Updated: October 12, 2026, 6:01 PM IST
| New Delhi
چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت نے کہا ہے کہ جب شہریوں کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کی خلاف ورزی ہو تو عدالتوں کو مداخلت کرنی چاہئے، جبکہ قومی انسانی حقوق کمیشن کو شکایات کی تحقیقات اور انتظامی خامیوں کی نشاندہی کرنی چاہئے۔ نئی دہلی کے وگیان بھون میں قومی انسانی حقوق کمیشن کے ۳۳؍ ویں یومِ تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صاف پانی تک رسائی کو انسانی وقار اور آئینی حقوق سے جوڑا۔ ان کے مطابق محض گھروں میں نل لگادینا پانی کی فراہمی کی ضمانت نہیں؛ پانی کا محفوظ، قابلِ اعتماد اور ضرورت کے وقت دستیاب ہونا بھی ضروری ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت۔ تصویر: ایکس
چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت نے کہا ہے کہ شہریوں کی بنیادی آزادیوں اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہونے پر عدالتوں کو مداخلت کرکے ان حقوق کا تحفظ کرنا چاہئے۔ انہوں نے قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) کے کردار کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن کو شکایات کی تحقیقات، انتظامی نظام کی خامیوں کی نشاندہی اور ان مسائل کو ادارہ جاتی سطح پر اٹھانا چاہئے جو بصورتِ دیگر نظر انداز رہ سکتے ہیں۔ جسٹس سوریہ کانت پیر کو نئی دہلی کے وگیان بھون میں قومی انسانی حقوق کمیشن کے ۳۳؍ ویں یومِ تاسیس کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر کمیشن نے ’پانی: زندگی کا جوہر، پانی کے حق کے ذریعے انسانی وقار کا فروغ‘ کے موضوع پر قومی کانفرنس بھی منعقد کی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہندوستان نے بالخصوص دیہی علاقوں میں گھروں تک نل کے ذریعے پینے کا پانی پہنچانے کے لیے بڑی کوششیں کی ہیں اور اس پیش رفت کی ستائش ہونی چاہئے۔ تاہم، ان کے مطابق اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا لوگوں کو ملنے والا پانی محفوظ، قابلِ اعتماد اور ضرورت کے وقت دستیاب بھی ہے؟ انہوں نے کہا، ’’محض ایک نل کا ہونا پانی تک حقیقی رسائی نہیں ہے۔ حکومت کو ایسے نظام بنانے اور برقرار رکھنے چاہئیں جن کے ذریعے پانی لوگوں تک پہنچے۔ جب آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہو تو عدالتوں کو مداخلت کرنی چاہئے اور انسانی حقوق کے کمیشنوں کو شکایات کی تحقیقات کرنی چاہئیں، انتظامی و نظامی خامیوں کی نشاندہی کرنی چاہئے اور ان مسائل کو ادارہ جاتی سطح پر اٹھانا چاہئے، ورنہ وہ نظر انداز رہ جاتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: دہلی: جنتر منتر احتجاجی فہرست سے خارج؛ سی جے پی کا ۲۴؍ گھنٹے کا الٹی میٹم
صاف پانی تک رسائی انسانی وقار کا معاملہ
چیف جسٹس نے پانی کی فراہمی کو محض بنیادی سہولت کے بجائے انسانی حقوق اور وقار سے جڑا معاملہ قرار دیا۔ ان کے مطابق گھروں تک پانی کی پائپ لائن پہنچانا کافی نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ پانی آلودگی سے پاک ہو اور مستقل طور پر دستیاب رہے۔ انہوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ اگر کسی گھر میں نل تو موجود ہو لیکن پانی نہ آتا ہو، یا فراہم کیا جانے والا پانی آلودہ ہو، تو اسے پانی تک حقیقی رسائی نہیں کہا جاسکتا۔ آلودہ پانی انسانی صحت اور زندگی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ جسٹس سوریہ کانت نے انسانی حقوق کے وسیع تر مفہوم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صحت، خوراک، رہائش، روزگار اور صاف ماحول تک رسائی بھی انسانی وقار سے وابستہ ہے۔ صاف پانی کی عدم دستیابی نہ صرف صحت کو متاثر کرتی ہے بلکہ تعلیم، روزگار اور خاندانوں کی روزمرہ زندگی پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ حکومتیں پانی کی فراہمی کے نظام کو قائم کرنے اور اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری پوری کریں، جبکہ عدالتیں اور انسانی حقوق کے ادارے ان معاملات پر توجہ دیں جہاں بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی شہریوں کے حقوق کو متاثر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اپوزیشن کے سپریم کورٹ مارچ سے قبل راہل گاندھی کا دعویٰ، گیانیش کمار رابطے میں ہیں
عدالتوں اور انسانی حقوق کمیشن کے الگ الگ کردار
چیف جسٹس نے آئینی عدالتوں اور انسانی حقوق کمیشنوں کے دائرۂ کار میں فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں آئین کی دفعہ ۳۲؍ اور ۲۲۶؍ کے تحت اپنے رِٹ اختیارات استعمال کرکے قانونی چارہ جوئی اور ریلیف فراہم کرسکتی ہیں، جبکہ انسانی حقوق کے کمیشنوں کے پاس حقائق کی جانچ اور زمینی سطح پر انتظامی خامیوں کا جائزہ لینے کا اہم نظام موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے ادارے ایسے معاملات سامنے لانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں جن میں متاثرہ افراد وسائل کی کمی یا دیگر رکاوٹوں کے سبب عدالتوں سے رجوع کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
جسٹس سوریہ کانت نے کہا، ’’بعض اوقات لوگ کہتے ہیں کہ کمیشن صرف سفارشات پیش کرسکتا ہے، حکم نہیں دے سکتا۔ لیکن میں اس کا ایک مختلف زاویہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اس کا مقصد ناانصافی کی لہروں کو روکنا نہیں، بلکہ ان لوگوں کے لیے رہنمائی کی روشنی فراہم کرنا ہے جو اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔ کسی انسانی حقوق کے ادارے کی اہمیت اس کے احکامات کی جبری قوت سے نہیں، بلکہ اس اعتبار اور بھروسے سے قائم ہوتی ہے جو وہ وقت کے ساتھ حاصل کرتا ہے۔‘‘ ان کے مطابق انسانی حقوق کے کمیشن آزادانہ تحقیقات کرنے، انتظامی نظام کی خامیوں کا جائزہ لینے اور محروم طبقات کی شکایات کو متعلقہ اداروں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس طرح وہ ان لوگوں کے مسائل کو بھی اجاگر کرسکتے ہیں جن کی آواز اکثر فیصلہ ساز اداروں تک نہیں پہنچ پاتی۔
یہ بھی پڑھئے: اکولہ : ۴؍ منزلہ عمارت منہدم، ملبہ تلے دبی ۴؍لڑکیوں کو بچالیا گیا
این ایچ آر سی نے ۳۳؍ برس میں ۲۴؍ لاکھ سے زائد معاملات درج کیے
قومی انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن اور سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس وی راما سبرامنیم نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے چیف جسٹس سوریہ کانت کی شرکت پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کا عہدہ ملک کے اہم ترین، طاقتور اور حساس عہدوں میں شامل ہے، جہاں ذمہ داریوں اور مسلسل آزمائشوں کا سامنا رہتا ہے۔ این ایچ آر سی کے مطابق، اپنے ۳۳؍ سالہ سفر میں کمیشن نے ۲۴؍ لاکھ سے زیادہ معاملات درج کیے، جن میں ۳۱۰۰؍ ازخود نوٹس کے تحت شروع کیے گئے معاملات بھی شامل ہیں۔ کمیشن نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متاثرہ افراد کے لیے ۲۷۴؍ کروڑ روپے کی امداد کی سفارش کی ہے۔ چیف جسٹس نے انسانی حقوق کے تحفظ میں کمیشن کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ادارہ شکایات کی تحقیقات، جواب دہی اور انصاف تک رسائی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اپنا کام جاری رکھے گا۔