Inquilab Logo Happiest Places to Work

تمل ناڈو: مڈ ڈے میل میں چکن بریانی پیش کرنے پر غور

Updated: July 31, 2026, 9:51 AM IST | Chennai

ریاست میںطلبہ کومعیاری کھانا دینے کی مختلف حکومتوں کی روایت رہی ہےجسےجاری رکھنے پرزور دیاجارہا ہے۔

School students eating mid-day meal. Photo: INN
اسکولی طلبہ ’مڈ ڈے میل‘ کا کھانا کھاتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

تمل ناڈو کی مشہور ’مڈ ڈے میل‘ اسکیم کے حوالے سے ایک اہم اور دلچسپ تجویز سامنے آئی ہے۔ ریاستی حکومت اب سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو ہفتے میں سنیچر کو ایک دن دوپہر کے کھانے میںچکن بریانی دینے کی اسکیم پر غور کر رہی ہے۔ ریاستی وزیر تعلیم برائے اسکول راج موہن نے اس خیال کو وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کے سامنے پیش کیا ہے۔ اس تجویز پر بات کرتے ہوئے وزیر تعلیم راج موہن نے تمل ناڈو میں اسکولوں کے تعلق سے غذائیت کی اسکیموں کی شاندار تاریخ کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے ہر بڑے سیاسی دور نے اپنے طریقے سے اسکولی غذائیت پروگرام کو مضبوط کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’حکومت طلبہ پرکارروائی نہ کرنے کا وعدہ نبھائے‘‘

انہوں نے یاد دلایا کہ ’کے کامراج‘ نے سب سے پہلے مڈ ڈے میل منصوبے کی شروعات کی تھی۔ اس کے بعد کالیگنار کروناندھی نے اس میں انڈے بھی شامل کیے، اور ایم جی آر نے اسے غذائیت سے بھرپور کھانے کے پروگرام میں تبدیل کیا اور جے للتا نے پورے ہفتے انڈے تقسیم کرنے کی اسکیم کو آگے بڑھایا۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ ’’اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کی خواہش ہے کہ اب سرکاری اسکولوں میں ہفتے میں ایک دن بچوں کو چکن بریانی دی جائے۔‘‘ ذرائع کے مطابق یہ تجویز فی الحال وزیر تعلیم سی جوزف وجے کے زیر غور ہے۔ حالانکہ اس تعلق سے اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور انتظامی سطح پر اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔تمل ناڈو کو ہمیشہ سے ملک میں اسکولی غذائیت پروگرام کا پرچم بردار تصور کیا جاتا رہا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ کے کامراج کے ذریعہ شروع کی گئی ’مڈ ڈے میل اسکیم‘ نے پورے ملک میں فلاحی اسکیموں کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد آنے والی ہر حکومت نے کھانے کی غذائیت اور مینو میں بہتری کی ہے۔ اس ضمن میں ستمبر۲۰۲۲ء میں اس وقت کی ڈی ایم کے حکومت نے پرائمری اسکولوں کے طلباء کے لیے ’وزیر اعلیٰ ناشتہ اسکیم‘ کی شروعات کی تھی۔ جس کے بعد ’پیرونتھلائیور کامراج بریک فاسٹ اسکیم‘ نام دیا تھا۔ مڈ ڈے میل کے ساتھ چلنے والی اس اسکیم نے یہ یقینی بنایا کہ بچوں کو اسکول میں۲؍ وقت کا غذائیت سے بھرپور کھانا ملے۔ اگر وزیر اعلیٰ نے اس تجویز کو منظوری دے دی تو یہ ایک تاریخی تبدیلی ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی غذائیت کی سطح کو بہتر بنانے اور اسکولوں میں طلبہ کی حاضری بڑھانے کیلئے شروع کی گئی فلاحی اسکیموں کو تقویت دینے کی ریاست کی پرانی روایت بھی جاری رہے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK