• Mon, 26 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیاول : آر ایس ایس کے جلوس کے راستے پر تنازع میں پتھراؤ

Updated: October 26, 2026, 3:47 PM IST | Sharjeel Qureshi | Biyawal

۴؍ پولیس اہلکار سمیت ۷؍ افراد زخمی۔ پولیس نے ہلکا لاٹھی چارج کیا۔ ۱۵؍سے زیادہ افراد گرفتار۔ علاقہ میں کشیدگی ۔حالات کے پیش نظر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات۔

People from the village are seen raising objections regarding the route of the RSS procession. Photo: INN
کن گاؤں کے لوگ آر ایس ایس کے جلوس کے راستے سے متعلق اعتراض کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

یہاں کے کن گاؤں میں دسہرہ کے مناسبت سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس ) کے جلوس ’پتھ سنچلن ‘ کے روٹ کے معاملے پر۲؍ الگ الگ فرقوں میں تنازع کی وجہ سے علاقے میں کشیدگی پیدا ہوگئی   ۔خواتین نے سڑک پر احتجاج کرتے ہوئے دھرنا شروع کر دیا کیونکہ وہ  جلوس   کے طے شدہ راستے پر موجود مذہبی مقام کے سامنے  سے جلوس  لے جانے کی مخالفت کر رہی تھیں۔اس واقعات کے بعد ماحول مزید کشیدہ ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے علاقے میں پتھراؤ   شروع ہوگیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ پولیس نے حالات کو قابو میں کرنے کیلئے پہلے مداخلت کی اور پھر ہلکا لاٹھی چارج کیا ۔ واقعہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس کے اعلیٰ افسران سمیت بڑی تعداد میں پولیس اہلکار کن گاؤں میں   تعینات ہیں۔

دسہرہ کی مناسبت سے اتوار۲۵؍اکتوبر کی صبح جلگاؤں ضلع کے بیاول تعلقہ کے کن گاؤں میں آر ایس ایس کی طرف سے ایک جلوس(پتھ سنچلن)نکلا گیا  ۔اس جلوس کیلئے طے شدہ راستے پرتنازع پیدا ہوگیا۔ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایک گروپ نے طے شدہ راستے پر ایک مذہبی مقام کے سامنے جلوسکے گزرنے پر اعتراض کیا۔اس بارے میں موصولہ  اطلاع کے مطابق اس راستے کی بجائے دوسرے راستے سے جلوس لے جانے کا مطالبہ کیا گیا ج ۔   مخالفت بڑھ گئی اور کچھ مرد و خواتین کا ہجوم متعلقہ جگہوں پر سڑک پر بیٹھ گیا۔ان کا کہنا تھاکہ جلوس  یہاں سے گزرنے نہیں دیں گے۔ اس سے سڑک پر ٹریفک کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔

یہ بھی پڑھئے:ممبئی لوکل ٹرین متعدد تکنیکی خرابیوں کے باعث تاخیر کا شکار، مسافروں کو پریشانی

حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے موقع پر پولیس پہنچ گئی اور اعتراض کرنے والے ہجوم کو سمجھانے کوشش کی۔ اسی درمیان میں سنگھ کا پتھ سنچلن جو نکل چکا تھااور وہ مذہبی مقام کے نزدیک  پہنچنے والا تھا لیکن مقامی لوگ اپنے اعتراض پر قائم تھے ۔جب جلوس کو گزرنے کیلئے پولیس نے زبردستی لوگوں کو دھرنے سے اٹھایا اور ہلکا لاٹھی چارج کرکے ہجوم کو منتشر کیاتبھی  جلوس  متعلقہ مقام سے آگے بڑھ گیا لیکن جلوس  کا آخری سرا گزر رہا تھا  تبھی اچانک سے پتھر اؤ شروع ہوگیا۔ اس کے سبب حالات مزید کشیدہ ہو گئے ۔موقع پر ضلع ایس پی شری کانت دھیوارے ،ایڈیشنل ایس پی بھساول زون سندیپ گاویت، ایس  ڈی  ایس  او انل بڑگجر اور بیاول پولیس اسٹیشن کے انچارج انسپکٹر سمیت بڑی تعداد میں پولیس اہلکار موجود تھے۔

پتھراؤ میں آر ایس ایس  کے ایک پرچارک اور تین تا ۴؍ پولیس اہلکاروں کے علاوہ کم و بیش۷؍فراد کے زخمی ہونے کی اطلاع   ہے۔  اس معاملے میں پولیس نے ۲؍ خواتین سمیت  کم و بیش ۱۵؍افراد کو حراست میں لے لیاہے۔ ملی اطلاع کے مطابق ۳؍ زخمی پولیس اہلکار پرساد گاٹیکواڑ  (۲۸) ، دانش تمبولی (۳۲)اور گیانیشور پاٹل(۳۰) جلگاؤں ضلع سول اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

افواہوں پریقین نہ کرنے کی اپیل

بیان کے کن گاؤں میں فی الحال جائے وقوع پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور پولیس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس واقعہ کے پیش نظر پولیس نے شہریوں کو چوکس رہنے کی اپیل کی  ہے تاکہ علاقے میں افواہوں کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ضلع ایس پی شری کانت دھیوارے نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر تصدیق شدہ اطلاعات پر یقین نہ کرنے اور امن و امان برقرار رکھنے میں پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK