کئی شہروں میں پیاز، شکر اور سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں بھاری اضافہ، کھرگے کا مہنگائی پر قابو پانے کیلئے فوری اقدام کا مطالبہ۔
EPAPER
Updated: August 27, 2026, 12:36 PM IST | Agency | New Delhi
کئی شہروں میں پیاز، شکر اور سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں بھاری اضافہ، کھرگے کا مہنگائی پر قابو پانے کیلئے فوری اقدام کا مطالبہ۔
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے ملک میں بڑھتی مہنگائی پر بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی توجہ ہٹانے والے اسٹنٹ اور بے تکی باتوں میں لوگوں کو الجھا کر اپنی کرتوتوں پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے لیکن کانگریس اور عوام مہنگائی کے مسئلے پر سوال پوچھتے رہیں گے۔ کھرگے نے تہواروں کے درمیان عام آدمی کے باورچی خانے پر پڑ رہے مہنگائی کے اثر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پیاز کے دام ایک سال میں ۵۹؍فیصد تک بڑھ گئے ہیں اور کئی شہروں میں یہ۵۰؍سے۶۰؍روپے فی کلوفروخت ہورہی ہے۔ انہوں نے شکر کی قیمت۶۰؍سے۷۰؍ روپے فی کلو اور کچھ جگہوں پر۷۲؍روپے تک پہنچنے کا دعویٰ کیا۔ وہیں، سرسوں کے تیل کی قیمت۲۰۰؍روپے فی لیٹر سے زیادہ ہونے کی بات کہی۔کانگریس صدر نے غذائی مہنگائی کی شرح۵۲ء۵؍فیصد اور تھوک مہنگائی کی شرح۷۸ء۹؍فیصد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ۱۲؍ سال سے بی جے پی کی حکومت ہے لیکن اچھے دنوں میں کبھی دال، کبھی سبزی، کبھی تیل اور کبھی شکر عام آدمی کا بجٹ بگاڑتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو توجہ ہٹانے کے بجائے مہنگائی پر جواب دینا چاہیے اور عوام کو راحت دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔
یہ بھی پڑھئے: پیاز کی بڑھتی قیمتوں پر حکومت کا بڑا قدم، ۳۵؍ روپے فی کلو کی رعایتی قیمت پر فروخت
آئندہ دنوں میںتہواروں سےپہلے مہنگائی نے کچن کا بجٹ بگاڑ دیا ہے۔ شکر، آٹا، دالوں اور سرسوں کے تیل کے ساتھ ساتھ پیاز سے لے کر ہری سبزیوں تک ہر چیز کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔شکر سب سے زیادہ مہنگی ہوچکی ہے۔۔شکر جو تقریباً ایک ماہ قبل۴۵؍ روپے فی کلو میں فروخت ہوتی تھی، اب خردہ بازار میں۶۵؍ روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔شکر کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے، تھوک قیمت۶۴۰۰؍ روپے فی کوئنٹل تک پہنچ گئی ہے۔ تہوار کے دوران مٹھائیوں، پکوانوں اور دیگر پکوانوں میں شکر کی بڑھتی ہوئی کھپت صارفین پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اے آئی سیکوریٹی مارکیٹ میں تیزی، ۲۰۲۷ء تک ۸ء۴؍ارب ڈالر پہنچنے کا امکان
پیاز کی قیمتوں میں اضافے نے گھریلو خواتین کی پریشانیوں کو بڑھا دیا ہے۔ آلو، ٹماٹر اور ہری مرچ سمیت کئی سبزیوں کی قیمتیں بھی اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔ روزمرہ کی سبزیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے خاندانوں کے روزمرہ کے اخراجات کو متاثر کیا ہے۔ مزید برآں، آٹے، دالوں اور چاول کی قیمتیں برانڈ اور معیار کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہیں۔ گھریلو خواتین کا کہنا ہے کہ اگرچہ تہوار کی خریداری ضروری ہے، لیکن مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتیں محدود بجٹ میں ضروری اشیاء کا انتظام مشکل بنا رہی ہیں۔
آن لائن شاپنگ سے راکھیوں کا کاروبار متاثر
رَکشا بندھن کا تہوار قریب آ رہا ہے مگر تاجروں کا کہنا ہے کہ آن لائن شاپنگ کا براہ راست اثر ان کے کاروبار پر پڑ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق دکانداروں نے بچوں اور نوجوانوں کو راغب کرنے کیلئے کارٹون، لائٹ اور مختلف ڈیزائن والی نئی راکھیاں منگوائی ہیں۔ اس کے باوجود صارفین کی تعداد توقع کے مطابق نہیں ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ آن لائن شاپنگ کے بڑھنے سے مقامی بازاروں میں کاروبار پر خاصا اثر پڑا ہے۔ لوگ گھر سے اپنی پسندیدہ راکھیاں منگوا رہے ہیں اور بہت سی بہنیں انہیں براہ راست اپنے بھائیوں کے گھر بھیج رہی ہیں۔ نتیجتاً روایتی بازاروں میں خریداری میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔