Updated: August 27, 2026, 9:06 PM IST
| Washington
مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت (AI) کے تیز رفتار پھیلاؤ پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومتوں نے فوری اقدامات نہ کیے تو اس کے نقصانات فوائد پر غالب آسکتے ہیں۔ اپنے تقریباً ۶؍ ہزار الفاظ کے مضمون میں گیٹس نے کہا کہ اے آئی لاکھوں ملازمتیں ختم کرسکتی ہے، سائبر حملوں اور فراڈ کو آسان بنا سکتی ہے، حیاتیاتی ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت بڑھا سکتی ہے اور بچوں کی ذہنی و سماجی نشوونما کو متاثر کرسکتی ہے۔
بل گیٹس۔ تصویر: آئی این این
مصنوعی ذہانت کے امکانات کے طویل عرصے سے حامی رہنے والے مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے اب اس ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا اے آئی کے دور میں داخل ہونے کے لیے تیار نہیں۔ گیٹس نے اپنے تازہ مضمون میں کہا کہ اے آئی ’’دنیا میں سب سے بڑی مساوات پیدا کرنے والی ایجاد‘‘ ثابت ہوسکتی ہے یا ’’ناانصافی کا بدترین ذریعہ‘‘ بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کی رفتار اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے موجودہ تیاری کا فقدان ہے۔ گیٹس کی سب سے بڑی تشویش روزگار سے متعلق ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی قانون، کسٹمر سروس، سافٹ ویئر، طب اور مینوفیکچرنگ سمیت متعدد شعبوں میں انسانی کام سنبھال سکتی ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی اور درمیانی سطح کی ملازمتیں خاص طور پر خطرے میں ہیں، جس سے نوجوانوں کے لیے عملی تجربہ حاصل کرنے کے مواقع بھی کم ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال تبت سیلاب میں ۱۶۲؍ ہلاکتیں، ۱۵۰۰؍ افراد لاپتہ
انہوں نے یہ بھی کہا کہ خطرہ صرف دفتری ملازمتوں تک محدود نہیں رہے گا۔ گیٹس کے مطابق دہائی کے اختتام تک تعمیرات اور مہمان نوازی جیسے شعبوں میں بھی جدید روبوٹ بعض جسمانی کاموں میں انسانوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کمپنیوں کو انسانی ملازمین کی جگہ مشینیں لگانے سے مالی فائدہ ہوگا تو مارکیٹ کا دباؤ اس تبدیلی کو مزید تیز کرسکتا ہے۔ اے آئی سے پیدا ہونے والے جرائم بھی گیٹس کے خدشات میں شامل ہیں۔ انہوں نے سائبر حملوں، فراڈ، ڈیپ فیکس، غلط معلومات اور نگرانی کے لئے اے آئی کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ٹیکنالوجی سے کم مہارت رکھنے والے مجرم بھی بڑے پیمانے پر افراد، کمپنیوں اور حکومتوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے حیاتیاتی خطرات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ اے آئی جہاں نئی ادویات اور ویکسین کی تیاری میں مدد دے سکتی ہے، وہیں خطرناک بیماری تیار کرنے کی صلاحیت بھی آسان بنا سکتی ہے۔
گیٹس نے بچوں کی نشوونما پر اے آئی کے ممکنہ اثرات کو بھی اہم خطرہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اے آئی ساتھی یا ’AI companions‘ بچوں کو انسانی تعلقات سے دور کرسکتے ہیں کیونکہ یہ ہر وقت دستیاب ہوتے ہیں اور صارف کی پسند کے مطابق ردعمل دیتے ہیں۔ ان کا خدشہ ہے کہ اس سے بچوں کے سماجی میل جول اور جذباتی نشوونما پر منفی اثر پڑسکتا ہے۔ تاہم گیٹس نے اے آئی کے فوائد کو مسترد نہیں کیا۔ ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی صحت، تعلیم، زراعت اور سرکاری خدمات میں نمایاں بہتری لاسکتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان فوائد کو یقینی بنانے کے لیے حکومتوں کو پہلے سے ایسے نظام بنانا ہوگا جو روزگار، سلامتی اور سماجی اثرات سے نمٹ سکیں۔
یہ بھی پڑھئے: بڑھتی مہنگائی نے رسوئی کا بجٹ بگاڑ دیا ہے
گیٹس نے بعض ملازمتوں کو انسانوں کے لیے مخصوص رکھنے کا تصور بھی پیش کیا ہے، جسے انہوں نے ’’Human Reserved‘‘ کا نام دیا۔ ان کے مطابق ایسے کام جن میں ہمدردی، انسانی تعلق اور جذباتی سمجھ بوجھ بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، مکمل طور پر مشینوں کے حوالے نہیں کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے اے آئی سے پیدا ہونے والی معاشی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ٹیکس پالیسی میں تبدیلی کی تجویز بھی دی۔ ان کے مطابق AI کے ذریعے انسانی محنت کی جگہ لینے والی کمپنیوں یا AI کے استعمال پر ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم متاثرہ کارکنوں کی مدد، تربیت اور سماجی تحفظ کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔ گیٹس نے قومی سطح پر نئی نگرانی کرنے والے اداروں کے ساتھ ایک عالمی ادارہ قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے، جو سرحدوں سے تجاوز کرنے والے اے آئی خطرات سے نمٹے۔ انہوں نے اس نظام کے لیے جوہری نگرانی، عالمی ہوابازی اور ماحولیاتی معاہدوں کو ممکنہ مثالوں کے طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق حکومتوں ککے پاس اے آئی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ وقت نہیں ہے۔
گیٹس نے یہ موقف بھی اختیار کیا کہ اے آئی صنعت کو خود اپنی نگرانی پر چھوڑنا کافی نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں، ماہرین اور معاشرے کو مل کر ایسے اصول بنانے ہوں گے جو ٹیکنالوجی کے فوائد برقرار رکھتے ہوئے اس کے خطرناک استعمال کو محدود کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا کو اے آئی کی رفتار کے مطابق تیاری نہ کرنے کی صورت میں بے روزگاری، سماجی عدم مساوات اور سلامتی کے مسائل مزید سنگین ہوسکتے ہیں۔