Updated: August 27, 2026, 2:37 PM IST
| Kathmandu
نیپال اور تبت کی سرحد پر گلیشیئر کے انہدام سے آنے والے تباہ کن سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم ۱۶۲؍ ہوگئی ہے، جبکہ نیپال اور تبت میں مجموعی طور پر تقریباً ۱۵۰۰؍ افراد لاپتہ ہیں۔ سیلاب نے گھر، سڑکیں، پل، بجلی کے منصوبے اور سرحدی تنصیبات بہا دیں۔ نیپال میں سیکڑوں غیر ملکی سیاح اور یاتری بھی لاپتہ افراد میں شامل ہیں۔ ہندوستان کے کم از کم ۱۳۳؍ شہریوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ ابتدائی طور پر زلزلے کو سیلاب کا ممکنہ سبب سمجھا گیا تھا، تاہم امریکی جیولوجیکل سروے نے بعد میں واضح کیا کہ ریکارڈ ہونے والی زلزلہ نما سرگرمی خود گلیشیئر اور چٹانوں کے انہدام سے پیدا ہوئی تھی۔ ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔
نیپال تبت سرحد پر آنے والے تباہ کن سیلاب میں کم از کم ۱۶۲؍ افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، جبکہ نیپال اور چین کے تبت خطے میں مجموعی طور پر تقریباً ۱۵۰۰؍ افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سیلاب نے کئی بستیاں، سڑکیں، پل اور بجلی کے منصوبے تباہ کردیئے۔ یہ سیلاب بدھ کو نیپال کے روسوا ضلع اور چین کے تبت خطے میں آیا۔ انتہائی تیز رفتار پانی، کیچڑ اور چٹانوں کے ملبے نے چند ہی لمحوں میں عمارتوں اور گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ویڈیو مناظر میں سرحدی علاقے میں کئی منزلہ عمارتوں پر ملبے کا سیلاب آتا اور گاڑیاں بہتی دکھائی دیتی ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق لاپتہ افراد میں ۷۰۰؍ سے زیادہ غیر ملکی شامل ہیں۔ نیپال میں تقریباً ۸۲۶؍ افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے، جن میں تقریباً ۵۰۰؍ غیر ملکی ہیں، جبکہ تبت کے گیئرونگ کاؤنٹی میں ۵۵۸؍ افراد لاپتہ بتائے گئے ہیں، جن میں ۲۶۰؍ غیر ملکی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال: تباہ کن سیلاب کی وجہ سامنے آگئی، گلیشیئر کا دو تہائی حصہ ٹوٹ کر گرا
نیپال میں لاپتہ غیر ملکیوں میں ۱۷۷؍ ہندوستانی، ۶۳؍ امریکی، ۳۴؍ آسٹریلوی، ۳۳؍ برطانوی اور ۲۵؍ کینیڈین شہری شامل ہیں۔ متعدد افراد کیلاش مانسروور کی یاترا یا ہمالیائی علاقوں میں سیاحت کے لیے وہاں موجود تھے۔ سیلاب سے نیپال میں کم از کم ۱۹؍ پل اور تقریباً ۴۰؍ کلومیٹر سڑک بہہ گئی۔ بجلی کے منصوبوں کو بھی نقصان پہنچا ہے، جبکہ سرحدی راستوں، مواصلاتی نظام اور کئی علاقوں کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔ ابتدائی طور پر حکام نے علاقے میں آنے والے زلزلے کو ممکنہ محرک سمجھا تھا، لیکن امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) نے بعد کے تجزیے میں واضح کیا کہ یہ زلزلہ نہیں تھا۔ سیٹلائٹ تصاویر اور زلزلہ اسٹیشنوں کے اعداد و شمار کے جائزے سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ ہونے والی زلزلہ نما لہریں گلیشیئر اور چٹانوں کے انہدام سے پیدا ہوئی تھیں۔ اس واقعے کو ۲ء۵؍ شدت کے برابر زلزلہ نما سرگرمی کے طور پر ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:راہل گاندھی کا فرنویس کو خط، قبائلی طلبہ کے مسائل پرتوجہ دلائی، وزیر اشوک اوئیکے کی غلط بیانی
سیٹیلائٹ تجزیے کے مطابق گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ تقریباً ۵۲۰۰؍ میٹر کی بلندی سے ٹوٹ کر تقریباً ۱۲۰۰؍ میٹر نیچے وادی میں گرا۔ برف اور چٹانوں کے اس بڑے تودے نے دریا کو عارضی طور پر روک دیا، جس کے بعد قدرتی رکاوٹ ٹوٹنے سے پانی اور ملبے کا انتہائی طاقتور ریلہ نیچے کی جانب آیا۔ ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ علاقوں میں کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ نیپالی فوج اور پولیس کے ۵؍ ہزار سے زائد اہلکار سرچ آپریشن میں شامل ہیں، جبکہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے خوراک، خیمے اور دیگر امدادی سامان پہنچایا جارہا ہے۔ جمعرات کو ۱۲۵؍ افراد، جن میں ۲۰؍ غیر ملکی شامل تھے، کو ریسکیو کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ امن منصوبہ: حماس ہتھیار اور حکومتی اختیار منتقل کرنے پر راضی
حکام کو ایک اور سیلاب کا خطرہ بھی درپیش ہے۔ چین کے تبت خطے میں ایک مقام پر دریا کے پانی کے راستے میں رکاوٹ سے بننے والی جھیل کی نگرانی کی جارہی ہے، کیونکہ مزید بارش کی صورت میں اس کا اچانک اخراج نئی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ نیپال کے علاوہ ہندوستان نے بھی امدادی کارروائی شروع کردی ہے۔ نئی دہلی نے نیپال کے لیے ابتدائی امدادی سامان روانہ کیا ہے، جبکہ ہندوستانی شہریوں کے لاپتہ ہونے کے پیش نظر متعلقہ حکام ریسکیو اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ یہ خطہ گزشتہ سال بھی گلیشیئر سے متعلق سیلاب کا شکار ہوا تھا۔ ماہرین کے مطابق ہمالیہ میں گلیشیئرز کے عدم استحکام اور بڑھتے درجۂ حرارت کے باعث برفانی جھیلوں کے پھٹنے، گلیشیئر انہدام اور اچانک سیلاب کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ موجودہ واقعے میں بھی مخصوص گلیشیئر کے ٹوٹنے کی بنیادی وجہ جاننے کے لیے مزید سائنسی جائزہ جاری ہے۔