چندر شیکھر باونکولے نے کہا اگر نام نہ ہو تو بی جے پی کی بدنامی نہ کریں۔
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 10:26 AM IST | Thane
چندر شیکھر باونکولے نے کہا اگر نام نہ ہو تو بی جے پی کی بدنامی نہ کریں۔
کاکروچ جنتا پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی کی طرف سے انہیں دھمکی دی گئی تھی کہ وہ بی جے پی میں شامل ہوجائیں ورنہ انہیں اڑا دیا جائے گا۔ اس کے رد عمل میں بی جے پی کے سینئر لیڈر اور ریاستی وزیر برائے محصول چندر شیکھر باونکولے نے ابھیجیت دپکے کو چیلنج کیا ہے کہ وہ انہیں دھمکی دینے والوں کا نام بتائیں اور نام نہیں بتا سکتے تو بلاوجہ بی جے پی کی بدنامی نہ کریں۔
تھانے میں ایک سرکاری پروگرام میں شرکت کے وقت چندر شیکھر باونکولے سے میڈیا نے ابھیجیت دپکے کے الزامات پر سوال پوچھا تو انہوں نے کہا ’’ بی جے پی کے کارکنان کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ ایک کروڑ ۵۱؍ لاکھ اراکین تو صرف مہاراشٹر میں ہے۔ ملک بھر میں کارکنان کی تعداد ۱۳؍ کروڑ سے زائد ہے۔ ابھیجیت دپکے بتائیں کہ ان میں سے کس نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی یا پارٹی میں شامل ہونے کا آفر دیا تھا۔ ‘‘ باونکولے نے کہا ’’ ہم دھمکی دینے والے پر کارروائی کریں گے لیکن اگر وہ نام نہیں بتا سکتے تو پھر بلاوجہ بی جے پی بدنامی نہ کریں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے طلبہ کا علاج کرانے کا حکم
شیوسینا(شندے) سے تعلق رکھنے والے وزیر صنعت اُودئے سامنت نے اس معاملے میں اپنےحلیف (باونکولے) کے مقابلے کافی محتاط بیان دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھیجیت دپکے نے جو کچھ کہا ہے اس پر یقینی طور پر حکومت غور کرے گی۔ اگر ان کے الزامات میں سچائی ہوئی تو اس معاملے میں کارروائی بھی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کا جو احتجاج ہے پیپر لیک کے تعلق سے وہ مناسب ہے لیکن کچھ لوگوں نے اسے سیاست کا ذریعہ بھی بنایا ہے طلبہ کو اس سے بچنا چاہئے لیکن دپکے جی نے جو کچھ کہا ہے اس پر گفتگو ہو سکتی ہے۔ حکومت ضرورت اس معاملے میں غور کرے گی ۔
اسی دوران حال ہی میں شیوسینا (شندے) میں شامل ہونے والے سابق رکن اسمبلی اور کسان لیڈر بچو کڑو نے اورنگ آباد جا کر ابھیجیت دپکے سے ملاقات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں حکومت میں شامل ہوں اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں مظاہرین سے مل نہیں سکتا۔ بچو کڑو کا کہنا تھا کہ اگر ابھیجیت دپکے کسانوں کے حقوق کی خاطر آواز بلند کرتے ہیں تو وہ پوری طرح سے ان کا ساتھ دیں گے۔