حسن کی موت سے خالی ہونے والی نشست  کیلئے فارم بھرا تھا۔ دوسری طرف پیر ہی کوبی جے پی امیدواروں نے  بھی ودھان بھون میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، نائب وزیر اعلیٰ کیشوپرساد موریہ اور برجیش پاٹھک کےعلاوہ پارٹی کے ریاستی صدر سوتنتر دیو سنگھ کی موجودگی میں پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا۔ اگر کیرتی کول کی نامزدگی درست ہوتی تو  اس کیلئے ۱۱؍اگست کو ووٹنگ ہوتی۔
  یوںتو دونوں خالی سیٹوں پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں بی جے پی امیدواروں کی جیت یقینی مانی جارہی تھی لیکن ایک سیٹ پر سماجوادی امیدوار نے اپنی جیت کا دعویٰ کیا تھا۔ کول نے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے بعد کہا تھا کہ انہیں اپنی کامیابی کا پورا بھروسہ ہے۔ سماجوادی صدر اکھلیش یادو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ایک قبائلی خاتون کوموقع دینے  کیلئے ہم ان کے مشکور ہیں۔ انہوں نے دوسری جماعتوں کے اراکین سےبھی اپیل کی تھی کہ قبائلی سماج کو آگے بڑھانے کیلئے ان کی مدد کریں،خاص کر بی جے پی سے قبائلی سماج سے تعلق رکھنے والے لیڈران ان کی حمایت کریں۔خیال ر ہے کہ  ودھان پریشد کی دو سیٹوں میں سے ایک سیٹ سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر احمد حسن کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی تھی جبکہ دوسری سیٹ ٹھاکر جئے ویر سنگھ کے ودھان سبھا کے رکن منتخب ہونے کے بعد ان کے استعفیٰ سے خالی ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK