اورنگ آباد لیباریٹری کے ملازمین نے وزیر کو خط لکھ کرکہاہے کہ انہیں دو شفٹوں میں کام کرنا پڑ رہا ہے اور چھٹی کے دن بھی دفتر بلایا جا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 10:38 AM IST | Z. A. Khan | Aurangabad
اورنگ آباد لیباریٹری کے ملازمین نے وزیر کو خط لکھ کرکہاہے کہ انہیں دو شفٹوں میں کام کرنا پڑ رہا ہے اور چھٹی کے دن بھی دفتر بلایا جا رہا ہے۔
اشیائے خورد ونوش بنانے یا فروخت کرنے والوں کے خلاف مسلسل کارروائی کے سبب سرخیوں میں رہنے والے فوڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن ( ایف ڈی اے) کے کمشنر تکارام منڈے کے خلاف انہی کے محکمے کے ملازمین نے شکایت کی ہے۔ اور نگ آباد میں واقع ریاستی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی لیباریٹری کے ۲۹ افسران اور ملازمین نے وزیر برائےخوراک و ادویات نرہری زروال کو خط لکھا ہے جس میںکام کے بوجھ اور چھٹی نہ ملنے کے سبب ناراضگی ظاہر کی گئی ہے۔
مکتوب کے مطابق، لیبارٹری میں اچانک دو شفٹوں میں کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، مگر اس کیلئے نہ مطلوبہ افرادی قوت فراہم کی گئی نہ ہی ضروری تکنیکی سہولیات اور وسائل مہیا کئے گئے۔ نتیجتاً موجودہ ملازمین پر اضافی کام کا بوجھ بڑھ گیا ہے اور انہیں صبح ۹ ؍بجے سے رات گئے تک خدمات انجام دینی پڑ رہی ہیں۔شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سنیچر، اتوار اور سرکاری تعطیلات کے دن بھی ملازمین کو کام پر حاضر ہونے کا حکم دیا جاتا ہے۔ لہٰذا ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کا توازن متاثر ہو رہا ہے۔ مزید یہ کہ اضافی سہولیات یا عملہ فراہم کئےبغیر کام کا دائرہ وسیع کئےجانے سے ملازمین میں بے چینی اور عدم اطمینان پیدا ہوا ہے۔اس عرضداشت پر لیبارٹری کے ۲۹ افسران اور ملازمین، جن میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھی شامل ہیں، کے دستخط موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’بی جے پی میں شامل ہو جاؤ ورنہ اڑا دیں گے‘‘
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دو شفٹوں کا نظام نافذ کرنے سے پہلے مطلوبہ افرادی قوت، جدید آلات اور دیگر ضروری وسائل فراہم کئے جائیں، تمام خالی اسامیوں کو فوری طور پر پُر کیا جائے اور دفتر کے اوقاتِ کار کو سابقہ نظام کے مطابق بحال کیا جائے۔ خوراک، ادویات اور کاسمیٹک کے زیر التوا نمونوں کی جلد از جلد جانچ مکمل کرنے کیلئے تجزیہ کاروں پر غیر معمولی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ملازمین نے کہا ہے کہ ادویات اور غذائی اشیا کی جانچ کیلئے انڈین فارماکوپیا، برٹش فارماکوپیا اور یو ایس فارماکوپیا جیسے معیارات کے مطابق مناسب وقت درکار ہوتا ہے، مگر جلد بازی میں کئے جانے والے تجزیوں سے معیار پر سمجھوتہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس معاملے میں وزیر نرہری زروال کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ حکومت اس معاملے میں کیا مؤقف اختیار کرتی ہے اور ملازمین کے مطالبات پر کیا فیصلہ لیا جاتا ہے۔