Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے طلبہ کا علاج کرانے کا حکم

Updated: July 31, 2026, 9:46 AM IST | New Delhi

سپریم کورٹ میں اہم سماعت لیکن بنچ نے عرضی گزار سے تلخ سوال بھی پوچھے، احتجاج کے دوران استعمال ہوئے ہتھیاروں کا مکمل ریکارڈ رکھنے کی ہدایت۔

The Supreme Court has issued important orders during the hearing. Photo: INN
سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران اہم احکامات جاری کئے ہیں۔ تصویر: آئی این این

دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد میں پیلٹ گن کے استعمال کے خلاف جمعرات کو سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہوئی۔ اس دوران عدالت نے کہا کہ انتہائی سنگین حالات میں لاٹھی چارج اور آنسو گیس سے تشدد قابو میں نہ آنے پر پولیس کو گولی چلانے کی اجازت ہوتی ہے۔ عدالت نے عرضی گزار سے یہ سوال بھی کیا کہ اگر کوئی احتجاجی مظاہرہ شرپسند عناصر کے قبضے میں آ کر پرتشدد ہو جائے تو پولیس کو پیلٹ گن استعمال کرنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے دہلی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ پیلٹ گن سے مبینہ فائرنگ میں زخمی ہونے والے مظاہرین کو مناسب علاج فراہم کیا جائے۔سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ہدایت جاری کی کہ وہ ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کے گولہ-بارود کا ریکارڈ محفوظ رکھے اور وہ ریکارڈ بھی محفوظ رکھے جس سے معلوم ہو کہ احتجاج کے دوران حالات کو قابو میں کرنے کے لئے کون کون سے ہتھیار استعمال ہوئے تھے۔ ساتھ ہی عدالت نے مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن کے استعمال پر روک کا مطالبہ کرنے والے عرضی گزار اور سابق آئی پی ایس افسر یشو وردھن آزاد سے چند سوال بھی  کئے۔ جنتر منتر اور دیگر مقامات پر احتجاج کر رہے طلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے خلاف دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے یہ باتیں کہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’حکومت طلبہ پرکارروائی نہ کرنے کا وعدہ نبھائے‘‘

عرضی گزار کی وکیل ورندا گروور نے کہا کہ پیلٹ گن میں ’کائنیٹک میٹالک پروجیکٹائیل‘ ہوتا ہے۔ جسٹس جوئے مالیہ باغچی نے کہا کہ لیکن پولیس کے قوانین خاص حالات میں اس کے استعمال کی اجازت دیتے ہیں، جب تک کہ آپ خود ان قوانین کو چیلنج نہ کریں۔ گریڈیڈ اپروچ (مرحلہ وار طریقے) کے تحت پیلٹ گن کا استعمال بھی ایک قدم ہے۔ اس پر ورندا گروور نے کہا کہ پیلٹ ربر، پلاسٹک اور میٹل کے ہو سکتے ہیں۔ یہ میٹل کے تھے اور لوگوں کے جسموں سے نکالے گئے تھے۔ جسٹس باغچی نے کہا کہ ہم کسی خاص معاملے میں چھروں (پیلیٹس) کے استعمال کی جانچ کرنے کے خلاف نہیں ہیں۔ آپ کو ہمیں یہ دکھانا ہوگا کہ کیا پیلیٹس کا استعمال گریڈیڈ رسپانس (حالات کے حساب سے) کے طور پر کیا جا سکتا ہے، جبکہ کچھ حالات میں گولیاں بھی چلائی جاتی ہیں۔

چیف جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے کہا کہ پیلٹ کے مبینہ طور پر بہت زیادہ استعمال کو دیکھتے ہوئے آپ کی مانگ یہ ہونی چاہیے کہ عدالت ان کے استعمال کے لیے کوئی پروٹوکول طے کرے۔ گروور نے کہا کہ جی ہاں میٹل کے پیلٹ کے  لئے یہ ہونا ہی چاہئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’بی جے پی میں شامل ہو جاؤ ورنہ اڑا دیں گے‘‘

جسٹس باغچی نے کہا کہ کلکتہ ہائی کورٹ میں ایک قانون تھا کہ گولہ-بارود بچانے کے  لئے گولیاں جسم کے دیگر حصے کے بجائے سینے پر چلائی جانی چاہیے۔ اس پر سالیسٹر جنرل نے کہا کہ یہ ضرور نوآبادیاتی دور کا قانون رہا ہوگا۔ جسٹس باغچی نے کہا کہ اس قانون کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ اس لیے آپ کو ہمیں ایسے قانون دکھانے ہوں گے جہاں پیلٹ کا استعمال من مانے طریقے سے کیا جا رہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ کانگریس سمیت کئی اپوزیشن پارٹیوں کا الزام ہے کہ دہلی میں طلبہ پر پیلٹ گن چلائی گئی۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے کہا کہ طلبہ کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا گیا، ان پر پیلٹ گن چلائی گئی، جن لوگوں نے یہ گن چلائی وہ وزیر داخلہ امیت شاہ کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر کے طور پر عوامی مسائل کو اٹھانا میرا حق ہے۔ میرے  لئے آج سب سے اہم مسئلہ طلبہ کے ساتھ ہونے والا وحشیانہ سلوک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا حکم دیا جائے۔ طلبہ کے ساتھ جو ہوا اس کی اخلاقی ذمہ داری قبول کی جائے اور وزیر داخلہ امیت شاہ اس معاملے میں استعفیٰ دیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK